سندھ اسمبلی ایڈز کے مسئلے پر حکومت اور اپوزیشن ارکان میں تلخ کلامی ہاتھاپائی

171
کراچی: سندھ اسمبلی اجلاس کے دوران اسپیکر ڈائس کے قریب اپوزیشن و حکومتی ارکان ایک دوسرے سے الجھ رہے ہیں
کراچی: سندھ اسمبلی اجلاس کے دوران اسپیکر ڈائس کے قریب اپوزیشن و حکومتی ارکان ایک دوسرے سے الجھ رہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی میں ایجنڈے کومعطل کرکے ایڈز کے معاملے پرقرارداد پیش کرنے کی اجازت نہ ملنے پراپوزیشن نے ایوان میں شدید احتجاج کیا اورایڈز سے متعلق پلے کارڈ لہراتے ہوئے اسپیکرڈائس کے سامنے جمع ہوکرنعرے بازی کی اوردھرنا دیا،دوران احتجاج اپوزیشن اراکین سیکریٹری اسمبلی کے ڈائس پرقابض ہوگئے۔ سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکرآغاسراج درانی کی صدارت میں شروع ہواتو تلاوت اورفاتحہ کے بعد اسپیکرنے محکمہ معدنیات و ترقیات کا وقفہ سوالات شروع کرنے کی رولنگ دی صوبائی وزیرمعنی ترقی شبیربجارانی نے اپنے محکمہ سے متعلق ارکان کے سوالات کے تحریری اورضمنی جوابات دیے ، تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈرحلیم عادل شیخ نے وفقہ سوالات شروع ہونے سے قبل وقفہ سوالات شروع ہونے سے پہلے ایڈز کے حوالے سے قرارداد پیش کرنا چاہی تاہم وفقہ سوالات ختم ہوتے ہی انہوں نے دوبارہ ایوان میں قرارداد پیش کرنے کی اجازت طلب کی جس پراسپیکرسندھ اسمبلی آغاسراج درانی نے کہاکہ جمہوریت میں ہرکوئی بولنے کا حق رکھتا ہے اپوزیشن کوبات کرنے کی اجازت دوں گا پہلے توجہ دلاؤ نوٹس ایوان میں پیش ہوجائے۔حکومتی رکن صوبائی وزیر امتیاز شیخ نے موقف اختیارکیا کہ ہاؤس کی کارروائی بزنس کے حساب سے آگے بڑھائی جائے۔حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ سندھ میں ایڈز کی بیماری سے لوگ مررہے ہیں، اپوزیشن کو اس معاملے پر قرارداد پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔حلیم عادل شیخ نے سخت لہجے میں اسپیکر کو مخاطب کیا اورکہاکہ آپ ہروقت ہمیں روکتے ہیں جب بھی بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں آپ روک دیتے ہیں جس پر ایوان میں تلخی پیدا ہوئی ۔جواب میں اسپیکرکا کہنا تھا کہ آرام سے بات کریں اوراسپیکر نے حلیم عادل کو جھڑک دیا کہ ایوان کا ماحول خراب نہ کریں،بزنس مکمل ہونے کے بعد آپ قرارداد لے آئیں،آپ ہر 5 منٹ کے بعد اٹھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں یہ طریقہ نہیں آپ واک کرلیں یہ روز کا معمول بنادیا ہے،حلیم صاحب بیٹھ جائیں آرام سے رمضان کا مہینہ ہے۔ صوبائی وزیر شبیربجارانی نے بھی اپوزیشن سے ہاؤس کا ماحول خراب نہ کرنے کی استدعا کی ۔