پاکستان اور جماعت اسلامی پاکستان (۱۹۴۷ء تا ۱۹۵۰ء) (باب ہفتم )

108

 

محمود عالم صدیقی

ایمان رکھنے والوں کی نعمتوں میں کمی آجاتی ہے تووہ ایک ایک لقمے کے لیے اپنے آپ کو ذلیل نہیں کرتے‘نہ اپنی تنگ حالی کا رونا روتے ہیں اور نہ اللہ تعالیٰ کے سامنے شکوہ وشکایت کے دفتر کھول دیتے ہیں۔جبکہ اس دوسری مخلوق کو ایسی صورت سے سابقہ پیش آتا ہے تو وہ اپنی خودداری کو بیچ دیتے ہیں۔اور ان کی حرکتوں سے ایسا معلوم ہونے لگتا ہے جیسے انہیں اللہ نے کبھی کوئی نعمت دی ہی نہیں تھی۔
میرے بھائیو اور بہنو!خدا پر ایمان رکھنے والوں کی طرح‘مصیبت زدہ ہونے کے باوجود آپ کا مقام یہ ہے کہ اپنی سیرت کو نہ گرنے دیں‘اپنے مالک‘خالق اور رازق کو نہ بھولیں اور بھروسا رکھیں کہ اگر اس نے پہلے نعمتوں سے نوازا تھا تو آئندہ بھی انعامات عطا فرماسکتا ہے۔
آزمائش کا دوسرا پہلو اہل پاکستان کو درپیش ہے۔ان پر اللہ کافضل ہوا کہ وہ ان آفات سے محفوظ رہے جن کا نشانہ مشرقی پنجاب میں ان کے بھائی اور ان کی بہنیں بنیں۔لیکن محفو ظ رہنے کی یہ حالت بجائے خود ایک بہت بڑی آزمائش ہے کہ آپ اس نعمت کا شکر کس طرح ادا کرتے ہیں؟اپنے مظلوم بھائیوں اور بہنوں کے کام آکر ‘ یا خودغرضیوں ‘پستیوں اور بدعنوانیوں کا مظاہرہ کرکے!
والٹن کیمپ میں جماعت اسلامی کی خدمات‘ رفقائے جماعت کو کندن بنا گئیں۔خدمت خلق اور رضائے الٰہی کے لیے اپنی ذات کو قربان کرنے اور اپنے آپ کو اللہ کی راہ میں کھپا دینے کا عظیم تجربہ تھا۔لیکن ہمیں اور ہمارے کام کو دسمبر کے آخری ہفتوںتک بمشکل برداشت کیاگیا۔رشوت خور سرکاری ملازمین نے مسلم لیگی حکومت کی زیر سرپرستی خیانت کار کارندوں اور ان کے سرپرست اعلیٰ حکام نے ہر بھلائی کا کام ناممکن بنا دیا۔جنوری ۱۹۴۸ء میں مہاجرین کی آمد بھی کم ہوگئی تھی۔اس لیے جماعت نے بھی دوسرے کاموں کی طرف توجہ دینے کا فیصلہ کیا‘‘۔
واہگہ کیمپ
والٹن کے بعد جماعت اسلامی کا سب سے بڑا دوسرا کیمپ با رڈر پر واہگہ میں قائم کیا گیا تھا‘جہاں ہزاروں بیمار‘زخمی‘ بھوکے‘ننگے اور مختلف خستہ حالیوں میں مبتلا مہاجرین پاکستان میں داخل ہوتے تھے۔اس کیمپ میں جناب شیح فقیر حسین صاحب‘بعد میں راجا احسان الحق صاحب‘چودھری محمد اشرف صاحب گوہدپور‘ سیالکوٹ اور دیگر بہت سے حضرات نے کام کیا۔یہاں پاکستان میں داخل ہونے والے حضرات کو لیموں کی نمکین ٹھنڈی سکنجبین پیش کی جاتی تھی۔کیوںکہ اکثر لوگ فاقوں‘بھوک‘ہیضہ اور معدہ کے دیگر امراض اور بعض لوگ بخار وغیرہ میں بھی مبتلا آتے تھے۔ یہاں بھی وزیراعظم نواب زادہ لیاقت علی خان آئے اور انہوں نے جماعت کا کیمپ دیکھا۔انہیں شیخ فقیر حسین صاحب نے تفصیلات بتائیں۔
