لگتا ہے نیب ملزمان سے ملاہوا ہے،چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کا اظہار برہمی

58

کراچی(آن لائن) سندھ ہائی کورٹ نے ایک بار نیب حکام کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے آپ بھی ملزمان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں شفقت علی شاہ، حمیداللہ اور دیگر ملزمان کے خلاف نیب انکوائری سے متعلق کیسز کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے ڈائریکٹر نیب کراچی پربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ نے ملزمان کے خلاف اب تک کیا کارروائی کی؟کیس کے تفتیشی افسر عدالت کو جواب دینے میں ناکام رہے۔اس موقع پر عدالت نے تفتیشی افسر کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اگر ملزمان نے بینک اکاؤنٹس خالی کردیے تو آپ نے ان کی جایداد نیلام کیوں نہیں کی،لگتا ہے آپ بھی ملزمان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔عدالت نے تفتیشی افسر کے جواب نہ دینے پر ڈائریکٹر نیب کراچی شہزاد امتیاز کو روسٹرم پر طلب کیا اور استفسار کیا کہ آپ جو ملزمان کو کال اَپ نوٹس بھیجتے ہیں وہ کون بناتا ہے؟آپ کوبنانا آتاہے؟جس پر نیب ڈائریکٹر شہزاد امتیاز نے عدالت کو بتایا کہ کال اَپ نوٹس تفتیشی افسر بناتا ہے۔ عدالت نے نیب ڈائریکٹر شہزاد امتیاز کے کال اَپ نوٹس نہ بنانے پر حیرانی کا اظہار کیا۔عدالت نے نیب ڈائریکٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سولہ سال سے نیب میں کام کررہے ہیں اور اپنی کارکردگی دیکھیں۔بعد ازاں عدالت نے کمرہ عدالت میں نیب کے ڈائریکٹر سے کال اَپ نوٹس بنانے کی ہدایت کی اور حکم دیا کہ ہمیں آپ کراچی کا ایک کوئی بھی کال اَپ نوٹس دکھائیں جس میں ملزم کے خلاف تمام الزامات ہوں۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 23 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر نیب تیاری کے ساتھ عدالت آئے۔