نبی کریم ﷺ کی تین نصائح

103

 

مفتی غلام مصطفی رفیق

عقبہ بن عامرؓ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریمؐ سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! دنیا اور آخرت میں نجات کا ذریعہ کیا ہے؟ نبی کریمؐ نے جواب میں تین چیزوں کی نصیحت فرماکر ان تین باتوں کو نجات کا سبب بتلایا:
1۔اپنی زبان کو قابو میں رکھو۔
2۔تمہارا گھر تمہاری کفایت کرے، یعنی اپنے گھر میں رہا کرو۔
3۔اپنے گناہوں پر رویا کرو۔ (سنن ترمذی)
تیسری نصیحت: اپنی خطاؤں اور گناہوں پر رونا
نبی کریمؐ نے تیسری نصیحت یہ فرمائی کہ اپنی خطاؤں، گناہوں اور نافرمانیوں پر اللہ کے حضور شرمسار ہوکر گڑگڑاؤ، اشک بہایاکرو، رویا کرو۔
احساسِ ندامت اور خوفِ خدا میں بہنے والے آنسو اللہ تعالیٰ کو بڑے محبوب ہیں۔ مومن آدمی جتنا اشکِ ندامت گراتا ہے، اتنا ہی اللہ کے ہاں محبوب بنتا چلا جاتا ہے۔ تفسیر کبیر میں امام رازی اور تفسیر روح المعانی میں علامہ آلوسیؒ نے یہ حدیث قدسی نقل کی ہے کہ گناہگاروں کا رونا، احساسِ گناہ میں آنسو بہانا، اللہ کے سامنے عاجزی کرنا، یہ اللہ تعالیٰ کو تسبیح خوانوں کی آواز سے زیادہ پسندیدہ ہے، اس لیے ہمیں یہ نصیحت کی گئی ہے کہ اپنے پروردگار کے سامنے اپنی خطاؤں پر رویا کرو۔
کَھمَس بن حسن قیسیؒ بصرہ میں ایک بڑے پایے کے بزرگ گزرے ہیں، حدیث کی کتابوں میں ان کی سند سے کئی روایات بھی موجود ہیں، وہ مشہور روایت جس میں رسول اللہ نے عائشہؓ کو شب قدر کی دعا سکھائی ہے وہ روایت ان ہی کی سند سے ترمذی شریف میں منقول ہے۔
ان کے بارے میں کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک معمولی غلطی پر چالیس سال تک آنسو بہاتے رہے۔ ایک دن یہ بیٹھے ہوئے ایک دوسرے بزرگ ابوسلمہؒ کے سامنے اپنے گناہوں کا شکوہ کرنے لگے، اور کہنے لگے: میں نے ایک ایسا گناہ کیا ہے جس پر چالیس سال سے رو رہا ہوں۔ ابوسلمہؒ نے یہ بات سنی تو حیران ہوئے اور پوچھا: ایسا کون سا گناہ سرزد ہوا ہے؟ کہمسؒ کہنے لگے: ایک دن میرے بھائی مجھ سے ملنے آئے، میں نے ایک دینار کی مچھلی خریدی، چنانچہ میرے بھائی نے وہ مچھلی کھائی، میں نے اْٹھ کر اپنے پڑوسی کی دیوار سے مٹی کا ایک ٹکڑا اْٹھالیا، تاکہ وہ اس سے ہاتھ پونچھ لے، صاف کرلے۔ اس مٹی کے ٹکڑے کے اْٹھانے پر میں چالیس سال سے رو رہا ہوں، کیوں کہ وہ ٹکڑا میں نے اپنے پڑوسی کی اجازت اور اس کے علم میں لائے بغیر اْٹھالیا تھا۔ اللہ اکبر! کیسا احساس اور کیسا خدا کا خوف ان کے دلوں میں رچا بسا تھا، اور آخرت کا محاسبہ ہر وقت ان کی آنکھوں کے سامنے رہتا تھا، چڑھتے سورج کی طرح حساب کتاب اور پوچھ گچھ پر یقین واعتقاد تھا۔
ایک طویل روایت میں ابوہریرہؓ فرماتے ہیں، نبی اکرمؐ نے فرمایا: ’’قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سات آدمیوں کو اپنے سائے میں رکھے گا جس روز اللہ کے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا‘‘۔ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنے دامن رحمت میں جگہ دے گا اور انہیں آخرت کی سختیوں سے بچائے گا۔ قیامت کے روز جب کہ تمام لوگ پریشان و حیران ہوں گے تو یہ سات قسم کے لوگ عرش کے سائے میں رحمتِ الٰہی کی نعمت میں آرام وسکون سے ہوں گے۔ ان سات آدمیوں میں ایک وہ آدمی بھی شامل ہے جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرتا ہے اور اللہ کے خوف سے اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔
ثابت بنانیؒ کاخوف خدا میں رونا
ثابت بنانیؒ تابعی ہیں، ائمہ حدیث میں سے ہیں، اللہ کے خوف اور خشیت سے بہت کثرت کے ساتھ رویا کرتے تھے، یہاں تک کہ ان کی آنکھیں دکھنے لگیں، طبیب نے کہا کہ ایک بات کا وعدہ کرلو، آنکھ اچھی ہوجائے گی، اور وہ بات یہ ہے کہ رویا نہ کرو۔ ثابت بنانیؒ نے طبیب کی یہ بات سنی تو فرمایا: اس آنکھ میں کوئی خوبی ہی نہیں، اگر وہ روئے نہیں، وہ آنکھ ہی کیا جو اللہ کے خوف سے نہ روئے۔
حاصل یہ ہے کہ انسان اپنی خطاؤں پر رویا کرے، اور اگر رونا نہ آئے تو کم ازکم رونے کی شکل ہی بنالیا کرے، بتکلف رونے کی کوشش کیا کرے، اس سے دل کی سختی دور ہوتی ہے۔ آنکھوں کا خشک رہنا، جامد رہنا، آنکھوں سے اللہ کی یاد میں آنسوؤں کا نہ بہنا، یہ اچھی علامت نہیں ہے، ایک حدیث مبارکہ میں اس کو بدبختی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان نصیحتوں پر عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین