راؤانوار کا نام ای سی ایل سے نکالنے کیلیے دوبارہ درخواست دائر کرنیکا حکم

99

اسلام آباد (آن لائن) عدالت عظمیٰ نے نقیب اللہ محسود قتل کیس کے مرکزی ملزم راؤ انوار کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کے لیے نظر ثانی درخواست عدالتی فیصلے کیساتھ دوبارہ دائر کرنے کا حکم دے دیا ہے جبکہ جسٹس عمر عطاء بندیال نے دوران سماعت ریمارکس دیے ہیں کہ اس نوعیت کے متعدد کیسز ہیں، ہم اس کیس کو نہیں دیکھ رہے۔ جمعرات کو جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے 3 رکنی بینچ نے سابق ایس ایس پی ملیر کراچی راؤ انوار کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ راؤ انوار کے وکیل ملک نعیم اقبال نے مؤقف اختیار کیا کہ نقیب اللہ محسود کے قتل کا نوٹس عدالت نے لیا تھا، راؤ انوار عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت نے انہیں ضمانت دی تھی لیکن بعد میں راؤ انوار کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا تھا۔جسٹس عمر عطا ء بندیال نے راؤ انوار کے وکیل سے مکالمے کے دوران ریمارکس دیے کہ آپ کہتے ہیں کہ ضمانت پر ہیں تو نام ای سی ایل سے بھی نکالا جائے، ای سی ایل سے نام نکلوانے کا ایک طریقہ ہے،آپ پولیس آفیسر ہیں تو بیرون ملک کیوں جانا چاہتے ہیں، کیا آپ کا کاروبار ہے بیرون ملک؟، جس پر ملک نعیم اقبال نے بتایا کہ ان کے موکل کا خاندان بیرون ملک مقیم ہے، انہیں فیملی سے ملنے کے لیے جانا ہے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ کیا راؤ انوار پر کوئی اور ایف آئی آریا انکوائری چل رہی ہے ؟، جس پر ملک نعیم اقبال نے بتایا کہ 444 لوگوں کے ماورائے عدالت قتل کے حوالے سے بہت سی چیزیں چل رہی ہیں۔ جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ اخباروں میں تو آتا ہے کہ راؤ انوار پر مزید انکوائریاں ہیں، جس پر نقیب اللہ کے والد کے وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ راؤ انوار کے خلاف نیب میں اثاثوں سے متعلق انکوائری جاری ہے، جس پر جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیے کہ اس نوعیت کے تو بہت سے کیسز ہیں، ہم اس کیس کو نہیں دیکھ رہے۔ عدالت عظمیٰ نے راؤ انوار کو نظر ثانی درخواست عدالتی فیصلے کے ساتھ دوبارہ دائر کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