جماعت اسلامی نے ۱۴؍ ستمبر ۱۹۴۷ء سے ہی پناہ گزین کیمپوں میں کام شروع کردیا تھا۔کیمپ کی خدمات کے علاوہ لاوارث بچوں اور لاوارث عورتوں کی کفالت وحفاظت کی ذمہ داری بھی کارکنان جماعت کے سپردکردی گئی تھی جو بہت ہی اہم ذمہ داری تھی۔الحمدللہ‘ اس بارے میں بھی جماعت کے کسی کارکن کے متعلق کسی ادنیٰ شکایت کا موقع پیدا نہیں ہوا۔جماعت کے کارکنوں کی محنت اور اخلاص کی یہ ساکھ تھی کہ ۱۵؍ دسمبر ۱۹۴۷ء کو ایک نئے سرکاری کیمپ کمانڈر کی بدمعاملگی اور بددیانتی سے تنگ آکر مولانا مودودیؒ کی ہدایت پر والٹن کیمپ میں کام بند کردیا گیا تو واہگہ کیمپ ‘شاہدرہ کیمپ اور دوسرے کیمپوں کے افسران کی درخواست پر والٹن کیمپ سے فارغ ہونے والے کارکنان کو ان کیمپوں میں بھیج دیا گیا۔
یہ خدمات جماعت اسلامی کی للہیت ‘انسان دوستی اور خداترسی کا وہ لازوال کارنامہ ہیں‘ جن کا اجر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں دے سکتا۔اللہ تعالیٰ ان خدمات میں حصہ لینے والے سب حضرات کو اجر عظیم عطا فرمائے۔
اسلامی جمعیت طلبہ کا قیام
۲۳؍دسمبر ۱۹۴۷ء کو لاہور کی پھول بلڈنگ‘ گوال منڈی میں نوجوانوں اورطلبہ میں اسلامی اقدار کی نشونما اور ان کی زندگی میں اسلامی سوچ کارفرما کرنے اور اسلامی فکری سرمائے کو نئی نسل میں منتقل کرنے کے لیے ‘ اسلامی جمعیت طلبہ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ لادینی سوچ رکھنے والے سوشلسٹ‘ اباحیت پسنداورمغربی تہذیب کے کاسہ لیس کسی قیمت پر یہ نہیں چاہتے تھے کہ اسلامی سوچ پھلے پھولے اور پاکستان اسلام کا گہوارہ بنے۔(۸)یہ ایک انقلابی اقدام تھا‘ جس کی وجہ سے پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں اسکولوں‘کالجوں او ر جامعات میں اسلامی جمعیت طلبہ کی شاخیں قائم ہوگئیں۔
جمعیت کی تاسیس کا پس منظر
اسلامی جمعیت طلبہ کے پہلے ناظم اعلیٰ جناب ظفراللہ خان نے بتایا کہ ۱۹۴۵ء میں اسلامیہ کالج‘(ریلوے موڑ) لاہور میں داخلے کے بعد میں نے اسلامی ذہن رکھنے والے طلبہ کو تلاش کیا اور تحریک اسلامی کا لٹریچر ان کو پڑھوایا۔جب ۵۰ کے قریب ہم خیال طلبہ اکھٹے ہوگئے تو ’مجلس تعمیر افکار اسلامی‘ کے نام سے اسلام کادعوتی کام کرنے لگے۔
(جاری ہے)