جمہوریت کا پروپیگنڈا اور آمریت کا ڈنڈا

259

 

 

اقبال نے جمہوریت کے بارے میں کہا:
تو نے کیا دیکھا نہیں یورپ کا جمہوری نظام
چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر
ایک اور مقام پر اقبال نے کہا ہے
دیواستبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تو سمجھتا ہے کہ آزادی کی ہے نیلم پری
اقبال کہہ رہے ہیں کہ جمہوریت کا چہرہ ضرور روشن ہے مگر اس کا باطن چنگیز سے تاریک تر ہے۔ چنگیز آمریت، استبداد اور درندگی کی علامت ہے اس کے معنی یہ ہوئے کہ اقبال کو مغرب کی جمہوریت میں بھی یہی عیوب نظر آئے۔ دوسرے شعر میں اقبال نے صاف کہہ دیا ہے کہ استبداد کا دیو جمہوری قبا پہن کر آگیا ہے۔ چناں چہ جمہوریت میں آزادی کا وجود محض ایک واہمہ ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ مغربی جمہوریت کے بارے میں اقبال کی رائے ایک ’’out sider‘‘ کی رائے ہے۔ مگر امریکا کے ممتاز دانش ور نوم چومسکی مغربی تہذیب کے لیے ’’اندر کے آدمی‘‘ ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں انہوں نے اس حوالے سے کیا کہا ہے۔ چومسکی کا مشہور فقرہ ہے۔
“Propaganda is to a democracy what the bludgeon is to a totalitarian state”
(Media Control:The Spectacular Achievement of Propaganda)
نوم چومسکی کے اس فقرے کا بامحاورہ اردو ترجمہ کچھ اسی طرح ہوگا۔
’’جمہوریت کے لیے پروپیگنڈے کی وہی حیثیت ہے جو ایک آمرانہ ریاست کے لیے ڈنڈے کی ہے‘‘۔
یعنی جمہوریت کا پروپیگنڈا اور آمریت کا ڈنڈا ایک ہی چیز کے دو مختلف نام ہیں۔
مغربی دنیا کی تاریخ ایک اعتبار سے پروپیگنڈے کی تاریخ ہے۔ 1095 میں پوپ اربن دوم نے کہا معاذ اللہ اسلام ایک شیطانی مذہب ہے اور میرے قلب پر یہ بات اتعاکی گئی ہے کہ عیسائی آگے بڑھیں اور شیطانی مذہب اور اس کے پیروکاروں کو صفحہ ہستی سے مٹادیں۔ اس بنیاد پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یورپ میں اتنا پروپیگنڈا ہوا کہ 1095میں یورپ ایک صلیبی جھنڈے کے نیچے جمع ہوا اور ان صلیبی جنگوں آغاز ہوا جو دو سو سال جاری رہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو صلیبی جنگیں ’’فطری جنگیں‘‘ نہیں تھیں بلکہ یہ ’’ساختہ جنگیں‘‘ یعنی ’’Manufactured wars‘‘ تھیں اور ان جنگوں کو پروپیگنڈے کے کارخانے میں تخلیق کیا گیا تھا۔
نوآبادیاتی دور کے حوالے سے مغربی اقوام نے white man’s burden کا تصور تخلیق کیا۔ اس تصور کا مفہوم یہ تھا کہ دنیا میں صرف سفید فام اقوام مہذب ہیں باقی تمام اقوام تہذیب سے عاری ہیں۔ چناں چہ سفید فام لوگوں کو اپنے کاندھوں پر پوری دنیا کو مہذب بنانے کا بوجھ اٹھانا ہوگا۔ اس سلسلے میں نوبل انعام یافتہ ادیب رڈیارڈ کپلنگ نے صرف یہی نہیں کہا کہ مشرق، مشرق ہے اور مغرب، مغرب ہے اور دونوں کا ملنا ناممکن ہے بلکہ اس نے یہ بھی کہا کہ مشرق آدھا شیطان ہے اور آدھا بچہ ہے۔ تہذیب کی آڑ میں اتنا پروپیگنڈا ہوا کہ مغربی اقوام پورے مشرق پر چڑھ دوڑیں۔ انہوں نے مسلمانوں کے سوا تمام مشرقی اقوام سے ان کے مذاہب چھین لیے، ان کی تہذیب چھین لی، ان کا تاریخی تجربہ اور تاریخی شعور چھین لیا۔ سیاسی اور سماجی ادارے چھین لیے۔ ان کی زبانیں چھین لیں۔ برصغیر میں سرسید اور دیگر مسلم ممالک میں جدیدیت زدگان کا ’’منصوبہ‘‘ کامیاب ہوجاتا تو مسلمان بھی ان تمام چیزوں سے محروم ہوچکے ہوتے۔
مغرب نے سوشلزم اور دنیا کی سب سے اہم سوشلسٹ ریاست سوویت یونین کے خلاف بھی غیر معمولی پروپیگنڈا کیا۔ مغرب کے پروپیگنڈے کا لب لباب یہ تھا کہ سوویت یونین انسانوں کے لیے جہنم سے بدتر ہے۔ سوشلسٹ ریاست کا جبر ایک ہولناک چیز تھا مگر سوویت یونین انسانوں کی اکثریت کے لیے جہنم بہرحال نہیں تھا۔ سوویت یونین میں سو فی صد آبادی تعلیم یافتہ تھی، سو فی صد لوگوں کے لیے تعلیم مفت تھی، پوری قوم کو علاج معالجے کی مفت سہولتیں حاصل تھیں، سوویت یونین میں ہر فرد اوسطاً روزانہ دو اخبار پڑھتا تھا، اس کے سب سے بڑے اخبار پراودا کی سرکولیشن ڈھائی کروڑ اور دوسرے بڑے اخبار ایزولیتا کی سرکولیشن ڈھائی کروڑ تھی۔ سوویت یونین میں کوئی بے گھر اور بیروزگار نہ تھا۔ سوویت یونین میں اخبار اور کتابیں تقریباً مفت تھیں۔ سوویت یونین میں کتب بینی کا شوق عام تھا۔ جس ریاست میں انسانوں کو اتنی سہولتیں حاصل ہوں اسے کم از کم جہنم نہیں کہا جا سکتا مگر سوشلزم اور سوویت یونین نے خلاف مغرب کا پروپیگنڈا اتنا زبردست تھا کہ سوویت یونین کی کوئی خوبی دنیا میں کہیں بھی زیر بحث نہ آسکی۔ بلاشبہ سوویت یونین میں اظہار کی آزادی نہیں تھی مگر امریکا میں کون سی آزادی اظہار پائی جاتی ہے؟ ایزرا پائونڈ امریکا کا شاعر اعظم تھا۔ اس نے اٹلی جا کر مسولینی کی تعریف کردی، چناں چہ امریکی سی آئی اے اس کے تعاقب میں نکل کھڑی ہوئی۔ پائونڈ کی زندگی دائو پر لگتے دیکھی تو اس کے شاگردوں نے اسے ماہرین نفسیات سے پاگل قرار دلوا کر نفسیاتی اسپتال میں داخل کرادیا۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ کوئی صحیح الدماغ امریکی تو امریکا پر تنقید نہیں کرسکتا صرف پاگل شخص ہی امریکا کو ہدف تنقید بنا سکتا ہے۔ سوسن سون ٹیک امریکا کے بڑے دانش وروں میں سے ایک تھیں۔ انہوں نے برطانیہ کے ایک اخبار میں یہ لکھ دیا کہ امریکا کی بنیاد نسل کشی پر رکھی ہوئی ہے۔ امریکا میں ان کے خلاف ہر طرف سے غدار ہے، غدار ہے کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ حالاں کہ سوسن سون ٹیگ نے ایک ناقابل تردید تاریخی حقیقت بیان کی تھی۔ نوم چومسکی اس وقت مغرب کے تین بڑے دانش وروں میں سے ایک ہیں۔ لیکن چوں کہ وہ امریکا اور مغرب کے ناقد ہیں اس لیے انہیں نہ کوئی بڑا ٹی وی چینل گفتگو کے لیے بلاتا ہے نہ ان کا مضمون کسی بڑے اخبار میں شائع ہوتا ہے۔ حالاں کہ چومسکی 100 سے زیادہ کتابوں کے مصنف ہیں۔ ایڈورڈ سعید امریکا کے ایک اور ممتاز دانش ور تھے مگر چوں کہ وہ امریکا اور اسرائیل کے ناقد اور فلسطینیوں کے حامی تھے اس لیے انہیں بھی کبھی امریکی ذرائع ابلاغ نے گھاس نہ ڈالی۔ یہ ہے آزادی اظہار کے علمبردار مغرب کی آزادی اظہار۔
