چئیرمین نیب بتائیں انہیں دھمکیاں کون دے رہا ہے،سراج الحق

129
اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں، میاں محمد اسلم اور شمس الرحمن سواتی بھی موجود ہیں
اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں، میاں محمد اسلم اور شمس الرحمن سواتی بھی موجود ہیں

اسلام آباد (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب بتائیں کہ انہیں کس نے تھریٹ دیا ہے ۔نیب کو غیر جانبداراور غیر سیاسی ہونا چاہیے ۔احتساب کے حوالے سے نیب کارویہ اب تک ناقابل فہم ہے ۔چیئرمین کے تقرر کا اختیار وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کے بجائے عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس اور چاروں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کے پاس ہونا چاہیے ۔حکومت زمین پر اور ڈالر آسمان پر ہے ۔معاشی نظام کو آئی ایم ایف کے کلرکوں اور پٹواریوں کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے ۔ایمنسٹی اسکیم بھی کرپٹ اشرافیہ کے لیے ہے ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے مرکز منصورہ لاہور سے جاری اعلامیے کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ چیئرمین نیب کا یہ انکشاف کہ انہیں دھمکیاں مل رہی ہیں، انتہائی تشویشناک معاملہ ہے ،عوام جاننا چاہتے ہیں کہ چیئرمین نیب کو کون دھمکیاں دے رہا ہے اور حکومت اس معاملے پر اب تک خاموش کیوں ہے ۔چیئرمین نیب کو واضح اور دوٹوک الفاظ میں بتانا چاہیے کہ انہیں کون ڈرا دھمکا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارا پہلے دن سے موقف ہے کہ نیب کو غیر جانبداری سے اپنا کام کرنا چاہیے مگر نیب نے خود ہی اپنے آپ کو متنازع بنا لیا ہے ۔ابھی تک بیرونی بینکوں میں پڑے پاکستان کے اربوں ڈالر کی واپسی کے لیے کوئی میکنزم نہیں بنایا گیا ،نیب کی فائلوں میں دبے ہوئے 150 کے قریب کرپشن کے میگا اسیکنڈلز کو نہیں کھولا گیا ۔اگرحقیقی معنوں میں احتساب ہوتا تو اب تک پاناما لیکس کے 436ملزم آزاد نہ پھر رہے ہوتے ۔ انہوں نے کہا کہ ایمنسٹی اسکیم کی آڑ میں جس طرح سابق حکومتیں ناجائز دولت بنانے والوں کے کالے دھن کو سفید کرتی اور مجرموں کو ریلیف دیتی رہی ہیں اسی طرح موجودہ حکمران جو بے لاگ اور کڑے احتساب کے نام پر اقتدار میں آئے تھے کرپٹ بددیانت اور قومی امانتوں میں خیانت کرنے والوں کو ریلیف دے رہے ہیں ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ڈالر کو ہیروں کا تاج پہنانے اور روپے کی قدر کو خاک میں ملانے والے کسی طرح بھی ملک و قوم کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے ۔پاکستانی روپے کی قدر جنوبی ایشیا میں سب سے کم ہوگئی ہے ،کئی دہائیوں سے جنگ میں مبتلا افغانستان کی افغانی اور بنگلادیشی ٹکا بھی اب پاکستانی روپے کے سامنے اکڑ کر چلتے ہیں ۔ پاکستانی روپے کی قدر ’’ٹکے‘‘کے برابر نہیں رہی بلکہ مالدیپ کی کرنسی سے بھی نیچے کی سطح پر پہنچ گئی ہے اور حکمران بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت بھی اب عام لوگوں کی طرح اخبارپڑھ کراور ٹی وی دیکھ کر روپے کی قدر معلوم کرتی ہے ،انہوں نے کہا کہ اتنی بے قدری اور بے توقیر ی کے بعد روپیہ بھی سوچ رہا ہے کہ وہ کن دشمنوں کے ہتھے چڑھ گیا ہے ۔