ماہ رمضان ہم سے کیا چاہتا ہے؟

82

 

رمضان کریم ایک ایسا مبارک اور رحمتوں والا مہینہ ہے جس کا انتظار اور استقبال ایک عام مسلمان ہی نہیں، خاتم النبیینؐ جن پر ہمارے والدین قربان ہوں، خصوصی عبادات کے ذریعے فرمایا کرتے تھے۔ سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ آپؐ شعبان ہی سے اس ماہ کے لیے کمرکس لیا کرتے تھے لیکن رحمت للعالمینؐ کا اپنی اْمت کی آسانی کے لیے یہ خصوصی اظہارِمحبت تھا کہ، گو خود تمام شعبان روزہ رکھتے لیکن اْمت کو آخری دو ہفتوں کی رخصت دے کر صرف شعبان کے اوّلین حصے میں روزہ رکھنے کی تلقین فرماتے۔ اسی بنا پر نصف شعبان کا روزہ افضل ہے اور اوّلین دو ہفتوں میں روزے رکھنا سنت کی پیروی ہے۔
اس مہینے کی اہمیت اور اس کے انقلابی اثرات کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے آپؐ نے فرمایا کہ ایک بڑی عظمت والا بڑی برکت والا مہینہ قریب آگیا ہے جس کی ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اس میں روزہ رکھنا فرض کردیا گیا ہے اور راتوں میں تراویح پڑھنا نفل (یعنی سنت) ہے۔ اس ماہ میں ایک فرض کا ادا کرنا دوسرے کسی مہینے کے 70 فرض ادا کرنے کے برابر ہے۔ یہ مہینہ مواساۃ، یعنی ہمدردی کرنے والا مہینہ ہے۔
جس نے ایمان و احتساب کے ساتھ اس ماہ میں روزہ رکھا تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس کے سابقہ گناہ معاف فرما دے گا۔ اس کا پہلا عشرہ رحمت کا دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرا عشرہ جہنم کی آگ سے نجات کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر باشعور مسلمان مرد، عورت اور بچہ اس ماہ میں خصوصی اہتمام کے ساتھ تلاوتِ قرآن، وقت پر نمازوں کا اہتمام، صدقات و خیرات اور غربا و مساکین کی امداد کرنے میں مسابقت کرتا ہے۔ اس کی برکتیں اَن گنت، اس کے انعامات غیرمحدود اور اس کی لذت اپنی مثال آپ ہے۔
تقریباً 1500 سال قبل جب پہلی مرتبہ رمضان کا مہینہ اپنی رحمتوں کے ساتھ خاتم النبیینؐ اور آپ کے اصحاب پر سایہ فگن ہوا تو ابھی 17 دن بھی نہ گزرے تھے کہ اْمت مسلمہ کو ایک ایسی جنگ کا سامنا کرنا پڑا جو اس کے وجود کو ختم کرنے کی خاطر نظامِ کفر واستیصال کی طرف سے اس پر مسلط کی گئی تھی۔ آج جدید جاہلیت پر مبنی تہذیب اور اس کے سرمایہ دار قائد اْمت مسلمہ کے خلاف اپنی جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ نبرد آزما ہیں۔ جس طرح اس وقت اصحابِ رسولؐ میں سے کسی کے پاس نیزہ تھا تو تلوار نہ تھی، تلوار تھی تو ڈھال نہ تھی، خَود تھا تو زرہ نہ تھی، اسی طرح آج بھی اْمت مسلمہ جنگی آلات کے لحاظ سے کمتر مقام رکھتی ہے۔ لیکن جس چیز نے قرن اوّل میں اْمت مسلمہ کو فتح مند کیا تھا، وہ اس کی اسلحہ میں برتری نہ تھی، بلکہ اس کا وہ کردار و تقویٰ تھا جس کی تیاری میں اسے 13 سال آزمایشوں کی دہکتی بھٹیوں سے گزرنا پڑا تھا۔ اللہ کے یہ چند بندے اپنے کْند بھالوں کے باوجود ایمان کی غیرمحدود قوت، کردار کی عظمت، خلوص کی کثرت اور رب کریم سے اپنے تعلق کی فراوانی کی بنا پر اپنے سے تین گنا زیادہ تعداد اور 10 گنا زیادہ مسلح قوت سے نہ صرف ٹکرلینے بلکہ آخرکار اس قوت کو توڑنے اور شکست دینے کی نیت سے نکلے تھے۔ ان کے رب نے ان کو وہ عزم دیا تھا جو غیرمتزلزل ہو اور ایسی استقامت دی تھی جو فتح و کامرانی کا پیش خیمہ ہو۔
آج اس پْرآشوب دور میں اس برکتوں والے مہینے کے ذریعے ہمیں اولاً اپنے آپ کو باطل کی تمام محکومیوں سے نکال کر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی بندگی میں دینا ہوگا۔ یہ بندگی کامیابی کے لیے شرطِ اول کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہمیں خاتم النبیینؐ کے اسوہ کو اپنا رہنما بنانا ہوگا کہ بہترین اسوہ اور بہترین قابلِ عمل نمونہ اگر کوئی ہے تو وہ صرف آپؐ کی حیاتِ مبارکہ ہے۔ اس کے ساتھ ہمیں دشمن کی حکمت عملی اور منصوبوں کو بھی سمجھنا ہوگا کہ کس کس راستے سے وہ ہم پر حملہ آور ہورہا ہے۔ دشمن کی جنگی حکمت عملی کا اوّلین نکتہ اْمت مسلمہ کو ثقافتی، ابلاغی اور برقی اتصالات (ذرائع ابلاغ) کے ذریعے مغلوب کرنا ہے۔
مغرب کی ثقافتی یلغار کا ایک بڑا ذریعہ جدید اتصالات ہیں، چنانچہ فیس بک (facebook) اور یوٹیوب (youtube) کے ذریعے نوجوانوں کے ذہنوں کو دین سے دْور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس ماہِ مبارک میں قرآن کریم کی دعوت کے ذریعے نوجوانوں میں دینی شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے وقت کا صحیح استعمال کرنا سیکھیں، لہو ولعب میں ضائع نہ کریں۔ اسلامی معلومات کو برقی میڈیا سے دل نشیں انداز سے پیش کیا جائے۔ یہ مہینہ جو قرآن کا مہینہ ہے اس میں قرآن کریم کے بہت سے پہلو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عام کیے جاسکتے ہیں، مثلاً سابقہ اقوام کے قصے اور کائنات کے حوالے سے قرآن کریم کے دلائل۔
اْمت مسلمہ کو درپیش مسائل میں سے ایک بنیادی مسئلہ فرقہ بندی نیز علاقائی اور قومی عصبیتوں کا اْبھارا جانا ہے تاکہ اْمت مسلمہ اتحاد سے محروم رہے۔ قرآن کریم نے اْمت مسلمہ کو ایک بنیان مرصوص سے تعبیر کیا تھا، جب کہ مغرب کی لادینی فکری یلغار اسے الگ الگ قومیتوں میں تقسیم دیکھنا چاہتی ہے۔ یہ مہینہ اتفاق واتحاد کا مہینہ ہے۔ اس میں دلوں کے اتحاد کی بنیاد قرآن کریم ہے۔ اس ماہ میں ہر ہر محلے میں حلقہ ہاے مطالعہ قرآن کا قائم کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ عصبیت لسانی ہو یا نسلی، ان سب کا علاج صرف اس کلامِ عزیز پر جمع ہوجانا ہے۔
یہ مہینہ زندگی میں اعتدال اور توازن پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ حکم ہے کہ بغیر سحری روزہ نہ رکھا جائے اور نہ سحری اتنی زیادہ ہو کہ دن میں ایک روزے دار پریشان رہے۔ ایسے ہی افطار میں توازن ہو اور بجاے اپنے اْوپر اسراف کرنے کے اہلِ محلہ، غریبوں، مسکینوں، قرض داروں، غرض ان تمام افراد پر خرچ کیا جائے جو مسائل کا شکار ہوں۔ لیکن اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہو یا کسی کی مشکل کا دْور کرنا، ہر معاملے میں متوازن رویہ اختیار کرنا ہی رمضان کا پیغام ہے۔
