رمضان المبارک تیرہواں سبق (انفاق فی سبیل اللہ)

161

 

عتیق الرحمن خلیل

’’ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک دانا بویا جائے اور اس کے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سو دانے ہوں، اسی طرح اللہ جس کے عمل کو چاہتا ہے، افزونی عطا فرماتا ہے۔ وہ فراخ دست بھی ہے اور علیم بھی‘‘۔ (بقرہ: 261)
اس آیت میں اہل ِ ایمان کو یہ دعوت دی گئی ہے کہ جس مقصدِ عظیم پر تم ایمان لائے ہو، اس کی خاطر جان و مال کی قربانیاں برداشت کرو۔ مگر کوئی گروہ جب تک کہ اْس کا معاشی نقطہء نظر بالکل ہی تبدیل نہ ہو جائے، اس بات پر آمادہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنی ذاتی یا قومی اغراض سے بالاتر ہو کر محض ایک اعلیٰ درجے کے اخلاقی مقصد کی خاطر اپنا مال بے دریغ صَرف کرنے لگے۔ مال کا خرچ خواہ اپنی ضروریات کی تکمیل میں ہو، یا اپنے بال بچوں کا پیٹ پالنے میں، یا اپنے اعزّہ و اقربا کی خبر گیری میں، یامحتاجوں کی اعانت میں، یا رفاہِ عام کے کاموں میں، یا اشاعتِ دین اور جہاد کے مقاصد میں، بہرحال اگر وہ قانونِ الٰہی کے مطابق ہو اور خالص خدا کی رضا کے لیے ہو تو اس کا شمار اللہ ہی کی راہ میں ہو گا۔ یعنی جس قدر خلوص اور جتنے گہرے جذبے کے ساتھ انسان اللہ کی راہ میں مال خرچ کرے گا، اتنا ہی اللہ کی طرف سے اس کا اجر زیادہ ہوگا۔ جو خدا ایک دانے میں اتنی برکت دیتا ہے کہ اس سے سات سو دانے اْگ سکتے ہیں، اس کے لیے کچھ مشکل نہیں کہ تمہاری خیرات کو بھی اسی طرح نشوونما بخشے اور ایک روپے کے خرچ کو اتنی ترقی دے کہ اس کا اجر سات سو گنا ہو کر تمہاری طرف پلٹے۔ اس حقیقت کو بیان کرنے کے بعد اللہ کی دو صفات ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ فراخ دست ہے، اس کا ہاتھ تنگ نہیں ہے کہ تمہارا عمل فی الواقع جتنی ترقی اور جتنے اجر کا مستحق ہو، وہ نہ دے سکے۔ دوسرے یہ کہ وہ علیم ہے، بے خبر نہیں ہے کہ جو کچھ تم خرچ کرتے ہو اور جس جذبے سے کرتے ہو، اس سے وہ ناواقف رہ جائے اور تمہارا اجر مارا جائے۔
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا۔ ایک آدمی جنگل میں جارہا تھا اس نے بادل سے ایک آواز سنی جیسے کوئی کہہ رہا ہو کہ جاکر فلاں شخص کے باغ کو سیراب کردو۔ وہ بادل ایک طرف چلا پھر ایک پتھریلی زمین پر جاکر برسا۔ ایک نالی میں سب پانی جمع کیا وہ آدمی اس پانی کے پیچھے پیچھے ہولیا۔ آگے جاکر اس نے دیکھا کہ ایک آدمی اپنے باغ کو سیراب کرنے کے لیے بیلچے سے نالی کو درست کررہا ہے۔ اس کے درست کرنے کے ساتھ ہی بارش کا پانی وہاں پہنچ گیا۔ یہ شخص اللہ کی قدرت پر بہت حیران ہوا اور باغ والے سے پوچھنے لگا کہ اے اللہ کے بندے! تمہارا نام کیا ہے۔ اس نے وہی نام بتایا جو اس نے بادل سے سنا تھا۔ اب اس باغ والے نے اس شخص سے پوچھا۔ اے اللہ کے بندے تم میرا نام کیوں پوچھ رہے ہو۔ اس نے جواب دیا کہ میں نے اس بادل سے جس کے پانی سے تو اپنا باغ سیراب کررہا ہے یہ آواز سنی تھی کہ فلاں شخص کے باغ کو سیراب کردے۔ اس نے تیرا ہی نام لیا تھا۔ اب تم یہ بتائو کہ وہ کون سا عمل ہے جس کی وجہ سے اللہ تم پر اتنا مہربان ہے۔ باغ والا کہنے لگا۔ اب جبکہ تم نے یہ بات سن ہی لی تو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اس باغ سے جو پیداوار ہوتی ہے اس کا ایک تہائی حصہ میں صدقہ کردیتا ہوں۔ ایک تہائی حصہ میں اور میرے اہل و عیال کھاتے ہیں اور ایک تہائی حصہ اس باغ پر خرچ کردیتا ہوں۔ (مسلم)
سیدہ اسماءؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: خرچ کرو اور گن گن کر نہ دو، ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن گن کر دے گا۔ اور ہاتھ مت روکو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تم پر سے اپنا ہاتھ روک لے گا۔ (بخاری، مسلم)اور جو مال تمہاری ضرورت سے زائد ہو اسے ضرورت مند سے نہ روکو ورنہ اللہ اپنی عطاء تم سے روک لے گا۔ تم سے جتنا ہوسکے اللہ کی راہ میں خرچ کرتی رہو۔
ایک روزہ ایک نیکی: انفاق فی سبیل اللہ، اللہ کی رضا کی خاطر اس کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنا مومنوں کی ایک امتیازی شان اور وصف ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں ’’وَمِمَّا رَزَقنَاہْم یْنفِقْونَ‘‘ کے الفاظ سے کیا گیا۔ مختلف انسانی معاشروں میں غریب محتاج اور مجبور کو ہمیشہ حقیر اور کم تر سمجھا جاتا تھا۔ جب اسلام کا سورج طلوع ہوا تو اللہ کے رسول اللہؐ نے مسلمانوں کو کہا کہ وہ اپنے مال کا ایک حصہ غریبوں پر خرچ کریں تاکہ جنت میں اعلیٰ مقام پاسکیں۔
سورہ معارج میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’کہ جن کے مال میں مانگنے اور نہ مانگنے والوں دونوں کا حصہ مقرر ہے۔ وہی لوگ جنت میں عزت و اکرام سے ہوں گے‘‘۔
قرآن کریم کی چھے آیات میں 12 مقامات پر قرض حسنہ کا ذکر آیا ہے۔ قرض حسنہ کی اس اصطلاح سے مراد اللہ کہ راہ میں خرچ کرنا ہے۔ ان تمام آیات میں محتاج کی ضرورت کو پورا کرنا اللہ کو قرض دینا قرار دیا گیا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ قرض سے بے نیاز ہے۔ اس سے انفاق فی سبیل اللہ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ انفاق فی سبیل اللہ کے لیے اصل اور مقصود تو یہ ہے کہ وہ پوشیدہ طور پر خرچ کیا جائے مگر کبھی لوگوں کو ترغیب دینے کے لیے اعلانیہ بھی خرچ کیا جاسکتا ہے۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ’’اور اللہ کی راہ میں پوشیدہ اور اعلانیہ خرچ کرتے ہیں‘‘۔ (الرعد: 22)
نیز رسول اللہؐ نے فرمایا: قیامت کے دن سات لوگ اللہ کے عرش کے سائے میں ہوں گے، ان میں ایک وہ شخص ہوگا جو اس طرح صدقہ کرے کہ اس کے بائیں ہاتھ کومعلوم نہ ہو کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔ (مسلم)