دمہ۔۔۔۔۔۔ جس میں سینہ جکڑا جاتا ہے اس بیماری میں وراثت اور ماحول کا دخل بھی ہوتا ہے

253

ماہرین صحت، دمے کو پھیپھڑوں کی پرانی یا دیرینہ بیماری بھی کہتے ہیں جو کسی بھی عمر میں ہوسکتی ہے لیکن بلوغت تک پہنچنے سے پہلے یہ مرض لڑکیوں کی نسبت لڑکوں میں دگنی تعداد میں پایا جاتا ہے لیکن نوجوانی میں یہ مرض دونوں جنسوں میں یکساں طور پر دیکھنے میں آتا ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ دمے کی بیماری جوانوں میں شدت سے ہوتی ہے، کیونکہ ان میں وائرس کا حملہ سانس کی نالیوں کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے جلدی جلدی ہوتا ہے۔
ایسے عوامل جو دمے کی بیماری کا سبب بنتے ہیں وہ درج ذیل ہیں:
موسم میں اچانک تبدیلی، ماحولیاتی آلودگی، سگریٹ نوشی، خوشبو، پھولوں کے زیرے یا زرگل، اپنی بساط سے زیادہ محنت یا ورزش، گھروں میں کارپٹ کا استعمال، ذہنی یا جذباتی دبائو، اسپرین اور جوڑوں کے درد کی ادویہ کا استعمال اور معدے میں تیزابیت کا اچھال اسی طرح غربت، تنگ رہائش اور کثیر افراد خانہ بھی دمے کی بیماری کا سبب بنتے ہیں۔ بچپن میں بار بار پھیپھڑوں کی بیماری مثلاً نمونیا یا تپ دق میں مبتلا ہونے والے بچے مستقبل میں دمے کا فوری شکار ہوسکتے ہیں۔
بچوں میں دمے کی بیماری میں پھیپھڑوں سے سیٹی کی آواز کا آنا ایک اہم علامت ہے جو بیماری کی تشخیص میں مدد دیتی ہے جسے طبی اصطلاح میں Wheezing کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ کھانسی، سانس لیتے ہوئے دم گھٹنا، پھیپھڑوں میں بلغم کا بھر جانا، سانس کا تیز تیز چلنا اور معمولی سی محنت سے سانس کا اکھڑ جانا، بیماری کی خاص علامتیں ہیں۔ مسلسل رہنے والی کھانسی جو رات کو ٹھنڈ بڑھ جانے کی وجہ سے ہو، کھانستے کھانستے الٹی ہوجائے اس بیماری کی اہم نشانی ہے، چونکہ سانس کی نالیاں الرجی کی وجہ سے رات کے وقت تنگ ہوجاتی ہیں اس لیے بہت سے بچوں میں دمے کا حملہ رات ہی کے وقت شدت سے ہوتا ہے۔ چھوٹے بچوں میں ناک کے نتھنوں کا پھیلنا، پسلیوں کا چلنا، گردن اور سینے کے ملاپ کی جگہ پر گڑھا پڑ جانا، سانس لینے کے عمل میں شدید رکاوٹ کو ظاہر کرتا ہے۔ اس بیماری میں پسلیاں جتنی تیز چلتی ہیں اتنا ہی دل اور نبض تیز چلتی ہے۔ مزاجا میں چڑچڑاپن، سستی، قوت گویائی میں کمی اور پسینے میں شرابور ہونا شدید دمے کی ابتدائی علامتیں ہیں۔ بعض اوقات سانس لینے میں بے پناہ دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
احتیاطی تدابیر اور بچائو کیسے ممکن ہے؟
تمام ایسے اسباب جو انسانی جسم اور خون میں الرجی پیدا کرتے ہوں ان سے بچا جائے۔ پالتو جانوروں میں بلیوں، پرندوں اور ان کے پروں سے بھی احتیاط لازم ہے۔ پرندے جب اپنے پَر جھاڑتے ہیں تو اس میں الرجی کے جزو ہوتے ہیں اور یہ شدید اثرات مرتب کرتے ہیں۔ قالین گھروں سے ہٹا دنے ہی میں عافیت ہے۔
بچوں کو بلیوں سے قریب نہ رکھیں یعنی گود میں نہ بٹھائیں۔ دور دور سے کھیلیں اور چھوتے وقت احتیاط کریں۔ پالتو جانوروں کی اپنی حفاظت کے لیے بھی حفاظتی ٹیکوں کا کورس ضرور مکمل کروالیں۔ بلی کی سانس اور کھال میں ایسے الرجنز ہوتے ہیں کہ یہ گھر سے علیحدہ بھی کردی جائیں تب بھی چھ ماہ تک اس کے الرجی کے اثرات گھر میں موجود رہتے ہیں۔
سگریٹ نوشی سے مکمل پرہیز ہونا چاہیے، بزرگوں اور بچوں کے قریب ہر گز سگریٹ نہ پئیں کیونکہ اس کا دھواں سخت نقصان دہ ہے۔ ماں کا دودھ بچے کے لیے قدرت کا انمول تحفہ اور بیش بہا نعمت ہے جو بچے یہ دودھ پیتے ہیں وہ اس مرض کا نسبتاً کم شکار ہوتے ہیں۔ حفاظتی ٹیکے اس بیماری کے دورے کسی حد تک کم کردیتے ہیں۔ اس لیے سالانہ انفلوئنزا کا ٹیکا لگوانے میں کوئی حرج نہیں۔
بلڈ پریشر کی کچھ دوائیں کھانسی پیدا کرسکتی ہیں اس لیے ان کے ردعمل کے لیے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
خوشبو نقصان کرتی ہے تو اس کا استعمال بھی ترک کردینا ہی بہتر ہے۔ کسی قسم کے کیمیکل کی بھاپ اور بخارات سے بچنا چاہیے۔
پھیپھڑوں، ٹی بی اور نمونیا اگر بچپن میں یہ امراض لاحق ہوئے ہوں تو ان کا موثر علاج ہونا چاہیے۔
دمے کے علاج کے سلسلے میں خاصی پیش رفت ہوچکی ہے۔ نیبولائزیشن یا بھاپ لگانا ایک سستا اور سہل علاج ہے۔ یہ ڈاکٹر کے مشورے سے گھر پر بھی کیا جاسکتا ہے اور ضروری نہیں کہ اسپتال میں داخل ہوا جائے البتہ مرض شدید ہو تو اسپتال ہی سے رابطے میں رہنا ضروری ہے۔ ظاہر ہے کہ وہاں اینٹی بایوٹک ادویات، بھاپ اور آکسیجن کی مدد سے فوری طبی امداد بھی مل سکتی ہے اور متاثرہ شخص ڈاکٹروں کے زیر علاج اور نظر میں رہتا ہے۔ سانس کے پمپ Inhaler کے بارے میں یہ مفروضہ قائم کرلیا گیا ہے کہ یہ دمے کا آخری علاج ہے جبکہ یہ غلط اور سنی سنائی بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کی معمولی اور کم مقدار میں خون اور پھیپھڑوں میں پہنچنے والی دوا انجکشن لگوانے اور گولیاں کھانے سے کہیں زیادہ موثر ہوتی ہے۔