مندروں اور دیگر مذہبی عمارتوں پر قبضے ختم کروانے سے متعلق اجلاس

38

ٹنڈوالہٰیار (نمائندہ جسارت) ڈپٹی کمشنر عمرکوٹ ندیم الرحمن میمن نے عدالت عظمیٰ کے دیے گئے احکامات کی روشنی میں ہندو کمیونٹی کے لوگوں کی زرعی زمینوں، کمرشل پلاٹوں، مندروں اور دیگر مذہبی عمارتوں پر قبضے ختم کروانے سے متعلق ریونیو افسران سے ڈپٹی کمشنر آفس میں اجلا س طلب کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع عمرکوٹ میں ہندو کمیونٹی کے لوگوں کی زرعی زمینوں، کمرشل پلاٹوں، مندروں اور دیگر مذہبی عمارتوں پر کیے گئے قبضوں کو فوری طور پر ختم کروانے کے لیے فوری قانونی کارروائی اور اقدامات کیے جائیں اور ان کی ایک واضح رپورٹ پیش کی جائے۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر عمرکوٹ جھامن داس سونی نے اجلاس کو بتایا کہ تعلقہ عمرکوٹ کی کل 6 درخواستیں وصول ہوئی ہیں، جس کی سرزمین کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کی جائے گی جبکہ تعلقہ پتھورو اور تعلقہ سامارو کے اسسٹنٹ کمشنر نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ تعلقہ پتھورو کی ایک اور تعلقہ سامارو کی دو درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے تینوں تعلقوں کے مختاروں کو ہدایت دی کہ آپ ان درخواستوں کا فوری طور پر جائزہ لے کر قبضہ مافیا سے قبضے ختم کروائے جائیں اور ان کی رپورٹ جلد سے جلد کورٹ میں جمع کروائی جائے۔ بعد ازاں آپ نے ضلع عمرکوٹ کے تعلقہ کنری میں ایڈز کے رجسٹرڈ کیے گئے کیس کا جائزہ لینے کے متعلق اجلاس کی صدارت کی۔ انہوں نے کہا کہ ضلع میں ایڈ ز کو کنٹرول کرنے سے متعلق ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر عمرکوٹ، تمام این جی اوز اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو ہدایت کی کہ ایڈز ایک خطرناک موذی مرض ہے، جس کے کنٹرول کرنے کے لیے چاروں تعلقوں کی اسپتالوں میں ایڈز کنٹرول یونٹ قائم کیے جائیں اور خصوصی طور پر تعلقہ کنری میں اسکریننگ کی جائے اورایڈز کنٹرول کمیٹی کو مزید فعال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایڈز کے کنٹرول کے لیے تمام این جی اوز اور سول سوسائٹی کے نمائندے اپنا بھرپور کردار ادا کرکے آگاہی مہم چلائیں۔ اس موقع پر انہوں نے چاروں تعلقوں کے اسسٹنٹ کمشنر اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرکو ہدایت کی کہ اتائی ڈاکٹروں کی کلینکوں، غیر رجسٹرڈ لیبارٹریوں اور بلڈ بینک کو فوری طور پر سیل کرکے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور جلد سے جلد اس کی رپورٹ ڈپٹی کمشنر آفس میں ارسال کی جائے۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ون حق نواز شر، چاروں تعلقوں کے اسسٹنٹ کمشنر، ایم ایس ایز، تمام این جی اوز اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