اوسلو معاہدہ فلسطینی تحریک آزادی روکنے کی سازش تھی، حماس

93
مقبوضہ بیت المقدس: لاکھوں مسلمان قبلہ اول میں نمازِ جمعہ ادا کررہے ہیں‘ فلسطینی شہری اسرائیلی رکاوٹوں سے گزر کر مسجد اقصیٰ پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں
مقبوضہ بیت المقدس: لاکھوں مسلمان قبلہ اول میں نمازِ جمعہ ادا کررہے ہیں‘ فلسطینی شہری اسرائیلی رکاوٹوں سے گزر کر مسجد اقصیٰ پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں

 

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) فلسطینی جماعت اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی شعبے کے سینئر رکن ڈاکٹر محمود زہار نے کہا ہے کہ اوسلو سمجھوتے کو مسترد کر کے حماس نے جو فیصلہ کیا وہ تاریخی حقیقت ثابت ہوا ہے۔ حماس نے سمجھوتے کے پہلے روز کہا تھا کہ یہ محض فلسطینیوں کو اندھیرے میں رکھنے اور ان کی تحریک آزادی کو دبانے کا ایک غیرملکی حربہ ہے۔ اس سے فلسطینیوں کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فلسطینی تحریک مزاحمت اسرائیل سے غزہ کی ناکابندی کے خاتمے کی شرائط پوری کرانے اور جنگ بندی کے تمام نکات پر عمل کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی قوم کے مسلمہ اصول اور مطالبات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جرائم کی قیمت نہیں بن سکتے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں فلسطینی مزاحمت نے دشمن کو واضح پیغام دیا ہے کہ ہم غزہ کے عوام کو بھوک، بیماریوں، ناخواندگی، اندھیرے اور معاشی بدحالی میں نہیں رکھ سکتے۔انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی قوم کے بنیادی اور اصولی مطالبات میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ اسرائیلی دشمن کو بھی باخوبی ادراک ہے کہ اگر اس نے غزہ میں جنگ بندی کی شرائط پوری نہ کیں تو اسے اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔ ایک سوال کے جواب میںانہوں نے کہا کہ فلسطین کے مقدسات یہود اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم نہیں کیے جائیں گے۔ مقدسات پر صرف مسلمانوں کا حق ہے۔ دوسری جانب بیت المقدس، مغربی کنارے اور 1948ء کے مقبوضہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے 2 لاکھ فلسطینی شہریوں نے مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ ادا کی۔ اسلامی اوقاف کے مطابق اسرائیلی پابندیوں کے باوجود تقریباً 2 لاکھ مسلمان مسجد اقصیٰ پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔مقامی ذرائع نے کہا کہ قابض اسرائیلی پولیس نے 40 سال سے کم ہزاروں فلسطینیوں کو بیت المقدس میں داخلے سے روک دیا تھا۔ ساتھ ہی قابض اسرائیلی اتھارٹی نے غزہ کے شہریوں کو بھی مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی کے لیے داخلے کی اجازت نہیں دی۔