150روپے کاڈالرمعاشی شعبہ کوتباہ کرنے کاسبب بنے گے

85

فیصل آباد(وقائع نگار خصوصی)کسان بورڈ کے ڈویژنل صدرعلی احمدگورایہ نے کہا ہے کہ150روپے کاڈالرمعاشی شعبہ کوتباہ کرنے کاسبب بنے گے وہیں شعبہ زراعت کے لیے کسی زہرقاتل سے کم نہیں ہوگا۔ انہوں حکومت سے مطالبہ کیا کے آمدہ بجٹ میں زرعی شعبہ پر خصوصی توجہ دی جائے۔ کاشتکاروں کی پیدواری لاگت کم کرنے کے لیے بیجوں اور کھادوں پر سبسڈی دی جائے معیشت کی بہتری،برآمدات میں آضافہ کے لیے زراعت کو ترجیحات میں پہلے نمبر پر رکھا جائے تمام کھادوں زرعی ادویات زرعی مشینری پر خصوصی سبسڈی پیکج کا اعلان کیاجائے اور زرعی قرضہ کی شرح مارک اپ کم سے کم کی جائے جعلی زرعی ادویات اور دو نمبر کھادوں کے دھندے میں ملوث افراد کے خلاف بِلا امتیاز کریک ڈائون کیا جائے۔کپاس کے کاشتکاروں کی مشکلات کے حل اور کپاس کے مقرر کردہ ہدف کے حصو ل کے لیے ایمرجنسی نافذ کی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدوں میں تمام سبسڈیز ختم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اگر آئی ایم ایف کے دبائو پر کسانوں کو دی جانے والی سبسڈی ختم کی گئی تو زراعت تباہ ہو جائے گی۔ترقی پزیر ممالک بھی اپنے کسانوں کو سہارا دینے کیلیے سب سڈی دیتے ہیں۔اس لیے کاشتکاروں کیلیے دی جانے والی بجلی،کھادوں،زرعی ادویات،مارکیٹنگ،مشینری اور دیگر اشیا پر دی جانے والی سب سڈی ختم نہ کی جائے۔