صوبائی وزیرمکیش کمارچاؤلہ نے کہاکہ اپوزیشن اپنی ناکامی چھپانے کے لیے ایوان کا ماحول خراب کرنا چاہتی ہے۔صوبائی وزیرصحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہاکہ میں ایوان میں اس وقت تک موجود رہوں گی جب تک ایڈزکے معاملے پراپوزیشن کے سوالوں کا جواب نہ دے دوں، اپوزیشن کوتوجہ دلاؤ نوٹس کے بعد بات کرنے کا موقع ملے گا تب تک میں ایوان میں موجود ہوں۔ایجنڈے کو معطل کرکے ایڈز کے معاملے پرقرارداد پیش کرنے کی اجازت نہ ملنے پر قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی اپنی نشست پرکھڑے ہوگئے اور کہاکہ جناب اسپیکرسندھ میں لوگ ایڈز کا شکار ہوکر جان سے ہاتھ دھورہے ہیں آپ کے نزدیک توجہ دلاؤ نوٹس اہم ہیں ، کیا ایڈزکا معاملہ توجہ دلاؤ نوٹس سے اہم نہیں ہے ۔اسپیکر کی جانب سے پہلے ایجنڈا مکمل کرنے کی رولنگ پراپوزیشن ارکان اسپیکرڈائس کے سامنے جمع ہوگئے ۔ایڈزسے متعلق نعروں پرمبنی کتبے ایوان میں لہراتے ہوئے نعرے بازی اوراحتجاج شروع کردیا۔اس دوران اپوزیشن ارکان اسپیکرڈائس کے سامنے سیکرٹری ڈائس کی نشستوں پرقابض ہوگئے۔ صوبائی وزیرسعید غنی نے قائد حزب اختلاف کو سیکرٹری ڈائس کی نشستوں پراحتجاج نہ کرنے کی درخواست کرتے ہو ئے ان کے ہاتھ سے پلے کارڈز لے کرزمین پر پھینک دیے۔ جس پرحکومت اوراپوزیشن ارکان آمنے سامنے آگئے۔ قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی سمیت اپوزیشن ارکان اسپیکرڈائس کے سامنے دھرنا دے کربیٹھ گئے۔دوران احتجاج بعض اپوزیشن ارکان نے روسٹرم پر چڑھنے کی کوشش کی تو حکومتی ارکان سے ان کی تلخ کلامی ہوئی ۔پیپلزپارٹی کے ممتاز جکھرانی اورحلیم عادل شیخ کے درمیان نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی کے دیگرارکان کے مابین تلخ کلامی اوربعض ارکان نے ایک دوسرے پرشدید تنقید کرتے ہوئے مغلظات بکیں۔اپوزیشن کی جانب سے ایوان میں ظالمو جواب دو ایڈز کاحساب دو کے نعرے لگائے گئے اورشدید احتجاج کیا گیا۔صوبائی وزیرمکیش کمارچائولہ نے کہاکہ پی ٹی آئی کے حلیم عادل شیخ اور خرم شیرزمان کا ایڈز ٹیسٹ کرانے کی ڈیمانڈ آئی ہے۔ جس پر ایوان میں قہقہے بلند ہوئے۔ اسپیکرسندھ اسمبلی آغاسراج درانی نے اپوزیشن کے احتجاج کونظراندازکرتے ہوئے اجلاس کی کارروائی جاری رکھی اورتوجہ دلاؤ نوٹسز ایوان میں پیش کیے گئے۔ علاوہ ازیںسندھ اسمبلی نے جیل خانہ جات و اصلاحی سہولیات بل 2019 ء منظور کرلیا۔سندھ کی جیلوں میں اصلاحات متعارف کرانے کا ترمیمی بل صوبائی وزیرمکیش کمارچاؤلہ نے ایوان میں پیش کیا۔ ترمیمی بل کے تحت معمولی جرائم میں ملوث خواتین قیدیوں کورہا اور18برس سے کم عمربچوں کوجیل میں قیدنہیں رکھا جائے گا جبکہ سنگین اوردہشت گردی جرائم کے علاوہ 18برس سے کم عمرملزم بچوں کورہاکیاجاسکے گا ۔