حکمرانوں کے اعمال مدینے کی ریاست کا مذاق اڑانے کے مترادف ہیں،سراج الحق

199
کراچی:امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق ضلع وسطی کے تحت دعوت افطار سے خطاب کررہے ہیں

کراچی (اسٹا ف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت بھی سابق حکومتوں کی طرح رشوت، کرپشن، بے روزگاری ختم کرنے میں ناکام ہوئی‘ اشیائے صرف کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا‘ گیس کی قیمتوں میں45 فیصد، دوائیوں کی قیمتوں میں200 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا‘ عام آدمی کہاں جائے‘ یہ مدینے کی ریاست کی بات کرتے ہیں لیکن حکمرانوں کے اعمال مدینے کی اسلامی ریاست کا مذاق اڑانے کے مترادف ہیں‘کیا مدینہ کی اسلامی ریاست یہ ہے جو یہ بنانا چاہتے ہیں‘ یہ کونسی تبدیلی لانا چاہتے ہیں‘ کراچی کے عوام بجلی، پانی، ٹرانسپورٹ کے سنگین مسائل کا شکار ہیں‘ بنیادی سہولتیں میسر نہیں‘ صفائی و ستھرائی کا کوئی انتظام نہیں‘ دنیا مریخ پر جا رہی ہے اور کراچی کے عوام بنیادی انسانی ضروریات تک سے محروم ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی ضلع وسطی کے تحت بالمقابل فاروق اعظم مسجد بلاک K نارتھ ناظم آباد میں ایک بڑی عوامی دعوت ِافطار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ دعوت ِافطار سے امیر ضلع وسطی منعم ظفر خان اور سیکرٹری ضلع انجم رفعت اللہ نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان راشد نسیم، امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن، نائب امیر مسلم پرویز، سیکرٹری کراچی عبدالوہاب، سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری، سید حفیظ اللہ و دیگر بھی موجود تھے۔ سینیٹر سراج الحق نے خطاب کرتے ہوئے مزیدکہا کہ ہم پر اللہ کا بڑاکرم ہے کہ ہم نبی کریمؐ کے امتی ہیں اور اس نے ہمیں رمضان المبارک عطا کیا ہے‘ رمضان المبارک کا پیغام یہی ہے کہ ایک ایسا نظام نافذ کیا جائے جس میں اللہ کی بندگی اختیار کرنا آسان ہو‘ برائی کرنا مشکل ہو‘ ہم لوگوں کو اسی بنیاد پر جمع کرتے ہیں‘ پاکستان پوری دنیا میں منفرد ملک ہے‘ یہ ملک اسلام کی بنیاد پر قائم کیا گیا‘ کسی مسلک، لسانیت یا قومیت کی بنیاد پرقائم نہیںہوا‘ آج ضروری ہے کہ ہم اس پاکستان کو وہ پاکستان بنائیں جس مقصد کے لیے ہم نے یہ ملک حاصل کیا گیا تھا‘ 70 سال سے اس ملک میں اللہ کا دین نافذ نہیں ہوا‘ اگر ملک میں اسلامی نظام نافذ ہوتا تو ملک دولخت نہ ہوتا‘مشرقی پاکستان بنگلا دیش نہ بنتا‘ملک پر37 سال جرنیل حکمران رہے‘ سول حکمرانوں نے بھی حکومت کی‘ دونوں نے نظریہ پاکستان سے بے وفائی کی ہے اور ملک کو اس کے قیام کے مقاصد سے دور رکھا ہے‘ عوام نے جرنیلوں کی حکومت دیکھی‘ پیپلز پارٹی، نواز لیگ کی حکومت کو دیکھا اور اب سب کا مجموعہ پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور اب ماضی کی طرح اقدامات ہو رہے ہیں‘ سودی قرضے لیے جا رہے ہیں اور غربت، مہنگائی، بے روزگاری کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں‘ یہ حکومت بھی سابق حکومتوں کی طرح ثابت ہوئی‘ رشوت، کرپشن، بے روزگاری ختم کرنے میں ناکام ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کا وعدہ کیا لیکن غریب لوگوں کو گھروں سے محروم کیا‘ موجودہ حکمرانوںکا کوئی وژن نہیں ہے‘ وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ ملک میں ایک ہزار سینما گھر ہونے چاہئیں لیکن ابھی صرف140 ہیں‘ یہ سمجھتے ہیں کہ سینما گھر بنا کر عوام کے مسائل حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے شروع سے یوٹرن لیے ہیں‘ اب عوام کی خاطر ایک یوٹرن اور لے لیں جس میں عوام کو مہنگائی سے نجات دلائیں‘ پیٹرول کی قیمتیں کم کردیں۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیے تھے‘ آج وہ خود پریشان ہیں‘ ہم سوال کرتے ہیں ان سے کہاں گئی ان کی تبدیلی اور عوام کو ریلیف دینے کے دعوے اور نعرے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ خانہ کعبہ کی تعمیر اور حاجیوں کی خدمت کرنے والے اقامت دین کا کام کرنے والے اور دین کو غالب کرنے والے ہر گز برابر نہیں ہوسکتے‘ یہ کام تمام انبیا کرام نے کیا ہے اور تمام انبیا کرام کو دنیا میں دین کو غالب کرنے کے لیے بھیجا گیا اور انسانوں کو توحید کی دعوت دی گئی اور ایک اللہ کی بندگی اختیار کرنے کی تلقین کی گئی‘ اقامت دین کی جدوجہد کا کام انفرادی بھی ہے اور اجتماعی بھی‘ جماعت اسلامی یہی جدوجہد کر رہی ہے‘ ہم معاشرے کی تطہیر اور انسانوں کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں اور دین کو نافذ کرنے کی بھی جدوجہد کر رہے ہیں‘ اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد ہمارا مرکز و محور ہے۔ منعم ظفر خان نے کہا کہ قرآن رمضان المبارک کے مہینے میں نازل ہوا‘ یہ خیر، رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے‘ اس ماہ مبارک میں غزوہ بدر ہوا اور اس ماہ مبارک میں ایک رات ایسی ہے جس میں ہزار مہینوں سے زیادہ کی عبادت کا ثواب رکھا گیا ہے‘ ہمیں اللہ تعالیٰ نے بھرپور موقع دیا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کریں اور جہنم کی آگ سے نجات حاصل کریں اور رمضان میں قرآن سے تعلق کو مضبوط و مستحکم بنائیں۔