بڑی پائپ لائنوں سے پانی چوری واٹر بورڈ نے خاموشی اختیار کرلی

73

کراچی (اسٹا ف رپورٹر)ادارہ فراہمی و نکاسی آب کی مین بلک لائن سے لاکھوں روپے مالیت کا پانی چوری، رہائشی اور تجارتی صارفین کوکھلے عام پانی کی فروخت پر واٹر بورڈ بلک کے سپرنٹنڈنگ انجینئر اور واٹربورڈ کورنگی کے افسران نے مجرمانہ خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ کراچی کے ضلع کورنگی سیکٹر31 اے میں واٹربورڈ کورنگی کی نگرانی میں کورنگی کراسنگ گرے ریورسائیڈ سے گزرنے والی مین بلک لائن سے 6 انچ کے چوری کے کنکشن کے ذریعے لاکھوں روپے مالیت کا پانی چوری کرکے چھوٹی گاڑیوں اورغیرقانونی کنکشن کے ذریعے رہائشی اورتجارتی مقاصد کے لیے کھلے عام فروخت کیاجارہاہے۔ ذرائع کے مطابق مین بلک لائن سے لگائے گئے چوری کے کنکشن کے ذریعے مہران ٹائون ایکسٹینشن الواسع ٹائون کے علاقے میں واقع بعض گھروں میں چوری شدہ پانی کے ذخیرہ کے لیے زیرزمین ٹینک بھی قائم کیے گئے ہیں جہاں سے پانی گھریلو صارفین اورقرب و جوار میں واقع ہوٹلز اوربلاک کے تھلوں گھریلوانڈسٹریز کو فروخت کرکے واٹربورڈ کو لاکھوں روپے ماہانہ کا نقصان پہنچایا جارہا ہے۔کورنگی سیکٹر31 اے کے لیے مین لائن بلک سے چوری کے کنکشن کے ذریعے لاکھوں روپے مالیت کا پانی چوری کرنے والی لائن کا علم ہونے کے باوجود واٹربورڈ کے چیف انجینئر سمیت اعلیٰ افسران اور واٹربورڈ بلک کے افسران خاموش رہ کرادارے کوماہانہ لاکھوں روپے کادانستہ نقصان پہنچانے کے مرتکب ہورہے ہیں۔دوسری جانب مہران ٹائون ایکسٹینشن الواسع ٹائون سمیت قریبی علاقوں کے لوگ پانی کے شدید بحران سے دوچار ہیں۔ علاقہ مکینوں نے ایم ڈی واٹر بورڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ مین بلک سے لگائی جانے والی پانی کی 6 انچ کی غیرقانونی لائن کوفوری طورپر ریگولرائز کرکے واٹربورڈ کی تحویل میں لیا جائے اور علاقہ میں واقع گھروں کوپانی کے قانونی کنکشن فراہم کرکے واٹربورڈ کی آمدنی پرڈاکا ڈالنے والے پانی چوروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