کمزور بولنگ نے اچھے اسکور کا دفاع بھی نہ کیا

102

انگلینڈ کے خلاف تین ایک روزہ میچ اور ایک ٹی 20 کے بعد یہ تجزیہ درست ثابت ہو گیا کہ پاکستانی اسکواڈ میں بولنگ کمزور ہے اور میچ وننگ بیٹسمین نہیں ہیں ۔ روزنامہ جسارت کی اشاعت میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ جو ٹیم انگلینڈ بھیجی گئی ہے کہ اس میںبولنگ کمزور ہے اور وہاب ریاض اور عامر کو ورلڈ کپ کے لیے شام کرنا ہو گا ۔ اسی طرح بیٹنگ میں بھی یہی صورتحال ہے ۔ کوئی بیٹسمین ٹیم کو منجھدھار سے نکال کر کامیابی تک پہنچانے کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔ پر فارمنس کے اعتبار سے فی 20 ٹوینٹی میں 173 رنز بنانا اچھی بیٹنگ تھی لیکن یہاں بولنگ مکمل ناکام رہی اسی طرح ایک روزہ میچ میں 374 کے تعاقب میں بیٹسمین 362 تک ہی پہنچ سکے ۔ ٹیم کو جتوانے ولے بیٹسین ہوتے تو 12 رنز کا فرق نہ رہتا ۔ اسی طرح تیسرے ون ڈے میں برسٹل کے گرائونڈ میں پاکستان نے 358 رنز بنائے جو اس گرائونڈ کا پہلا سب سے بڑا اسکور ہے ۔ لیکن بولرز اس بھاری اسکور پر بھی میچ نہ بچا سکے ۔ ورلڈ کپ اسکواڈ میں اگر وہاب ریاض، محمد عامر اور عمر اکمل کو شامل نہ کیا یا تو مکی آرتھر اور ٹیم انتظامیہ پوزیشن کے آخری چار ٹیموں میں شامل ہونے کے دعوے بے کار ثابت ہوں گے ۔