واٹربورڈ کے منافع بخش عہدوں کیلئے بندر بانٹ پھر شروع

129

کراچی(اسٹاف رپورٹر)کراچی واٹر اینڈ سیو ریج بورڈ میں ایک مرتبہ پھر منافع بخش عہدوں کی بندر بانٹ شروع کردی گئی، نااہلی اور بدترین کارکردگی پرواٹر کمیشن کے حکم پرپی ڈی کے فور کے عہدے سے ہٹائے جانے والے سلیم احمد صدیقی کو ایم ڈی واٹر بورڈ نے چیف انجینئر آئی پی ڈی کا انتہائی منافع بخش عہدہ دے کر نواز دیا، سلیم احمد صدیقی پر کے فور میں سنگین بدعنوانیوں کے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں جبکہ بلڈرز اور زمینداروں کو مبینہ فائدہ پہنچانے کیلیے کے فور کے نقشے میں متعدد بار تبدیلی کے الزامات بھی ان پرعائد کیے گئے تھے،واٹر بورڈ میں چیف انجینئر آئی پی ڈی کے عہدے پر سلیم احمد صدیقی کی تعیناتی کو ادارے کے افسران ایم ڈی واٹر بورڈ اسداللہ خان سے ان کی پرانی دوستی اور مراسم قرار دے رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق کراچی کی لائف لائن قرار دیے جانے والے منصوبے کے فور میں ناقص کارکردگی،نااہلی اور مبینہ بدعنوانیوں کے الزامات پر عہدے سے ہٹائے جانے والے سلیم احمد صدیقی کو واٹر بورڈ میں چیف انجینئر آئی پی ڈی کے اہم اور منافع بخش عہدے سے نواز دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ واٹر کمیشن کے حکم پر سلیم احمد صدیقی کو کے فور پروجیکٹ سے ہٹا یا گیا تھا اور واٹر کمیشن کی جانب سے ان کی ناقص کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا تھا،ذرائع کا کہنا ہے کہ سلیم احمد صدیقی پر کے فور منصوبے کے نقشے میںمتعدد بار تبدیلی کا الزام بھی عائد کیا جاتا رہا ہے جس سے بعض بلڈرز اور زمینداروں کو فائدہ پہنچایا گیا تھا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ واٹر کمیشن کے حکم پر ہٹائے جانے والے افسران واٹر کمیشن کے خاتمے کے بعد ایک مرتبہ پھر منافع بخش عہدے حاصل کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں،چیف انجینئر پی ڈی کا عہدہ واٹر بورڈ میں انتہائی منافع بخش عہدہ قرار دیا جاتا ہے ۔ادارے کے افسران کا کہنا ہے کہ سلیم احمد صدیقی کی چیف انجینئر آئی پی ڈی کے اہم عہدے پر تعیناتی کے بعد واٹر بورڈ کے منصوبے بری طرح متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