قبائلی عوام کے مسائل ان کی مشاورت سے حل کرینگے،وزیراعظم

138
Imran Khan (file foto)

پشاور (اے پی پی،صباح نیوز) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قبائلی عوام کے مسائل ان کی مشاورت سے حل کریں گے۔نئے نظام میں قبائلی روایات اور مزاج کا خیال رکھا جائیگا اور جرگہ سسٹم کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں قبائلی عوام نے مشکلات کا سامنا کیا۔یقین دلاتا ہوں اب فاٹا کے عوام کو مشکلات کا سامنا نہیں ہوگا۔قبائلی عوام کے مسائل کے حل کے لیے کمیٹی قائم کردی گئی ہے جو مسلسل کام کریگی۔ہفتہ کو پشاور میں ضم شدہ قبائلی علاقوں کے عمائدین و مشران سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ماضی میں فاٹا کے لیے آواز اٹھانے والا کوئی نہیں تھا،ہماری کوشش ہے کہ قبائلی عوام کو مفت اور فوری انصاف ملے۔اب قبائلی عوام کے مشکل دن گزر گئے ہیں۔ فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے کا مشکل فیصلہ تھا۔نئے نظام کے تحت قومی اسمبلی میں پہلی بار قبائلی نشستوں میں اضافہ کیا گیا ہے اس کے علاوہ نئے نظام میں قبائلی روایات اور مزاج کا خیال رکھا جائیگا اور جرگہ سسٹم کو اس میں مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔وزیر اعظم نے کہا کہ نئے نظام میں صوبے سے فنڈز براہ راست گائوں جائیں گے جبکہ نیا بلدیاتی نظام بھی قبائلی رسم و رواج کے مطابق ہے۔انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام کے مسائل کے حل کے لیے مانیٹرنگ کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو مسلسل کام کریگی۔وزیر اعظم نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں عمائدین اور مشران کی کوششں سے امن قائم ہوا ہے ۔ان کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔علاوہ ازیںوزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ملک کو چلانے کے لیے اسی قوم سے پیسا اکٹھا کر کے دکھائوں گا۔ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔شوکت خانم پشاور کی فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ قوم شوکت خانم کو ہر سال پچھلے سال سے زیادہ پیسے دیتی ہے۔ ملک میں غریب سے غریب لوگ بھی خیرات میں پیسے دیتے ہیں۔تقریب کے دوران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ شوکت خانم میں 75 فیصد کینسر کے مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے۔ 90 فیصد پاکستانی کینسر کے مرض کا علاج نہیں کرا سکتے۔ 30 سال پہلے جب اس سفر پر نکلا تو سب نے کہا ہسپتال نہیں بن سکتا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں کے لیے ریفارمز لا رہے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں کیخلاف ایک مہم چل رہی ہے۔ پشاور میں چند ڈاکٹرز بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہسپتالوں کو ٹھیک کرنے کے لیے نئی مینجمنٹ سسٹم لانا چاہتے ہیں۔ یہ مینجمنٹ سسٹم بالکل شوکت خانم ہسپتال جیسا ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں کی پرائیوٹائزیشن نہیں کی جا رہی۔ جانتا ہوں کہ سیاسی لوگ ڈاکٹرز کے پیچھے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں کے معاملے پر دبائو میں نہیں آئیں گے۔ وزیراعلی محمود خان کو کہہ دیا ہے ڈاکٹرز سے بات چیت کریں، اپنے نظریہ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے گیس کا اتنا بڑ ذخیرہ ملے کہ آئندہ 50 سال کے لیے گیس کی کمی پوری ہو جائے۔ گیس کے ذخائر کے بارے میں آئندہ ہفتے پتہ چل جائے گا۔دریں اثناء وزیر اعظم عمران خان سے گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے ملاقات کی اور صوبے میں اصلاحات کے نفاذپر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ترجمان وزیراعظم آفس کے مطابق وزیرِ اعظم سے دورہ پشاور کے موقع پر خیبر پختونخوا کی صوبائی کابینہ کے ارکان نے بھی ملاقات کی ۔