افطار میں استعمال کیے جانے والے مشروبات نبویؐ کے خواص ڈاکٹر غزالہ علیم

225

رمضان المبارک نیکیوں کا موسم بہار تو ہے ہی، مگر اس کے ساتھ ساتھ اس پُرنور مہینے میں دستر خوان پر بھی ایک بہار آجاتی ہے۔ کچھ عرصے سے چوں کہ یہ ماہ رمضان موسم گرما میں آرہا ہے، تو افطار کے وقت طبیعت گری گری اور پیاس کی شدت سے نڈھال سی ہوجاتی ہے اور کثرت سے مشروبات کے استعمال کی وجہ سے رغبت سے کچھ کھایا نہیں جاتا۔ طبی ماہرین کے مطابق ایسے موسم میں ضروری ہے کہ افطار و سحر میں ایسی غذا استعمال کی جائے جو گرمی اور پیاس کو تسکین پہنچانے کے علاوہ توانائی بھی فراہم کرے۔ تو لیجیے، طب نبویﷺ سے منتخب چند ایسی غذائوں کے بارے میں تفصیل درج کی جارہی ہے، جو تسکین بخش ہونے کے علاوہ قوت بخش بھی ہیں اور خصوصاً موسم گرما کے روزوں کے لیے ان کی افادیت بھی اعلیٰ درجے کی ہے۔ سو، ان غذائوں سے اپنے افطار و سحر کے دستر خوان کی رونق بڑھائیں اور سنت نبویؐ پر عمل کے ثواب کے ساتھ غذائیت اور قوت بھی حاصل کیجیے۔
افطار میں استعمال کیے جانے والے مشروبات نبویﷺ نبیذ۔ یہ ایک قسم کا مشروب ہے، جسے کھجور یا کشمش سے تیار کیا جاتا ہے۔ نبی کریمﷺ اسے بڑی رغبت سے نوش فرمایا کرتے تھے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ’’ہمارے پاس ایک مشک تھی۔ اسے ہم صبح کے وقت کھجور اور پانی سے بھر دیا کرتے تھے۔ آپﷺ اسے رات کے وقت استعمال فرمایا کرتے تھے اور رات کو بھرتے تھے، تو آپﷺ صبح کو استعمال فرمایا کرتے تھے‘‘۔ (صحیح مسلم، کتاب، الاشربہ)۔ اسے تیار کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک لیٹر پانی میں ایک سو گرام کشمکش یا کھجور افطار سے چھ گھنٹے قبل (گٹھلی نکال کر) پانی میں رکھ دیں۔ استعمال سے کچھ دیر قبل اچھی طرح سے ہاتھوں سے مسل کر پانی میں ملادیں۔ اگر چاہیں تو گرائینڈ بھی کرسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں، کشمکش اور کھجور سے بھی یہ شیک بنایا جاسکتا ہے۔ ایک گلاس ٹھنڈے دودھ میں تین کھجوریں (گٹھلی نکال کر) دس دانے کشمکش اور دو چھوٹی الائچیاں گرائینڈ کرلیں۔ طبی اعتبار سے کشمکش کا استعمال انگور سے زیادہ مفید ہے۔ اس پھل کا شمار قدرت کی اُن بہترین نعمتوں میں شمار ہوتا ہے جو غذائیت کے ساتھ ساتھ معالجاتی خصوصیات سے بھی مالا مال ہیں۔ اس کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ دل و دماغ کو بھرپور توانائی فراہم کرتی ہے۔ اس میں ’’Antioxidant Pigment‘‘ پائے جاتے ہیں جو بڑھاپے کو روکتے ہیں۔ نیز اس میں موجود وٹامن سی، ای اور ایسے اجزاء پائے جاتے ہیں جو سرطان اور رسولیوں جیسے موذی امراض سے محفوظ رکھتے ہیں، جبکہ کثیر مقدار میں وٹامنز، کیلشم، پروٹین، فاسفورس، سوڈیم، تھامین، نایاسین، آئرن اور کاربوہائیڈریٹس بھی پائے جاتے ہیں جو متعدد بیماریوں مثلاً قبض، وزن میں کمی، بھوک نہ لگنے، چہرے کی بے رونقی، جسمانی کمزوری اور ٹی بی کے مرض کے علاج کے لیے بہت مفید ہیں۔ کھجور کی نبیذ بھی بیش بہا فوائد کی حامل ہے۔ اس کے متواتر استعمال کے بعد کسی اور ٹانک کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس میں موجود وٹامن اے، بی، سی، کیلشم، فاسفورس، فولاد، میگنیشم، کلورین، گندھک، پروٹین اور دیگر معدنی اجزاء جسم کو فوری توانائی فراہم کرتے ہیں۔ کھجور قبض، ہاضمے کی خرابی، تنجیرِ معدہ، بلغم، ٹی بی، جگر اور پتے کے امراض منہ کی خشکی دور کرنے اور گردے، پتے اور مثانے میں پتھری بننے کے عمل کو روکتی ہے۔
ستّو
یہ مشروب، جسے ’’جَو‘‘ سے تیار کیا جاتا ہے، نبی کریمﷺ کے پسندیدہ مشروبات میں سے ایک ہے۔ اسے تیار کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جوء کے دانے صاف کرکے ہلکا سا بھون کر پیس لیں۔ پھر ایک گلاس پانی میں ایک بڑا چمچ سّتو اور حسبِ ذائقہ چینی یا گڑ کی شکر ملا کر ٹھنڈا کرکے استعمال کرلیں۔ یہ موسم گرما میں فوری توانائی پہنچانے والا طاقتور اور ٹھنڈا مشروب ہے۔ جسم کو گرمی کے مضر اثرات سے محفوظ رکھتا ہے۔ واضح رہے کہ اس کا ایک گلاس، ایک روٹی کے برابر غذائی خصوصیات رکھتا ہے۔ اس میں وٹامن بی ون، بی ٹو، پروٹین، چربی، کاربوہائیڈریٹ، کیلشم، فولاد، فاسفورس وغیرہ شامل ہیں۔ یہ مشروب جگر و مثانے کی گرمی زائل کرنے، معدے اور ہاتھ پیروں کی جلن دور کرنے، گرمی کا نزلہ زکام، بلغم، خشک کھانسی اور بلند فشارِ خون میں مفید ہے۔ نیز، جلد ہضم ہونے کی وجہ سے بدہضمی کے مریضوں کے لیے بہترین غذا اور دوا بھی ہے۔ علاوہ ازیں، صرف جَو کا اُبلا ہوا پانی بھی استعمال کیا جائے تو بھی کئی امراض مثلاً ہاتھوں پیروں کی گرمی، خون، پیپ، پتھری، سرسام، آنتوں کی سوزش میں مفید ثابت ہوتا ہے۔