کسٹمز ایجنٹس کے مسائل کو حل کیا جائے گا،واصف علی میمن

49
چیف کلکٹر انفورسمنٹ(سائوتھ زون) واصف علی میمن فیڈریشن ہائوس میں ممبران سے خطاب کررہے ہیں
چیف کلکٹر انفورسمنٹ(سائوتھ زون) واصف علی میمن فیڈریشن ہائوس میں ممبران سے خطاب کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)چیف کلکٹر انفورسمنٹ (سائوتھ زون) واصف علی میمن نے کہا ہے کہ کسٹمز ایجنٹس کے شپنگ لائنز اور شپنگ ایجنٹس کے ساتھ دیرینہ مسئلوں کو حل کیا جائے گا اورہم ان تینوں کے مابین مصالحت کا کردارادا کرنے کیلئے تیار ہیں،کوشش کی جائے کہ تنازعات کا حل عدالتوں سے باہر ہی طے کرلیا جائے۔انہوں نے یہ بات گزشتہ روز فیڈریشن ہائوس میں ایف پی سی سی آئی کے کراچی،لاہور اور اسلام آباد میں موجود ممبران سے وڈیوکال کے ذریعہ خطاب کے دوران کہا۔اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے سابق صدرویونائٹیڈ بزنس گروپ کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیر،سابق نائب صدر شبنم ظفر، نائب صدرمحمد ارشد جمال ،شکیل احمدڈھینگڑا،محمدساجد،قمر السلام،نیرحسنین زیدی،وقاراحمدخان،مسلم محمدی ،عاصم صدیقی، انجینئر ایم اے جبار،عبدالسمیع خان،سیف الدین جونیجو،لاہور سے قائمقام صدر ایف پی سی سی آئی عبدالرئوف مختار،چوہدری امجد،اسلام آباد سے نائب صدر عبدالوحید،قربان علی اور کسٹمزایجنٹس شریک تھے۔چیف کلکٹر انفورسمنٹ(سائوتھ زون) واصف علی میمن کی تقریر سے قبل اسلام آباد اور لاہور کے میٹنگ ہال خا لی ہوگئے اورتمام ممبران اٹھ کر چلے گئے۔واصف علی میمن نے کراچی میں موجود ممبران سے خطاب میں کہا کہ کسٹمز انفورسمنٹ اپنے کسٹمرز کو زیادہ سے زیادہ سہولیات مہیا کرتا ہے تاکہ کام کی رفتار تیز ہوسکے۔
،ہم نے گزشتہ سال کی نسبت رواں سال 15فیصد ڈیوٹی ڈرابیک زائد ادا کیا ہے جبکہ مئی اور جون کے مہینوں میں پہلی بار ڈیوٹی ڈرابیک ادا کیا جائے گا جو ریونیوٹارگٹ کو پورا کرنے کیلئے ادانہیں کیا جاتا تھا۔انہوں نے بتایا کہ نئے وفاقی بجٹ میں ایکسپورٹس کے حوالے سے تمام تر اسکیموں کومزید سہل بنایا جارہا ہے اورہر سسٹم میں ڈی ٹی آر ای کی منظوری دی جارہی ہے ۔اس موقع پر ایس ایم منیر نے کہا کہ ایف بی آر چیئرمین شبرزیدی نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ فیڈریشن ہائوس کا دورہ کریں گے تاکہ ہم انہیں مسائل سے آگاہ کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ انڈرانوائسنگ اور اسمگلنگ سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے،ایران بارڈر سے موٹرسائیکلوں کے ذریعہ پیٹرول کی پاکستان میں اسمگلنگ ہورہی ہے جسے روکنے کی ضرورت ہے۔شکیل ڈھینگڑا نے کہا کہ شپنگ سیکٹر کے حوالے سے کسٹمز ایجنٹس بہت سے مسائل درپیش ہیں اور جوفیصلے اس ضمن میں پہلے ہوچکے ہیں ان پر عملدرآمد کراجائے۔،سیکیورٹی ڈپازٹس کے سلسلے میں ایک آرڈر نکالا جاچکا ہے کہ15دن تک اسے کیش نہیں کرایا جاسکے گا لیکن چندکمپنیاں اس پر عمل نہیں کرتیں بلکہ زیادہ تر کمپنیاں سیکیورٹی ڈپازٹس لو کیش کرالیتی ہیں۔ارشد جمال نے کہا کہ کسٹمز انفورسمنٹ میں اسٹاف کی کمی کی وجہ سے کلیئرنگ ایجنٹس کو مشکلات کا سامنا ہے اور تاخیر کے سبب اضافی چارجز ادا کرنے پڑتے ہیں،جب جہاز 5بجے شام کے بعد پورٹ پر آتا ہے تو کارگو آنے کے باوجود شیڈ بند ہونے کی وجہ سے کارگو شفٹ نہیں ہوپاتا اس لئے کارگو کو شفٹ کرنے کی اجازت دی جائے۔انہوں نے کہا کہ ایکسپوت اس وقت تک نہیں بڑھے کی جب تک ایکسپورٹ فری زون میں انویسٹرز کو سہولیات نہ ملیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ شپنگ کمپنیوں پر انکے ملازمین کی شکل میں مافیاز کا قبضہ ہے۔ ایف پی سی سی آئی کی سابق نائب صدر شبنم ظفر نے بھارتی کسٹمز پر پاکستانی ایکسپورٹرز کی جانب سے ایکسپورٹ کی گئی کھجور کو روکے جانے اور اسے نیلامی میں ڈالنے کے بارے میں چیف کلکٹر انفورسمنٹ(سائوتھ زون) واصف علی میمن کو آگاہ کیا لیکن چیف کلکٹر انفورسمنٹ کی گفتگو سے ظاہر ہوا کہ انہیں اس بارے کچھ علم ہی نہیں۔ چوہدری امجد نے کہا کہ محکمہ کسٹمز فریٹ فاروڈرز کو ریگولرائز کرے۔