سستے رمضان بازار عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہوئے، امیر العظیم

90

 

لاہور (وقائع نگار خصوصی) سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان اور امیر جماعت اسلامی صوبہ وسطی پنجاب امیر العظیم نے کہا ہے کہ سستے رمضان بازار عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہو ئے ہیں۔ 11 کروڑ کی آبادی والے صوبے میں صرف تین سو سستے بازاروں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے، جبکہ اشیا خورونوش کا میعار بھی انتہائی ناقص ہے۔ عوام پریشان اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مختلف عوامی وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے ملک میں مہنگائی کا طوفان برپا کردیا ہے۔ دالیں، چاول، چینی، گوشت، سبزیاں اور مصالحہ جات کی قیمتوں میں کئی گنا اضافے سے غریب عوام کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ حکومتی ادارہ شماریات کے مطابق ایک ماہ کے دوران 120 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جوکہ پی ٹی آئی حکومت کی ناقص کارکردگی اور عوام دشمن پالیسیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کو 9 ماہ ہوچکے ہیں مگر لوگوں کو حقیقی ریلیف نہیں ملا۔ موجودہ حکومت نااہلی میں سابقہ حکومتوں کو بھی پیچھے چھوڑ چکی ہے۔ بجٹ خسارہ بڑ ھنے اور قرضوں پر لگنے والے سود کو ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لیے جارہے ہیں۔ معاشی لحاظ سے ملک کمزور سے کمزور تر ہوتا چلا جارہا ہے۔ آج کا پاکستان شدید معاشی بدحالی کے گرداب میں پھنس چکا ہے۔ حکمرانوں کے بلند و بانگ دعوے ایک ایک کرکے ریت کی دیوار ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ حکومتی مذاکرات کو منظر عام پر لایا جائے۔ آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر کبھی خود مختار معاشی پالیسی نہیں بن سکتی۔ ملک میں مسائل کے انبار لگے ہیں جبکہ حکمران مسائل کے حل پر توجہ دینے کے بجائے ڈنگ ٹپائو اور دکھاوے کے اقدامات کررہے ہیں۔ محض قرضوں پر انحصار کرکے ترقی نہیں کی جاسکتی۔ امیر العظیم نے مزید کہا کہ ملک میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والا شخص پریشان ہے۔ پورا ملک ہی کرپٹ اور کمیشن مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں نے رمضان کا تقدس بھی پامال کر کے رکھ دیا ہے۔