یہ تو کل ہی کی بات ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی مغربی ممالک نے ایک بہت ہی بڑا جھوٹ Manufacture کیا۔ انہوں نے کہا کہ عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں۔ مغرب نے یہ کہا اور عراق پر چڑھ دوڑا اور پانچ سال میں چھ لاکھ عراقی مار ڈالے، مگر معلوم ہوا کہ عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار نہیں تھے۔ مگر چوں کہ ہتھیاروں کی عدم موجودگی کا یہ پروپیگنڈا نہ ہوسکا اس لیے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو دنیا میں کسی نے بھی شیطان، دہشت گرد اور جنگ پرست نہ کہا۔
بلاشبہ آمریت میں انسانوں کو ڈنڈے سے جانوروں کی طرح ہانکا جاتا ہے مگر جمہوری معاشروں میں یہی کام پروپیگنڈے کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ مغرب کہتا ہے کہ ریاست کا فرد کی مذہبی زندگی سے کوئی تعلق ہی نہیں مگر مغرب نے دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اتنا پروپیگنڈا کیا کہ اب مغرب میں خواتین کے پردے پر پابندی عاید کی جارہی ہے۔ اسکولوں میں مسلمان بچوں پر ہم جنس پرستی کی تعلیم ٹھونسی جارہی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ مغربی تہذیب ’’Bikni‘‘ کی تہذیب ہے اور اسلامی تہذیب ’’برقعے‘‘ کی تہذیب ہے۔ چناں چہ مسلمانوں کو مغرب میں رہنا ہے تو انہیں Bikni کی تہذیب اختیار کرنا ہوگی۔ مغرب کبھی پروپیگنڈے کے ذریعے اسلام کو انتہا پسندی سے منسلک کرتا ہے، کبھی اسے بنیاد پرستی سے وابستہ کرتا ہے، کبھی اسلام کو دہشت گردی سے جوڑتا ہے۔ یہ سب کچھ ’’پروپیگنڈے‘‘ میں ہے ورنہ ان باتوں کا ’’حقیقت‘‘ سے کوئی تعلق نہیں۔
آپ نے کبھی غور نہیں کیا ورنہ اشتہار کاری یا Advertizing کا پورا فن پروپیگنڈے پر کھڑا ہوا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں وہ اپنی ’’آزادی‘‘ سے ’’چیزیں‘‘ پسند کرتے اور خریدتے ہیں۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ ٹی وی کے اشتہارات انہیں بتاتے ہیں کہ انہیں کیا چیز درکار ہے اور انہیں کون سی شے خریدنی چاہیے۔ بہت سی چیزیں انسانوں کی ضرورت نہیں ہوتیں مگر اشتہارات ضرورت ’’تخلیق‘‘ یا Manufacture کرتے ہیں۔ اشتہارات صارفین کو بتاتے ہیں کہ فلاں چیز کے بغیر ان کی زندگی ادھوری ہے۔ فلاں چیز کے بغیر آپ کبھی عہد حاضر سے ہم آہنگ ہی نہیں ہوسکتے۔ یعنی ’’جدید‘‘ نہیں بن سکتے۔ اشتہارات خواہش کو ضرورت اور ضرورت کو زندگی باور کراتے ہیں۔ فلمیں، ڈرامے اور اشتہارات معاشرے کو ’’ہیروز‘‘ بنا کر دے رہے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی طاقت اتنی بڑھ گئی ہے کہ اگر آپ کے ملک کے 50 چینلز دن کے بارہ بجے یہ پروپیگنڈا شروع کردیں کہ اس وقت رات ہو رہی ہے تو چند لمحوں کے لیے کروڑوں لوگوں کو اپنی آنکھوں اور اپنے فہم پر شبہ ہوجائے گا۔
