وہ ستائیس سال کومے میں رہنے کے بعد آخر جاگ گئیں

162

فاطمہ عزیز

منیرا عبداللہ جو کہ UAE کی رہنے والی ہیں اور 1991ء میں ایک ٹریفک حادثے میں شدید زخمی ہوگئی تھیں اور کومے میں چلی گئی تھیں وہ اللہ کے حکم سے 27 سال بعد کومے سے واپس آگئی ہیں۔ منیرا عبداللہ 32 سال کی تھیں جب ان کا حادثہ ہوا، اس حادثے میں ان کے دماغ میں شدید چوٹیں آئیں، وہ اپنے بیٹے کو اسکول سے لے کر واپس آرہی تھیں کہ سامنے سے آنے والی تیز رفتار بس سے ان کی گاڑی ٹکرا گئی، ان کا بیٹا عمر جو کہ اس وقت صرف چار سال کا تھا وہ ان کے ساتھ پیچھے بیٹھا تھا مگر اللہ کی قدرت کہ اس کو اتنی چوٹیں نہیں آئیں۔ منیرا نے حادثے کے دوران خود کو آگے کرلیا اور اپنے بچے کو محفوظ رکھنے کے لیے اس پر جھک گئیں تا کہ اسے چوٹ نہ آئے۔ منیرا عبداللہ بہت زیادہ زخمی ہوگئیں مگر 2018ء میں انہیں شفا نصیب ہوئی اور وہ کومے سے واپس آگئیں۔
ان کے بیٹے عمر نے حادثے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی اماں نے ان کو گلے سے لگالیا تا کہ وہ محفوظ رہ سکیں۔ عمر کے مطابق انہوں نے کبھی نااُمیدی ظاہر نہیں کی کیونکہ ان کو اللہ کی رحمت سے اُمید تھی کہ ان کی امی کبھی نہ کبھی آنکھ ضرور کھولیں گی، ان کے مطابق وہ یہ کہانی دوسروں کو اس لیے سناتے ہیں تا کہ دوسرے لوگ امید نہ ہاریں اور اگر ان کا کوئی رشتے دار ایک طویل کومے میں ہے تو وہ اسے مردہ نہ سمجھیں۔ عمر کو اس حادثے میں خالی خراشیں آئیں مگر ان کی ماں جو کہ کافی زخمی تھیں اسپتال میں ڈاکٹروں سے یہی کہتی رہیں کہ پہلے میرے بچے کو دیکھ لو کہ اس کو کوئی زخم تو نہیں آیا۔ ان کا دیر سے علاج ہوا جس کی وجہ سے وہ کومے میں چلی گئیں۔ ان کو UAE سے لندن لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے کہہ دیا کہ یہ گہری نیند میں ہیں جس میں یہ ہل جل نہیں سکتیں، ہاں محسوس ضرور کرسکتی ہیں، جس طرح کوئی پھول پودا ہل جل نہیں سکتا مگر اس کے محسوسات ہوتے ہیں اور وہ زندہ کہلایا جاتا ہے۔ اسی طرح منیرا بھی کسی پھل سبزی کی طرح بستر پر پڑی رہتیں۔ لندن سے پھر ان کو واپس UAE لے جایا گیا جہاں وہ کافی سال ایک نرسنگ ہوم سے دوسرے نرسنگ ہوم منتقل ہوتی رہیں جہاں ان کو ٹیوب نالی کے ذریعے کھانا پہنچایا جاتا اور ان کے ہاتھ پیر کی ورزش کرائی جاتی تا کہ وہ Muscek Lass نہ کریں۔
2017ء میں کراون پرنس نے منیرا کے لیے گرانٹ Grant فراہم کیا تا کہ وہ بہتر علاج کے لیے جرمنی جاسکیں جہاں ان کا بہتر علاج ہوا۔ ایک دن ان کا بیٹا ان کے اسپتال کے کمرے میں کسی پر غصہ کررہا تھا تو بات بڑھ گئی ان کی ماں جو کومے میں تھیں ان کو لگا عمر خطرے میں ہے تو وہ عجیب عجیب سی آوازیں نکالنے لگیں۔ عمر نے فوراً ڈاکٹرز کو بلایا تا کہ وہ ان کو چیک کریں، ڈاکٹروں نے کہا کہ سب نارمل ہے اور کمرے سے چلے گئے۔ پھر تین دن بعد عمر اسپتال کے کمرے میں سو رہا تھا کہ کسی نے اس کا نام پکارا، وہ جاگا تو اس نے کیا دیکھا کہ اس کی ماں ہوش میں ہے اور اس کا نام پکار رہی ہے، عمر کے مطابق وہ خوشی سے پاگل ہوگئے، وہ سالوں سے اس لمحے کا انتظار کررہے تھے اور ان کی ماں نے سب سے پہلے ان کا نام پکارا۔ اس کے بعد منیرا کی طبیعت میں بہتری آئی اب وہ تھوڑی بات چیت کرلیتی ہیں اور سب کچھ محسوس کرتی ہیں۔ جرمنی سے پھر ان کو واپس UAE بھیج دیا گیا ہے جہاں وہ فزیوتھراپی کرارہی ہیں تا کہ چل پھر سکیں۔ منیرا عبداللہ جیسے کیسز دنیا میں بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں مگر اللہ کی ذات سے ہمیشہ معجزے کی اُمید رکھنی چاہیے کہ اللہ جسے رکھے اسے کون چکھے۔