امریکا ایران کشیدگی عالمی امن ومعیشت کیلیے بڑا خطرہ ہے،میاں زاہد

61

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے امریکہ اور ایران کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا ا ظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے عالمی امن اور معیشت کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ اگر عالمی برادری نے مل کر اس کشیدگی کوختم کروانے میں بھرپور کردار ادا نہ کیا تو بڑے پیمانے پر افراتفری اور تباہی کے علاوہ تیل کی قیمت سو ڈالر فی بیرل سے بھی زیادہ بڑھ سکتی ہے جس سے درجنوں ممالک کے بجٹ غیر متوازن جبکہ ان میں رہنے والے اربوں لوگ بری طرح متاثر ہونگے جبکہ بین الاقوامی سطح پر غربت اور سیاسی بے چینی میں زبردست اضافہ ہو جائے گااور یہ پاکستان کی بیمار معیشت کیلئے مزیدخطرے کی گھنٹی ہے۔ میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ سعودی عرب، عراق، متحدہ عرب امارات، کویت ، قطر اور ایران روزانہ ڈیڑھ کروڑ بیرل تیل آبنائے ہرمز کے راستے برآمد کرتے ہیں اور اسکی بندش سے تیل کا سنگین بحران جنم لے گا جبکہ ایندھن کی قیمتیںتصور سے بھی زیادہ بڑھ جائیں گی۔اس خطے میںسعودی عرب ،ناروے اور اماراتی جہازوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے جبکہ ایک ٹرمینل پر بھی حملہ ہوا ہے جس سے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔امریکہ ایرن کے خلاف پابندیوں میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے جبکہ خطے میں اپنی فوجی طاقت بھی بڑھا رہا ہے اور ایران کی تیل کی برآمدات کو صفر کرنے کے منصوبے پر کاربند ہے جس سے کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے جسکے نتائج عراق، لیبیا اور شام کی جنگوںسے زیادہ ہولناک ہوں گے اور اس سے پاکستان بھی محفوظ نہیں رہے گا۔امریکی صدر ٹرمپ کے حکم پر جنگی جہاز اور بحری بیڑہ خلیج پہنچ چکا ہے، پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے،بیرونی سرمایہ کاری بند اور ایرانی معیشت ڈوب رہی ہے جس میںامسال چھ فیصد کمی واقع ہوگی جبکہ ایرانی تیل کے خریدار ملکوں پر دبائو بڑھایا جا رہا ہے تاکہ وہ متبادل ذرائع سے تیل خریدیں۔ایران پر مسلسل دبائو بڑھانے اور اسے تنہا کرنے کی پالیسی سے ناقابل تصور تباہ کاری جنم لے سکتی ہے۔انھوں نے کہا کہ یورپی یونین اور دیگر طاقتورممالک بیانات اور خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے کے بجائے صورتحال کو بہتر بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریںورنہ دنیا سرد جنگ اورامریکہ اور چین کے مابین تجارتی جنگ کی تباہ کاریوں کو بھول جائے گی۔اِس تمام صورتحال میں پاکستان میں میثاقِ معیشت کی ضرورت اور اہمیت مزید بڑ ھ گئی ہے کیونکہ پاکستان کو FATFکے خطرات اوردیگر مسا ئل بھی درپیش ہیں ۔