ماہ رمضان ہم سے کیا چاہتا ہے؟

رمضان کریم ایک ایسا مبارک اور رحمتوں والا مہینہ ہے جس کا انتظار اور استقبال ایک عام مسلمان ہی نہیں، خاتم النبیینؐ جن پر ہمارے والدین قربان ہوں، خصوصی عبادات کے ذریعے فرمایا کرتے تھے۔ سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ آپؐ شعبان ہی سے اس ماہ کے لیے کمرکس لیا کرتے تھے لیکن رحمت للعالمینؐ کا اپنی اْمت کی آسانی کے لیے یہ خصوصی اظہارِمحبت تھا کہ، گو خود تمام شعبان روزہ رکھتے لیکن اْمت کو آخری دو ہفتوں کی رخصت دے کر صرف شعبان کے اوّلین حصے میں روزہ رکھنے کی تلقین فرماتے۔ اسی بنا پر نصف شعبان کا روزہ افضل ہے اور اوّلین دو ہفتوں میں روزے رکھنا سنت کی پیروی ہے۔
اس مہینے کی اہمیت اور اس کے انقلابی اثرات کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے آپؐ نے فرمایا کہ ایک بڑی عظمت والا بڑی برکت والا مہینہ قریب آگیا ہے جس کی ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اس میں روزہ رکھنا فرض کردیا گیا ہے اور راتوں میں تراویح پڑھنا نفل (یعنی سنت) ہے۔ اس ماہ میں ایک فرض کا ادا کرنا دوسرے کسی مہینے کے 70 فرض ادا کرنے کے برابر ہے۔ یہ مہینہ مواساۃ، یعنی ہمدردی کرنے والا مہینہ ہے۔
جس نے ایمان و احتساب کے ساتھ اس ماہ میں روزہ رکھا تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس کے سابقہ گناہ معاف فرما دے گا۔ اس کا پہلا عشرہ رحمت کا دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرا عشرہ جہنم کی آگ سے نجات کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر باشعور مسلمان مرد، عورت اور بچہ اس ماہ میں خصوصی اہتمام کے ساتھ تلاوتِ قرآن، وقت پر نمازوں کا اہتمام، صدقات و خیرات اور غربا و مساکین کی امداد کرنے میں مسابقت کرتا ہے۔ اس کی برکتیں اَن گنت، اس کے انعامات غیرمحدود اور اس کی لذت اپنی مثال آپ ہے۔
تقریباً 1500 سال قبل جب پہلی مرتبہ رمضان کا مہینہ اپنی رحمتوں کے ساتھ خاتم النبیینؐ اور آپ کے اصحاب پر سایہ فگن ہوا تو ابھی 17 دن بھی نہ گزرے تھے کہ اْمت مسلمہ کو ایک ایسی جنگ کا سامنا کرنا پڑا جو اس کے وجود کو ختم کرنے کی خاطر نظامِ کفر واستیصال کی طرف سے اس پر مسلط کی گئی تھی۔ آج جدید جاہلیت پر مبنی تہذیب اور اس کے سرمایہ دار قائد اْمت مسلمہ کے خلاف اپنی جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ نبرد آزما ہیں۔ جس طرح اس وقت اصحابِ رسولؐ میں سے کسی کے پاس نیزہ تھا تو تلوار نہ تھی، تلوار تھی تو ڈھال نہ تھی، خَود تھا تو زرہ نہ تھی، اسی طرح آج بھی اْمت مسلمہ جنگی آلات کے لحاظ سے کمتر مقام رکھتی ہے۔ لیکن جس چیز نے قرن اوّل میں اْمت مسلمہ کو فتح مند کیا تھا، وہ اس کی اسلحہ میں برتری نہ تھی، بلکہ اس کا وہ کردار و تقویٰ تھا جس کی تیاری میں اسے 13 سال آزمایشوں کی دہکتی بھٹیوں سے گزرنا پڑا تھا۔ اللہ کے یہ چند بندے اپنے کْند بھالوں کے باوجود ایمان کی غیرمحدود قوت، کردار کی عظمت، خلوص کی کثرت اور رب کریم سے اپنے تعلق کی فراوانی کی بنا پر اپنے سے تین گنا زیادہ تعداد اور 10 گنا زیادہ مسلح قوت سے نہ صرف ٹکرلینے بلکہ آخرکار اس قوت کو توڑنے اور شکست دینے کی نیت سے نکلے تھے۔ ان کے رب نے ان کو وہ عزم دیا تھا جو غیرمتزلزل ہو اور ایسی استقامت دی تھی جو فتح و کامرانی کا پیش خیمہ ہو۔
