زرعی زمین سے قبضہ واگزار کروایا جائے، بیوہ خاتون کا مطالبہ

34

میرپور خاص (نمائندہ جسارت) بااثر افراد نے بیوہ عورت کی زمین پر قبضہ کر کے پھل دار درخت کاٹ ڈالے، زمین کا پانی بند کر کے زمین فروخت کرنے کے لیے دبائو، زرعی زمین پر جانے والے راستوں پر اسلحہ بردار افراد کے پہرے لگا دیے۔ پولیس نے پُراسرار مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ بیوہ خاتون کا اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔ عمرکوٹ کے علاقے شیوانی پاڑے کی رہائشی شریمتی پاروتی نے میرپورخاص میں صحافیوں کو بتایا کہ میری زرعی زمین 60 ایکڑ دیھ ماکیارو ماندل شاخ پر واقع ہے جس پر آم، چیکو، امرود، بیر، کھجی، لیموں اور دیگر پھل دار درخت تھے اور زمین پر گندم کی فصل کھڑی تھی جس پر علاقے کے راجڑ برادری کے بااثر افراد علی اکبر راجڑ، اسد علی، عبدالستار راجڑ، نظام راجڑ، سائیں داد راجڑ اور دیگر نے زبردستی قبضہ کر کے پھل دار درخت اور گندم کاٹ لی اور زمین پر قبضہ کر لیا ہے جبکہ زمین کا پانی بند کر دیا ہے اور زمین کے اطراف جانے والے راستوں پر مسلح افراد کو بٹھا دیا ہے اور اب میری قیمتی زرعی زمین من مانی قیمت پر خریدنا چاہتے ہیں شریمتی پاروتی نے بتایا کہ قبضہ کرنے والے افراد کو حکومتی سر پرستی حاصل ہے جس کی وجہ سے پولیس بھی ہماری فریاد سننے کے لیے تیار نہیں ہے اور میرا تعلق اقلیتی برادری سے ہے اور میں غریب ہوں میں نے سب کے پاس جا کر فریاد کی لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ، وزیر اعظم، چیف آف آرمی اسٹاف، اقلیتی امور کے صوبائی وزیر، ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ اور دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ میں بیوہ عورت ہوں میری مدد کی جائے اور میری زمین واگزار کروا کر مجھے واپس دلوائی جائے اور میری زمین پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