سوڈان بیرونی عناصر کا اکھاڑا بننے کے قریب

117
خرطوم: سوڈانی شہری اقتدار پر قابض فوجی کونسل پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے دفاعی ہیڈکوارٹر کے باہر احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں
خرطوم: سوڈانی شہری اقتدار پر قابض فوجی کونسل پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے دفاعی ہیڈکوارٹر کے باہر احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں

خرطوم (انٹرنیشنل ڈیسک) سوڈان میں جاری سیاسی بحران کے دوران خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عوام میں موجود بے چینی کی لہر، اقتدار پر قابض فوجی کونسل اور احتجاجی تنظیموں کے نمایندوں میں بڑھتے اختلافات کے باعث افریقی ملک بیرونی عناصر کا ایک نیا اکھاڑا بن سکتا ہے۔ عالمی تنازعات پر نظر رکھنے والے ماہرین جزوی طور پر سوڈان کے اندرونی حالات کا شام سے موزانہ کررہے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سوڈان کا شام کے ساتھ موازنہ کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ سوڈان بھی شام کی طرح دھڑوں اور فرقوں کے جھگڑوں میں پھنس جائے گا لیکن مشرق وسطیٰ میں عوامی بیداری کی پہلی مہم میں نظر آنے والی بعض نشانیاں سوڈان میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ سوڈان میں سعودی عرب اور اس کے اتحادی عرب ممالک کا اثر بڑھ رہا ہے جو خطے میں قطر اور ترکی کے بڑھتے ہوئے اثر رسوخ کے خلاف ہیں، تاہم اس جھگڑے میں امریکا کی غیر موجودگی واضح ہے۔ اسی طرح روس بھی سوڈان کے میدان سے غیر حاضر ہے جبکہ سعودی عرب کو سوڈان میں ابھی تک سفارتی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے سوڈان کے لیے فوری طور پر خوراک، دواؤں اور سستے پیٹرول کے علاوہ مالی امداد کی بھی پیشکش کی ہے۔ متحدہ عرب امارت نے سوڈان کے مستقبل کے سیاسی ڈھانچے پر بات چیت کے لیے مختلف دھڑوں کی ملاقات کا بھی اہتمام کیا ہے۔ تاہم یہ واضح ہے کہ بیرونی عناصر کو سوڈان میں احتجاج کرنے والوں سے کوئی دلچسپی نہیں اور نہ ہی انہیں ایک جمہوری سوڈان سے کوئی دلچسپی ہے بلکہ سوڈان میں استحکام سے دلچسپی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سوڈان نے حالیہ برسوں میں اپنے اتحادیوں میں تبدیلی کی ہے۔ ایک عشرہ قبل تک امریکا سوڈان کو دہشت گردی برآمد کرنے والا ملک سمجھتا تھا اور اس پر پابندیاں بھی عائد تھیں۔واضح رہے کہ سوڈان کے فوجی سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ یمن کی جنگ میں بھی شریک ہیں۔