(رمضان المبارک … بارہواں سبق( حسد

73

عتیق الرحمن خلیل
’’اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرنے لگے‘‘۔
سورۃ الفلق میں تیسری چیز جو خصوصیت کے ساتھ ذکر کی گئی ہے وہ حاسد اور حسد ہے۔ اس کی تخصیص کی وجہ بھی یہی دونوں ہوسکتی ہیں کیوںکہ آپؐ پر جادو کرنے کا اقدام اسی حسد کے سبب سے ہوا۔ یہود اور منافقین آپؐ کی اور مسلمانوں کی ترقی کو دیکھ کر جلتے تھے اور ظاہری جنگ و قتال میں آپؐ پر غالب نہیں آسکے تو جادو کے ذریعے اپنی حسد کی آگ کو بجھانا چاہا اور رسول اللہؐ کے حاسد دنیا میں بے شمار تھے اس لیے بھی خصوصیت سے پناہ مانگی گئی۔ نیز حاسد کا حسد اس کو چین سے نہیں بیٹھنے دیتا، وہ ہر وقت اس کو نقصان پہنچانے کے درپے رہتا ہے اس لیے ضرر شدید بھی ہے۔ حسد کہتے ہیں کسی کی نعمت و راحت کو دیکھ کر جلنا اور یہ چاہنا کہ اس سے یہ نعمت زائل ہوجائے، چاہے اس کو بھی حاصل نہ ہو، حسد حرام اور گناہ کبیرہ ہے اور یہ سب سے پہلا گناہ ہے جو آسمان میں کیا گیا اور سب سے پہلا گناہ ہے جو زمین پے کیا گیا کیوںکہ آسمان میں ابلیس نے آدم علیہ السلام سے حسد کیا اور زمین پر ان کے بیٹے قابیل نے اپنے بھائی ہابیل سے کیا۔ (قرطبی)۔ حسد سے ملتا جلتا غبطہ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ کسی کی نعمت کو دیکھ کر یہ تمنا کرنا کہ یہ نعمت مجھے بھی حاصل ہوجائے۔ یہ جائز ہے بلکہ مستحسن ہے۔ یہاں تین چیزوں سے خصوصی پناہ مانگنے کا ذکر ہے مگر پہلی اور تیسری میں تو ایک ایک قید کا ذکر کیا گیا۔ پہلی ’’غَاسِقٍ‘‘ کے ساتھ ’’اِذَا وَقَبَ‘‘ فرمایا اور تیسری میں حَاسِدٍ کے ساتھ ’’اِذَا حَسَدَ‘‘ فرمایا اور درمیانی چیز یعنی جادو کرنے والوں میں کوئی قید ذکر نہیں فرمائی۔ سبب یہ ہے کہ جادو کی مضرت عام ہے اور رات کی مضرت اسی وقت ہوتی ہے جب پوری اندھیری ہوجائے۔ اسی طرح حاسد کا حسد جب تک وہ اپنے حسد کی وجہ سے کسی ایذا پہنچانے کا اقدام نہ کرے اس وقت تک تو اس کا نقصان خود اس کی ذات کو پہنچتا ہے کہ دوسرے کی نعمت کو دیکھ کر جلتا کڑھتا ہے۔ البتہ محسود کو اس کا نقصان اس وقت پہنچتا ہے جب وہ مقتضائے حسد پر عمل کرکے ایذا رسانی کی کوشش کرے اس لیے پہلی اور دوسری چیز میں یہ قیدیں لگادی گئیں۔
آپؐ نے فرمایا: لوگ اس وقت تک خیر و بھلائی پر رہیں گے جب تک ایک دوسرے سے حسد سے محفوظ رہیں گے۔ (طبرانی)
سیدنا زبیرؓ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’اگلی امتوں کی مہلک بیماری یعنی حسد اور بغض تمہاری طرف آرہی ہیں، یہ بالکل صفایا کردینے والی اور مونڈ دینے والی ہے۔ پھر نبیؐ نے اپنا مقصد واضح کرتے ہوئے فرمایا: میرے فرمانے کا مطلب یہ نہیں کہ یہ بالوں کو مونڈنے والی ہے، یہ بری خصلت و عادت دین کو مونڈ ڈالتی ہے اور بالکل صفایا کردیتی ہے۔
سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ کی خدمت میں حاضر تھے۔ آپؐ نے فرمایا: ابھی اس راستے سے تمہارے سامنے جنتی شخص داخل ہوگا۔ اتنے میں ہم نے دیکھا کہ ایک انصاری صحابی نمودار ہوئے، ان کے بائیں ہاتھ میں جوتے تھے اور ڈاڑھی سے پانی ٹپک رہا تھا۔ دوسرے دن بھی آپؐ نے اسی طرح ارشاد فرمایا اور وہ ہی صحابی سامنے آئے۔ تیسرے دن بھی اسی طرح کا واقعہ رونما ہوا۔ عبداللہ بن عمرو بن عاص نے اس بات کا کھوج لگانے کے لیے کہ اس انصاری صحابی کا وہ کون سا عمل ہے جس کی وجہ سے اللہ کے رسول نے تین دن لگاتار ان کے جنتی ہونے کی بشارت دی۔ اس صحابی کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ میرا اپنے والدین سے اختلاف ہوگیا ہے اور میں نے قسم کھائی ہے کہ میں تین دن تک ان کے پاس نہیں جائوں گا۔ آپ اجازت دیں کہ میں یہ تین دن آپ کے ساتھ بسر کرلوں (تاکہ ان کے بارے میں جان سکیں کہ وہ ایسا کون سا عمل کرتے ہیں)۔ انصاری صحابی نے اجازت دے دی۔ سیدنا عبداللہ تین دن ان کے ساتھ رہے اور انہوں نے ان کا کوئی ایسا بڑا عمل نہیں دیکھا یہاں تک کہ رات کو تھوڑی دیر کے لیے بھی نماز کی غرض سے نہیں جاگے البتہ اس تمام عرصے میں جب وہ ان کے ساتھ رہے ان کی زبان سے خیر کے سوا کچھ نہیں سنا۔ جب سیدنا عبداللہ کو ان کے اعمال کے معمولی ہونے کا یقین ہوگیا تو انہوں نے انصاری صحابی سے عرض کیا کہ میرا اپنے والدین سے کوئی اختلاف نہیں ہوا۔ میں نے تو آپ کے بارے میں رسول اللہؐ سے ایک بشارت سنی تو سوچاکہ میں آپ کے وہ اعمال دیکھوں جن کی بنیاد پر آپ کو دنیا ہی میں جنتی ہونے کی بشارت دی گئی لیکن میں نے ان تین دنوں میں آپ کو کوئی خاص عمل کرتے نہیں دیکھا۔ پھر آپ کو یہ درجہ کیسے مل گیا۔ انہوں نے جواب دیا۔ میرے اعمال تو بس یہی ہیں جو تم نے دیکھے تو سیدنا عبداللہ واپس جانے لگے تو انہوں نے پیچھے سے آواز دے کر انہیں بلایااور کہا ’’میں کسی سے اس لیے حسد نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے نعمت سے نوازا ہے اور نہ ہی کسی مسلمان کے لیے اپنے دل میں کوئی کدورت رکھتا ہوں جب یہ بات سیدنا عبداللہؓ نے سنی تو بے ساختہ کہا کہ یہی تو وہ خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس مقام تک پہنچایا ہے کہ دنیا ہی میں آپ کو جنت کی بشارت مل گئی۔
ایک روزہ ایک نیکی: حسد دراصل اللہ کی تقسیم پر ناپسندیدگی کا اظہار ہے۔ حسد وہ بیماری ہے جس نے سابقہ امتوں کے دین و ایمان کو برباد کیا، اس لیے آپؐ نے حسد سے منع کرتے ہوئے فرمایا: ’’حسد انسان کی نیکیوں کو جلا کر خاکستر کردیتا ہے‘‘۔