امپورٹڈ ایم ڈی وسیم خان کو چئیرمین پی سی بی نے اپنے اختیارات منتقل کردیے

31

کراچی (سید وزیر علی قادری) پاکستان میں تبدیلی کی لہر قومی کرکٹ بورڈ میں بھی نمودار ہوگئی، پی سی بی گورننگ بورڈ کے اکثریتی ممبران نے پی سی بی چیئرمین کے اختیارات ایم ڈی کو منتقل کر دیے، سرمایہ کاری پالیسی میں تبدیلی اور 2017-18ء کے آڈٹ شدہ اکائونٹس کی منظوری دیدی۔ منظوری دینے والے ممبران میں چیئرمین پی سی بی احسان مانی، ارشد علی خان، لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین، کبیر احمد خان، محمد ایاز بٹ اور محمد شاہریز عبداللہ خان شامل تھے۔ اعلامیہ کے مطابق پی سی بی نے باقاعدہ گورننگ بورڈ کا اجلاس بلانے کے بجائے بورڈ آف گورنرز کے ممبران کی اکثریت سے سرکولیشن ریزولیشن کے ذریعے مذکورہ معاملات کی منظوری لی گئی، اسطرح بورڈ آف گورنرز کی منظوری سے پی سی بی چیئرمین احسان مانی کے اہم اختیارات جس میں کپتان، کوچز، سلیکٹرز اور دیگر اہم تقرریاں شامل ہیں فائز منیجنگ ڈائریکٹر وسیم خان کو منتقل ہوگئے اور اب ایم ڈی مذکورہ تمام عہدوں کے بارے میں خود فیصلے کرسکیں گے۔ احسان مانی کی حیثیت ڈمی چیف کی ہوگی۔ واضح رہے 2014 میں بورڈ آف گورنرز نے یہ تمام اختیارات اس وقت کے چئیرمین نجم سیٹھی کو چیئرمین ایگزیکٹو بورڈ کی حیثیت سے دیے تھے۔ بی او جی کے پاس اختیارات منتقل کرنے کا آئینی حق ہے۔ واضح رہے کہ پی سی بی کے چیئرمین نے کوئٹہ میں گورننگ بورڈ کا اجلاس طلب کیا تھا لیکن بورڈ کے متعدد ارکان نے پی سی بی کے ایجنڈے سے اتفاق نہیں کیا تھا جس میں اہم نکتہ مینجنگ ڈائریکٹر کا عہدہ متعارف کراکر وسیم خان کو تقویض کیا گیا تھا۔ متعدد اراکین نے ایم ڈی کی تقرری کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور ہنگامہ آرائی کے بعد یہ معاملہ التواء کا شکار ہوگیا تھا۔ پی سی بی میں بغاوت کرنے والے گورننگ بورڈ کے رکن نعمان بٹ کو معطل کردیا گیا تھا جبکہ دیگر اراکین نے اپنے فیصلے پر یوٹرن لیتے ہوئے پی سی بی کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد پی سی بی بورڈ آف گورنرز کے اکثریتی اراکین سے سرکو لیشن ریزولوشن کے ذریعے ایم ڈی کی حیثیت کو بھی تسلیم کر والیا گیا۔دریں اثنا پی سی بی میں ایک اہم عہدہ پر فائض رہنے والی شخصیت نے اس اقدام کو خلاف آئین قرار دیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے منظور نظر پی سی بی چئیرمین کو حکومت کی اہم شخصیت کے کہنے پر ہنگامی طور پر یہ فیصلہ کرایا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے پاکستان کرکٹ بورڈ کو آئین میں ترمیم کرنی چائیے تھی اور اس کے بعد کوئی بھی فیصلہ قابل قبول سمجھا جاتا۔ ذرائع کے مطابق ان فیصلوں کی میڈیا میں رات کو تاخیر سے آگاہ کرنے کا مقصد یہ ہی تھا کہ کوئی ایسا ردعمل سامنے نہ آجائے جس سے عجلت میں کیے گئے فیصلوں کو چیلنج کردیا جائے اور نئی بحث چھڑ جائے۔