آسٹریا: خاتون رکن کا حجاب میں خطاب‘ پارلیمان کا فیصلہ مسترد

171
ویانا: آسٹریا کی رکن پارلیمان مارتھا بسمین حجاب پہن کر مسلمانوں کے حق میں خطاب کررہی ہیں
ویانا: آسٹریا کی رکن پارلیمان مارتھا بسمین حجاب پہن کر مسلمانوں کے حق میں خطاب کررہی ہیں

ویانا (انٹرنیشنل ڈیسک) آسٹریا کی پارلیمنٹ میں پرائمری اسکولوں میں حجاب پر پابندی سے متعلق متنازع قانون کی منظوری کے بعد خاتون رکن مارتھا بسمین نے اپنے حالیہ خطاب میں نئے قانون کو مسترد کر دیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق خاتون رکن نے پارلیمنٹ میں حجاب پہن کر خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے تمام ارکان سے سوال کیا کہ کیا اس طرح (حجاب پہن لینے سے) کچھ بدل گیا، کیا میں اب آسٹریا میں پیدا ہونے والی رکن پارلیمنٹ مارتھا بسمین نہیں رہی؟۔ مارتھا نے اپنے خطاب کا آغاز مسلمانوں کو ماہ رمضان کی مبارک باد دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے باور کرایا کہ یہ نفرت انگیز مہموں کا نتیجہ ہے کہ مسلمان خواتین کو صرف حجاب پہننے کی وجہ سے سڑکوں پر تنگ کیا جاتا ہے۔ مارتھا کے مطابق حجاب صرف مسلمان خواتین کی زندگی کا ایک حصہ ہے جو ان کی ثقافت اور تشخص کو ظاہر کرتا ہے مگر اب اس کو مسلمان مخالف پالیسی کی علامت بنا کر پیش کیا گیا ہے۔خاتون رکن پارلیمان کا کہنا تھا کہ ہم مسلمانوں سے رواداری اور یک جہتی کی اقدار سیکھ سکتے ہیں۔ حجاب معاشرے میں مسائل پیدا نہیں کرتا ہے، تاہم بعض جماعتیں میڈیا پروپیگنڈا چاہتی ہیں تاکہ حجاب کے معاملے کو بنیاد بنا کر چند رائے دہندگان کے ووٹ حاصل کر لیں۔ یہ ایسا معاملہ ہے جس کو مکمل طور پر مسترد کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب آسٹریا میں مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم نے کہا ہے کہ وہ عدالت سے مطالبہ کرے گی کہ پرائمری اسکولوں میں حجاب پر پابندی کا فیصلہ منسوخ کیا جائے۔