آج اس پْرآشوب دور میں اس برکتوں والے مہینے کے ذریعے ہمیں اولاً اپنے آپ کو باطل کی تمام محکومیوں سے نکال کر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی بندگی میں دینا ہوگا۔ یہ بندگی کامیابی کے لیے شرطِ اول کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہمیں خاتم النبیینؐ کے اسوہ کو اپنا رہنما بنانا ہوگا کہ بہترین اسوہ اور بہترین قابلِ عمل نمونہ اگر کوئی ہے تو وہ صرف آپؐ کی حیاتِ مبارکہ ہے۔ اس کے ساتھ ہمیں دشمن کی حکمت عملی اور منصوبوں کو بھی سمجھنا ہوگا کہ کس کس راستے سے وہ ہم پر حملہ آور ہورہا ہے۔ دشمن کی جنگی حکمت عملی کا اوّلین نکتہ اْمت مسلمہ کو ثقافتی، ابلاغی اور برقی اتصالات (ذرائع ابلاغ) کے ذریعے مغلوب کرنا ہے۔
مغرب کی ثقافتی یلغار کا ایک بڑا ذریعہ جدید اتصالات ہیں، چنانچہ فیس بک (facebook) اور یوٹیوب (youtube) کے ذریعے نوجوانوں کے ذہنوں کو دین سے دْور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس ماہِ مبارک میں قرآن کریم کی دعوت کے ذریعے نوجوانوں میں دینی شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے وقت کا صحیح استعمال کرنا سیکھیں، لہو ولعب میں ضائع نہ کریں۔ اسلامی معلومات کو برقی میڈیا سے دل نشیں انداز سے پیش کیا جائے۔ یہ مہینہ جو قرآن کا مہینہ ہے اس میں قرآن کریم کے بہت سے پہلو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عام کیے جاسکتے ہیں، مثلاً سابقہ اقوام کے قصے اور کائنات کے حوالے سے قرآن کریم کے دلائل۔
اْمت مسلمہ کو درپیش مسائل میں سے ایک بنیادی مسئلہ فرقہ بندی نیز علاقائی اور قومی عصبیتوں کا اْبھارا جانا ہے تاکہ اْمت مسلمہ اتحاد سے محروم رہے۔ قرآن کریم نے اْمت مسلمہ کو ایک بنیان مرصوص سے تعبیر کیا تھا، جب کہ مغرب کی لادینی فکری یلغار اسے الگ الگ قومیتوں میں تقسیم دیکھنا چاہتی ہے۔ یہ مہینہ اتفاق واتحاد کا مہینہ ہے۔ اس میں دلوں کے اتحاد کی بنیاد قرآن کریم ہے۔ اس ماہ میں ہر ہر محلے میں حلقہ ہاے مطالعہ قرآن کا قائم کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ عصبیت لسانی ہو یا نسلی، ان سب کا علاج صرف اس کلامِ عزیز پر جمع ہوجانا ہے۔
یہ مہینہ زندگی میں اعتدال اور توازن پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ حکم ہے کہ بغیر سحری روزہ نہ رکھا جائے اور نہ سحری اتنی زیادہ ہو کہ دن میں ایک روزے دار پریشان رہے۔ ایسے ہی افطار میں توازن ہو اور بجاے اپنے اْوپر اسراف کرنے کے اہلِ محلہ، غریبوں، مسکینوں، قرض داروں، غرض ان تمام افراد پر خرچ کیا جائے جو مسائل کا شکار ہوں۔ لیکن اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہو یا کسی کی مشکل کا دْور کرنا، ہر معاملے میں متوازن رویہ اختیار کرنا ہی رمضان کا پیغام ہے۔