خیرپور ، تجاوزات میں اضافہ ، فٹ پاتھ پر پتھارے قائم ، بد ترین ٹریفک جام

29

 

خیرپور (نمائندہ جسارت) خیرپور میں تجاوزات میں اضافہ، فٹ پاتھ پر دکانداروں کے پتھارے قائم، ٹریفک جام، پیدل چلنا دشوار، انسداد تجاوزات کا عملہ مبینہ مٹھی گرم کرنے میں مصروف، ٹریفک جام ہونے سے مریضوں کو اسپتال و دیگر مقام پر لے جانے والی اسپتال ایمبولینسوں کا پھنسے رہنا معمول بن گیا۔ اسکول، کالج، یونیورسٹیزو دفاتر جانے والوں کو مشکلات درپیش، انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، شہری۔ خیرپورکے شہریوں، سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والوں ثمر عباس وارثی، عاشر مختار رند، رمضان قادری، عبدالستار لاشاری، عابد مغل، صدورو لاشاری، الطاف کٹوہر، ارشد شیخ، ذوالفقار علی سومرو سمیت دیگر کا کہنا تھاکہ خیرپور شہر انتظامیہ اور عوامی نمائندگان کی عدم توجہ کے سبب کھنڈر میں تبدیل ہوتا جارہا ہے، صحت و صفائی نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ تجاوزات کی بھر مار کے باعث شہر بھر کے اہم مقامات سول اسپتال چوک، اپوا گرلز ہائر سیکنڈری اسکول نظامانی، گرلز ہائی اسکول سٹی، کراچی روڈ، پنج ہٹی، سٹی اسپتال، لیڈی ولنگٹن اسپتال۔ پنج گولہ فاروق اعظم چوک، ریلوے پھاٹک لقمان روڈ، سکھ پل، کورٹ روڈ، انبار محلہ، سوئی گیس دفتر روڈ، خاکی شاہ پل، نیشنل بنک لقمان پھاٹک، سوک سینٹر، مریم توپ چوک، شاہی بازار، حیدری بازار، نیشنل بینک اے ایس پی سٹی دفتر، اسٹیشن روڈ نیم موڑ فرنیچر مارکیٹ، مال روڈ، سی آئی ڈی موڑ سمیت دیگر عوامی مقامات پر تجاوزات کے قائم ہونے سے شہریوں کا پیدل چلنا اذیت ناک ہوگیا ہے، خواتین نے تجاوزات کی بھرمار کی وجہ سے ٹریفک جام ہونے کی تکلیف کا سامنا کرنے سے نجات کے لیے بازاروں سے خریداری ترک کردی ہے کیوںکہ منٹوں کا سفر گھنٹوں میں ہوگا تو کون سا آدمی تکلیف کو برداشت کرتے ہوئے شہر سے خریداری کرے گا۔ چنگ چی، سی این جی رکشے کے غیر تربیت یافتہ ڈرائیوروں نے سڑکوں اور دکانداروں، پتھارے داروں نے فٹ پاتھوں پر قبضے کرکے عام شہریوں کا پیدل چلنا مشکل بنادیا ہے، کئی اوقات پر ٹریفک جام ہونے اور فٹ پاتھوں پر قبضوں کی وجہ سے پیدل چلنے والی خواتین کو حادثات کا سامنا کرنا پڑا ہے، شکایت کا ازالہ نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کی دکانداروں رکشہ والوں سے تلخ کلامی کے واقعات میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ خواتین نے بھی بتایا کہ تجارتی مراکز، بازاروں میں تجاوزات کی وجہ سے رش معمول بن گیا ہے، خریداری کے لیے وہاں جانا عزت دار کے لیے مناسب نہیں ہوتا، اس لیے انہوں نے اکیلے جاکر خریداری بند کردی ہے۔ خواتین کی آواز سننے والا کوئی نہیں ہے، ٹریفک پولیس، میونسپل کمیٹی انتظامیہ اور ریونیو انسداد تجاوزات والے بھی خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں اور تجاوزات قائم کرنے والوں سے مبینہ مٹھی گرم کرنے میں مصروف رہتے ہیں، جس کے باعث شہر کو کوئی علاقہ ایسا نہیں جہاں تجاوزات مافیا سرگرم نہ ہو۔ شہریوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ، وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر بلدیات آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر سے مطالبہ کیا ہے کہ خیرپور شہر بھر سے تجاوزات کا خاتمہ کرکے شہریوں کو درپیش مسائل سے نجات دلائی جائے۔ واضح رہے کہ خیرپور میونسپل کمیٹی کے اراکین منتخب 25 کونسلروں نے بھی چیئرمین میونسپل کمیٹی، چیف میونسپل آفیسر سمیت میونسپل کمیٹی انتظامیہ کے شعبہ صفائی ستھرائی، اسٹریٹ لائٹس اور انسداد تجاوزات کی کارکردگی صفر ظاہر کرتے ہوئے شہر کی حالت موہن جو دڑو بنانے اور تجاوزات کی وجہ سے شہریوں کو درپیش تکلیف سے نجات دلانے کا مطالبہ بھی کرچکے ہیں جو تاحال جوں کے توں پڑے ہیں۔ کونسلروں نے بھی چیف سیکرٹری سندھ، محکمہ ریونیو کے اعلیٰ افسران، وزیر بلدیات سے مطالبہ کیا ہے کہ خیرپور کی ابتر حالت کو بہتر بنانے اور تجاوزات قائم کرنے والی مافیا کیخلاف ایکشن لے کر شہر کے حسن کو نکھارا جائے اور عوام کو درپیش مشکلات سے چھٹکارا دلوایا جائے۔