گزشتہ انتخابات میں آپ نے دیکھا کہ ٹی وی پر سب سے زیادہ اشتہارات عمران خان اور پی ٹی آئی کے چلے، دوسرے نمبر پر نواز لیگ تھی۔ اب ٹی وی پر صورت یہ بنی کہ ’’Choices‘‘ صرف دو ہیں۔ عمران خان اور نواز شریف۔ چوں کہ نواز شریف بدعنوان ہیں اور عمران خان تبدیلی کی علامت ہیں اس لیے ہمارا انتخاب عمران خان کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا۔ یہ ہے پروپیگنڈے کو ڈنڈے کے طور پر استعمال کرنے کی ایک سیاسی مثال۔ مگر سوال یہ ہے کہ جمہوریت پروپیگنڈے کو ڈنڈے کے طور پر کیوں استعمال کرتی ہے؟۔ اس سوال کا ایک جواب یہ ہے کہ جمہوریت کا تصور انسان یا تصور عوام ناقص ہے۔ جیسا کہ اقبال نے کہا ہے کہ وہ بندوں کو گنتی ہے تولتی نہیں۔ چناں چہ اسے یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ کہیں عوام کسی ایسی چیز کو پسند نہ کرلیں جو جمہوریت ہی کو رد کردے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جمہوریت کہنے ہی کو عوامی نظام ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت بالادست طبقات کی باندی ہے۔ اسی لیے مغرب تک میں اسے مالداروں کی جمہوریت یا ’’Corporate Democracy‘‘ کہا جانے لگا ہے۔ وطن عزیز میں جمہوریت ’’جرنیلوں کی جمہوریت‘‘ ہے۔ ’’سرمایہ داروں کی جمہوریت‘‘ ہے۔ ’’وڈیروں کی جمہوریت‘‘ ہے۔ ’’Electables کی جمہوریت‘‘ ہے۔ ایم کیو ایم جیسی ’’سیاسی مافیا‘‘ کی جمہوریت ہے۔ چناں چہ بالادست طبقات اپنے اپنے مفادات کے مطابق پروپیگنڈے کے ذریعے عوام کی رائے اور پسند و ناپسند کو ’’Manufacture‘‘ کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ پروپیگنڈے کو رائے سازی سمجھتے ہیں مگر رائے سازی اور پروپیگنڈے میں وہی فرق ہے جو ’’مکالمے‘‘ اور ’’مناظرے‘‘ میں ہوتا ہے۔ مکالمہ کرنے والا بات کی تفہیم چاہتا ہے اور مناظرہ کرنے والا کسی کو شکست دے کر خود فتح یاب ہونا چاہتا ہے۔ رائے سازی آزادانہ عمل ہے لیکن پروپیگنڈا آغاز سے انجام تک ایک پابند عمل ہوتا ہے۔ رائے ساز کی رائے غلط ہوتی ہے مگر نیت ٹھیک ہوتی ہے۔ پروپیگنڈا کرنے والے کی رائے اور نیت دونوں خراب ہوتی ہیں۔ چیک ادیب میلان کنڈیرا نے کہا ہے کہ آمریت کے خلاف انسان کی جدوجہد بھول کے خلاف یاد کی جدوجہد ہے۔ چناں چہ مغرب اور اس کی نام نہاد جمہوریت کے خلاف جدوجہد بھی بھول کے خلاف یاد کی جدوجہد ہے۔ اس لیے کہ مغرب کی جمہوریت بھی اصل میں آمریت ہی کی ایک قسم ہے۔ بلکہ ہمیں یہ کہنے میں باک نہیں کہ آمریت کے خلاف جدوجہد آسان ہے، اس لیے کہ آمریت کے ڈنڈے کو تو سبھی ڈنڈا سمجھتے ہیں مگر جمہوریت کے پروپیگنڈے کو کوئی ڈنڈا نہیں کہتا۔