ٹرمپ کا ٹیکس ریکارڈ کانگریس کو نہ دینے پر معاملہ عدالت کی جانب

76

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی وزیرِ خزانہ اسٹیون منوچن کی جانب سے کانگریس کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 6 سالہ ٹیکس گوشوارے نہ دینے پر معاملہ عدالت کی جانب چلا گیا۔ کانگریس کے ایوانِ نمایندگان کی ویز اینڈ مینز کمیٹی کے ڈیموکریٹ سربراہ رچرڈ نیل نے وزارتِ خزانہ کو حکم دیا تھا کہ وہ جمعہ کی شام 5بجے تک صدر ٹرمپ اور ان کے کاروباری اداروں کے ٹیکس گوشوارے کمیٹی کے حوالے کرے۔ تاہم اسٹیو منوچن نے کمیٹی کے سربراہ کے نام اپنے خط میں کہا کہ ان کا محکمہ مطلوبہ معلومات دینے سے قاصر ہے۔ ڈیڈلائن گزرنے سے قبل رچرڈ نیل نے کہا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ صدر ٹرمپ کے ٹیکس ریکارڈ کے حصول کے لیے انہیں عدالت ہی کا رخ کرنا پڑے گا اور وہ کوشش کریں گے کہ اس معاملے میں آیندہ ہفتے تک عدالت سے رجوع کرلیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق اسٹیو منوچن کا موقف تھاکہ کمیٹی کے پاس کسی شخص کے ذاتی ٹیکس گوشوارے طلب کرنے کا قانونی جواز نہیں، کیوں کہ ایسی کوئی دستاویز قانون سازی کے لیے استعمال نہیں ہوتی۔ کمیٹی کے سربراہ نے 10 مئی کو ریکارڈ طلب کرنے کا قانونی حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکامیں ٹیکسوں کا منتظم ادارہ ’’انٹرنل ریونیو سروس‘‘ ان کی کمیٹی کی جانب سے مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کا قانونی طور پر پابند ہے اور ماضی میں کبھی کمیٹی کی کوئی درخواست مسترد نہیں کی گئی۔