اینگرو فوڈز زہر بیچ رہی ہے

270

گزشتہ دنوں سندھ فوڈ اتھارٹی نے دودھ اور دودھ کی مصنوعات بنانے والی اینگرو فوڈز کے دودھ جمع کرنے کے یونٹ پر چھاپا مار کر دودھ کی مقدار بڑھانے والے بھینسوں کو لگانے کے مضر صحت انجکشن اور دودھ گاڑھا کرنے والے کیمیکل برآمد کرلیے ۔ فوڈ اتھارٹی کے مطابق یہ انجکشن اور کیمیکل انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں اور جاں لیوا بھی ہوسکتے ہیں ۔ اینگرو کمپنی کے دودھ جمع کرنے والے اسی یونٹ سے چھاپے کے دوران 35 فیصد پانی ملا دودھ بھی برآمد ہوا ۔اینگرو فوڈز کی مصنوعات میں اولپرز ، اولپرز لائٹ ، اومور، ڈیری امنگ ، اولپرز لسی اور ترنگ شامل ہیں ۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ اینگرو فوڈز یا دودھ اور اسکی مصنوعات فروخت کرنے والی کسی کمپنی کے بارے میں اس طرح کے انکشافات ہوئے ہوں ۔ عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران میں بھی اس طرح کے انکشافات سامنے آئے تھے کہ ٹیٹرا پیک دودھ فروخت کرنے والی کمپنیوں میں دودھ کی خریداری کم اور فروخت زیادہ ہے ۔ جب دودھ کی خریداری کم ہورہی ہے اور فروخت زیادہ ، تو اس کا منطقی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ٹیٹرا پیک دودھ خالص نہیں ہے اور اس میں ملاوٹ کی جارہی ہے ۔ یہ ملاوٹ کس نوعیت کی ہے ، اس کا انکشاف سندھ فوڈ اتھارٹی کی جانب سے اینگرو فوڈز کے دودھ جمع کرنے کے یونٹ پر چھاپے کے دوران ہوا ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس انکشاف کے باوجود کہ دودھ میں مضر صحت کیمیکلز کی ملاوٹ کی جارہی ہے جو کینسر اور ہیپاٹائٹس سی جیسے امراض میں مبتلا کرنے کے ساتھ ساتھ جاں لیوا بھی ہیں ، سندھ فوڈز اتھارٹی نے صرف موقع پر موجود 8 ہزار لیٹر دودھ کو ضائع کرنے اور جرمانہ کرنے پر ہی اکتفا کیا ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سندھ فوڈ اتھارٹی فوری طور پر مارکیٹ سے اولپر فوڈز کی تمام مصنوعات کے مختلف بیچز کے کئی نمونے اکٹھے کرتی اور ان کا تجزیہ کسی معروف لیبارٹری سے کرواتی ۔ نتائج درست نہ نکلنے کی صورت میں مارکیٹ سے سارا اسٹاک اٹھا کر ضائع کیا جاتا اور یہ گھناؤنا جرم کرنے والے افراد پر قتل کے مقدمات چلا کر انہیں عبرتناک سزائیں دی جاتیں ۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا چین میں بچوں کے دودھ میں میلامائن اور یوریا ملانے کا کیس سامنے آیا تھا جس کے بعد ان دودھ کمپنیوں کے ذمہ داروں کو موت کی سزا دی گئی تھی ۔ سندھ فوڈ اتھارٹی کو چاہیے کہ وقتا فوقتا دودھ کے تمام برانڈز کے نمونے لے کر لیبارٹری سے تجزیہ کرواتی رہے ۔ اس کے علاوہ ان دودھ کمپنیوں کے لیے مانیٹرنگ کا کوئی ایسا نظام بھی وضع کرنا چاہیے جس سے دیکھا جاسکے کہ کتنے دودھ کی خریداری کی گئی اور کتنا دودھ فروخت کے لیے مارکیٹ میں پیش کیا گیا ۔ سندھ فوڈ اتھارٹی کی جانب سے کیے جانے والے نیم دلانہ اقدام نے سندھ میں پیک اشیائے خور و نوش کے معیار کے بارے میں مزید کئی سوال اٹھا دیے ہیں ۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ دودھ فروخت کرنے والی کسی کمپنی کے بارے میں ایسے انکشافات ہوئے ہیں ۔ اینگرو فوڈز کے بارے میں ایک عام آدمی کو یہ بھی اطمینان تھا کہ اس کے اکثریتی حصص نیدرلینڈ کی کمپنی فریس لینڈ کیمپینا کے پاس ہیں اور وہ بین الاقوامی معیار کو یقینی بنائے گی ۔ فریس لینڈ کیمپینا نے جو کمپنی اینگرو فوڈز کے 51 فیصد حصص خریدنے کے لیے بنائی تھی اس میں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن اور ڈچ ڈیولپمنٹ بینک ایف ایم او بھی حصہ دار ہیں ۔ اس طرح اینگرو فوڈز کی جانب سے مضر صحت کیمیکل استعمال کرکے پاکستانیوں کو ہیپاٹائٹس سی اور کینسر جیسے مضر صحت امراض میں مبتلا کرنے کی سازش میں فریس لینڈ کیمپینا ، آئی ایف سی اور ایف ایم او بھی حصہ دار ہیں ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اتنا بڑا اسکینڈل سامنے آنے پر حکومت سندھ فوری طور پر ایکشن میں آجاتی ۔نہ صرف کمپنی کے مقامی مالکان بلکہ اس کے غیر ملکی مالکان کے خلاف بھی عدالت میں کیس چلنا چاہیے تھا اور ان پر فوجداری مقدمات کے ساتھ ساتھ بھاری جرمانہ بھی عاید کرنا چاہیے تھا ، مگر سندھ فوڈ اتھارٹی نے صرف معمولی جرمانے پر اکتفا کیا ۔ حکومت سندھ کو چاہیے کہ اس ضمن میں سندھ فوڈاتھارٹی کے ذمہ داران سے بھی بازپرس کرے اور دیکھے کہ انہوں نے کیس کو منظقی انجام تک پہنچانے کے بجائے اسے دبا کیوں دیا ۔ کہیں ایسا تو نہیں کی سندھ فوڈ اتھارٹی کے ذمہ دار بھاری نذرانے کی پیشکش کو ٹھکرا نہ پائے ہوں اور انہوں نے مذکورہ بھاری نذرانہ وصول کرکے اتنا اہم کیس دفن کردیا ۔ پاکستان میں کینسر اور ذیابطیس کی بیماریاں وبا کی طرح پھیل رہی ہیں ۔ کئی گوشوں سے یہ شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ پاکستان میں ان بیماریوں کا پھیلاؤ قدرتی نہیں ہے اور ان کے پھیلاؤ میں پاکستان میں استعمال کیے جانے والی پروسیسڈ فوڈ کا اہم کردار ہے ۔ اینگرو فوڈز کے دودھ میں ملاوٹ کے لیے استعمال کیے جانے والے کیمیکلز کی برآمدگی نے اس شبہ کو مزید تقویت دی ہے ۔ ہم سندھ حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ وہ نہ صرف دودھ کے تمام نمونوں بلکہ پیک کرکے فروخت کی جانے والی دیگر تمام غذائی اشیاء کابھی اس حوالے سے تجزیہ کروائے اور مضر صحت کیمیکل استعمال کرنے والے تمام ہی ذمہ داروں کو عبرتناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی کو پاکستانی قوم کی صحت کے ساتھ یوں کھلواڑ کرنے کی ہمت نہ ہو ۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کا اس ضمن میں امیج بہتر ہے اور عام لوگ اسے سراہتے بھی ہیں ۔ اس سلسلے میں پنجاب فوڈ اتھارٹی اور وفاقی حکومت کی بھی مدد لی جاسکتی ہے ۔