معلوم نہیں خراب نظام اب کون ٹھیک کرے گا،عدالت عظمیٰ

47

اسلام آباد( آن لائن/صباح نیوز ) قائم مقام چیف جسٹس نے سینٹورس مال تجاوزات کیس میں ریمارکس دیے ہیں پتا نہیں خراب نظام اب کون ٹھیک کرے گا ؟عدالت نے تجاوزات سے خاتمے سے متعلق رپورٹ کو مسترد کر دی اور میئر اسلام آباد اورچیئرمین این ایچ اے آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے سروس روڈز واگزار کرانے کی تمام کارروائیوں کی تصاویر پرمبنی رپورٹ بھی مانگ لی ہے ۔جسٹس گلزار احمد نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ اسلام آباد کی کسی بڑی سڑک پر یوٹرن نہیں ہونے چاہئیں، مجھے گاڑی چلاتے ہوئے 40 سال ہوچکے ہیں، وفاقی دارالحکومت میں گاڑی چلانا میرے لیے ممکن نہیں۔ تفصیلات کے مطابق قائم مقام چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سینٹورس مال تجاوزات کیس کی سماعت کی، چیئرمین سی ڈی اے نے عدالت کو بتایا کہ سینٹورس سے سروس روڈزواگزار کرا لی ہیں،بلیو ایریا سمیت شہر بھرمیں بھرپورآپریشن جاری ہے،اسلام آباد کو جلد تجاوزات سے پاک کر دیں گے،جس پر جسٹس سردار طارق نے کہا کہ مارگلہ روڈ پرتو آج بھی بیرئیر لگے ہوئے ہیں،جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ ابھی چل کر دیکھ لیتے ہیں کتنی تجاوزات ختم ہوئی ہیں،کشمیر ہائی وے اور ایکسپریس وے کا تو براحال ہے،بڑی شاہراہوں پر پیدل چلنے والوں کے لیے پل بھی نہیں ہیں،دارالحکومت کی سڑکوں پر لگے ریفلیکٹر بھی خراب ہیں، بھارہ کہو سے مری جانا بھی محال ہوچکا ہے،جبکہ ایمبیسی روڈ کی گرین بیلٹ پرقبضہ ہوچکا ہے،جس پر چیئرمین سی ڈی نے عدالت کو بتایا کہ ایکسپریس وے کو سگنل فری بنا رہے ہیں،جس کے لیے بجٹ میں 3 سال بعد گرانٹ مختص ہوگئی ہے،ایمبیسی روڈ کی توسیع کا کام جاری ہے ،عدالت کو اپنی کارکردگی سے مطمئن کریں گے۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ اسلام آباد میں پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت کیوں موجود نہیں ہے؟ ججز کالونی آنے والوں کو بھی میلوں دورپیدل چلنا پڑتا ہے ،جبکہ لوگوں کو دفاتر سے پیدل گھر جانا پڑتا ہے، اسلام آباد میں تو انڈر گرائونڈ ٹرینیں چلنی چاہئیں،صرف جنگلہ بس چلانے سے مسائل حل نہیں ہوتے ،جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس میں مزید کہا دنیا کا کون سا شہر ہے جہاں ٹرانسپورٹ کا نظام نہ ہو، پتا نہیں اتنا خراب نظام اب کون ٹھیک کرے گا،عدالت نے اسلام آباد اورہائی ویز سے تجاوزات کے خاتمہ کے لیے کیے گئے اقدامات سے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے سینٹورس مال سروس روڈز واگزار کرانے کی تصویری رپورٹ ما نگتے ہوئے کیس کی سماعت 2 ہفتے تک ملتوی کر دی ۔