بجلی کی بندش نے روزہ داروںکی زندگی اجیرن بنادی، محمد عابد قادری

55

حیدر آباد (اسٹاف رپورٹر)پاکستان سنی تحریک کے ضلعی کنوینر محمد عابد قادری واراکین ضلعی کمیٹی محمد شفیق مئیو ، سید ساجد علی کاظمی، بچل بلو چ سلطا نی نے حکومت کی جانب سے ماہ رمضان المبارک کے دوران بجلی کی لوڈشیڈنگ کم سے کم کرنے سے متعلق تمام تردعوئوں کو جھوٹ کا پلندہ اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان المبارک کے مقدس ایام میں شدید گرمی میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ اور بجلی کی آنکھ مچولی بالخصوص سحرو افطار اورتراویح کے اوقات میں بجلی کی بندش نے روزہ داروںکی زندگی اجیرن بنادی ہے ۔انہوں نے کہاکہ بجلی کی بار بار بندش کے باعث پینے کے پانی کی بھی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے اور روزہ دار بجلی کے انتظار میں تمام دن تڑپتے رہتے ہیں جبکہ پانی نہ ہونے کے سبب نمازی تیمم کر کے نمازادا کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوںنے کہا کہ حیسکوانتظامیہ کی جانب سے کئی کئی گھنٹے غیر اعلانیہ بجلی بندکرکے شہریوں کو اذیت سے دوچار کیا جا رہاہے جبکہ ریکوری کے نام پر ٹرانسفرمر اتارکر گھروں سے ہزاروں روپے وصول کیے جارہے ہیں جس سے بجلی کے بل باقاعدگی سے ادا کرنے والے صارفین کی حق تلفی ہو رہی ہے ۔شہر کے کئی علاقوں میں ٹرانسفارمرز جلنے اور ریکوری کے نام پر ٹرانسفارمرز اتارے جانے کی وجہ سے کئی مساجد کی بجلی ایک ہفتے سے بند ہے جہاں رمضان المباک کے مہینے میں نمازیوں کو سخت مشکلات کا سامنا کر نا پڑ رہاہے جبکہ منتخب نمائندے ،ایم این اے ،ایم پی اے ،یوسی چیئرمین اور کرنسلر زکہیں دکھائی نہیں دیتے یہی وجہ ہے کہ حیسکو میں اندھیر نگری چوپٹ راج کا اصول رائج ہے ،انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے عوام پر پانی اور بجلی بند کر کے اسلامی ملک میں فرائض کی ادائیگی سے مسلمانوں کو محروم کیا جارہا ہے جبکہ انسانی حقوق کے ادارے اس انسانی حقوق کی کھلی پامالی پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان اورچیف آف آرمی اسٹاف سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے حیسکو کے مظالم سے حیدرآباد کے عوام کو نجات دلائیں اور ماہ رمضان المبارک کے دوران مساجد کو لوڈ شیڈنگ سے مستثنا قرار دیا جائے ۔