تیز رفتاری قاتل ہے

127

پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ کے نوجوان صاحبزادے اسامہ قمر لالہ موسیٰ میں اپنے گھر کے قریب ایک حادثے کا شکار ہو کر جاں بحق ہوگئے۔ ان کا ایک دوست بھی موقع پر دم توڑ گیا۔ حادثہ جانکاہ ہے لیکن یہ حادثہ تیز رفتاری کی وجہ سے پیش آیا اور گاڑی ایک درخت سے ٹکرا کر چور چور ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ قمر زماں کو صبر جمیل عطا کرے لیکن تیز رفتاری، خاص طور پر نوجوان نسل میں ایک ایسی چیز ہے جو خود موت کو دعوت دیتی اور والدین کو گہرا زخم لگاتی ہے۔ اگر ایسے نوجوان ذرا سی دیر کو یہ سوچ لیں کہ وہ اپنے والدین پر کیسا ظلم ڈھا رہے ہیں تو شاید سنبھل جائیں۔ یہ بات والدین کی طرف سے اپنی اولاد کو بار بار سمجھانے کی ہے جو تیز رفتاری سے لطف اندوز ہوتی ہے حالانکہ ٹریفک پولیس کی طرف سے یہ انتباہ بھی ہے کہ ایسی لطف اندوزی قاتل ہے، نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی بھی۔ نوجوان لڑکے جب اپنے دوستوں کے ساتھ ہوں تو اور بھی بے قابو ہو جاتے ہیں۔ بات صرف کار سواروں کی نہیں بلکہ موٹر سائیکل سوار ان سے بھی دو قدم آگے ہیں۔ کراچی میں خاص طور پر سڑکوں پر ان کے کرتب نظر آتے ہیں اور موٹر سائیکل تو ایسی سواری ہے کہ ذرا سی ٹھیس لگنے پر اپنے سوار کی جان لے لیتی ہے یا عمر بھر کے لیے معذوری کا داغ لگا دیتی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے ملک بھر میں ٹریفک حادثات کی تعداد تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے جس کی بنیادی وجہ تیز رفتاری اور لاپروائی ہے۔ قمر زماں کائرہ ایک بااثر سیاستدان ہیں۔ وہ اپنے ذاتی صدمے کو بنیاد بنا کر تیز رفتاری کے خلاف کوئی منظم مہم چلا سکتے ہیں۔ سڑکوں پر حادثوں کی ایک وجہ ٹریفک پولیس کی نالائقی بھی ہے جو بسوں، ویگنوں، ٹرالروں اور دیگر تیز رفتار گاڑیوں کو ایک حد میں رکھنے میں ناکام ہے۔ شاہراہوں پر بھاری گاڑیاں چلانے والے عموماً نشے میں بھی ہوتے ہیں لیکن ان کی گرفت نہیں کی جاتی۔ ان سب نقائص کا تدارک کرنا ہوگا ورنہ سڑکیں خون پیتی رہیں گی۔