ام المومنین خدیجتہ الکبریٰؓ

163

 

حافظ محمد زاہد

آپؓ کا نام خدیجہ، لقب طاہرہ اور کنیت اْم ہند تھی۔ آپ قبیلہ قریش کی ایک معزز شاخ بنی اسد سے تعلق رکھتی تھیں۔ آپ کے والد کا نام خویلد بن اسد اور والدہ کا نام فاطمہ بنت زاہدہ تھا۔ آپ کے والد عرب کے مشہور تاجر تھے اور ان کے گھر میں دولت کی ریل پیل تھی۔ آپ شرافت، امانت، ایفائے عہد، سخاوت، غریب پروری، فراخ دلی اور عفت و حیا جیسی اعلیٰ صفات اور خوبیوں کے ساتھ واقعہ فیل سے 15 سال پہلے بمطابق 555 عیسوی اس دنیا میں تشریف لائیں اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ خوبیاں آپ کی طبیعت کا لازمی جز بن گئیں اور پورے عرب میں آپ کی اعلیٰ خوبیوں کا چرچا ہونے لگا۔
سیدہ خدیجہؓ کی پہلی شادی ا بو ہالہ تمیمی سے ہوئی اور ان سے دو بیٹے پیدا ہوئے: ہالہ اورہند۔ ان کے انتقال کے بعد آپ کی دوسری شادی عتیق بن عاید مخزومی سے ہوئی اور ان سے ایک بیٹی پیدا ہوئی، جس کا نام بھی ہند تھا۔ کچھ عرصے بعد ان کا بھی انتقال ہوگیا تو آپ نے شادی کا خیال دل سے نکال کر اپنے والد کی وفات کے بعد ان کی تجارت کو سنبھالنا شروع کر دیا۔
کاروبار میں نبی کریمؐ کی شرکت
سیدہ خدیجہؓ اپنا سامان تجارت مقررہ اْجرت پر دیا کرتی تھیں اور اْنہیں اس مقصد کے لیے امانت دار اور شریف النفس شخص کی تلاش تھی۔ یہ وہ دور تھا جب محمد بن عبداللہؐ کی امانت اور دیانت کا پورے عرب میں چرچا تھا اور آپؐ پورے عرب میں ’’امین اور صادق‘‘ کے لقب سے جانے جاتے تھے۔ سیدہ خدیجہؓ نے آپؐ کو پیغام پہنچایا کہ آپ میرا سامانِ تجارت شام لے جائیں تو میں آپ کو دوگنا اجر دوں گی۔ آپؐ نے اس پیشکش کو قبول فرمایا اور سیدہ خدیجہ کا سامانِ تجارت شام لے کر گئے۔
شام کے اس تجارتی سفر میں سیدہ خدیجہ کا غلام میسرہ بھی آپؐ کے ساتھ تھا۔ راستے میں راہب وال اواقعہ پیش آیا کہ جس نے نبی کریمؐ کو دیکھتے ہی فرمایا: ’’بلاشبہ یہ نبی ہیں اور آخری نبی‘‘۔ پھر سیدہ خدیجہؓ کے غلام میسرہ نے خود بھی نبی اکرمؐ کے حوالے سے چند خرق عادت واقعات دیکھے، مثلاً اس نے دیکھا کہ دھوپ میں دو فرشتے آپؐ پر سایہ کیے ہوئے ہیں۔
سفر سے واپسی پر میسرہ نے سفر کی ساری روداد خدیجہؓ کے گوش گزار کی اور آپؐ کی صداقت اور امانت کا بھی ذکر کیا۔ اس سے سیدہ خدیجہؓ کے دل میں آپ سے شادی کی خواہش پیدا ہوگئی۔
قریش کا جو شخص بھی نکاح کے قابل تھا وہ سیدہ خدیجہ سے شادی کا خواہش مند تھا، لیکن آپؓ نے رحمۃ للعالمین محمد بن عبد اللہؐ سے شادی کی خواہش ظاہرکی اور اپنی سہیلی نفیسہ بنت اْمیہ کو شادی کا پیغام دے کر نبی کریمؐ کے پاس بھیجا۔ وہاں نبی کریمؐ اور نفیسہ کے درمیان کیا گفتگو ہوئی، خود نفیسہ کی زبانی سنیے:
نفیسہ: آپؐ نکاح کیوں نہیں کر لیتے؟
محمدؐ: نادار اور خالی ہاتھ ہوں، کس طرح نکاح کر سکتا ہوں؟
نفیسہ: اگر کوئی ایسی عورت آپ سے نکاح کی خواہش مند ہو جو ظاہری حسن و جمال اور طبعی شرافت کے علاوہ دولت مند بھی ہو اور آپ کی ضروریات کی کفالت کرنے پر بھی خوش دلی سے آمادہ ہو، تو آپ اس سے نکاح کرلینا پسند کریں گے؟
محمدؐ: وہ عورت کون ہو سکتی ہے؟
نفیسہ: خدیجہ بنت خویلد۔
آپؐ نے اس کا ذکر اپنے چچا ابوطالب سے کیا تو آپ کے چچا اس پر خوش ہوئے۔ آپؐ نے فرمایا: اگر خدیجہ اس کے لیے آمادہ ہیں تو میں راضی ہوں۔
بعض روایات میں آتا ہے کہ خدیجہؓ نے خود نبی کریمؐ سے شادی کی بات کی اور آپ نے اْن کی اِس پیشکش کو قبول فرمایا۔
عرب کے رواج کے مطابق نبی کریمؐ نے سیدہ خدیجہؓ کو پانچ سو طلائی درہم بطور حق مہر ادا کیے۔ شادی کے وقت نبی مکرمؐ کی عمر25 سال اور سیدہ خدیجہ کی 40 سال تھی۔
خدیجہؓ کی خدمت گزاری اور وفاشعاری
سیدہ خدیجہؓ سے نکاح کے بعد آپؐ اْن کے ساتھ اْن کے گھر پر ہی رہنے لگے۔ آپ ایک خدمت گزار اور وفا شعار بیوی ثابت ہوئیں۔ آپ نے نبی اکرمؐ کی ساری ضرورتوں اور آرام کا خاص خیال رکھا اور آپ نے اپنا سارا مال و دولت نبی کریم کے حوالے کر دیا۔ خدیجہؓ جب تک زندہ رہیں آپ نے کوئی ایک کام بھی ایسا نہیں کیا جو آپؐ کو ناپسند ہو یا آپؐ کی مرضی کے خلاف ہو۔ آپؐ جب غار حرا میں غور و فکر کے لیے جاتے تو آپؓ نبی کریمؐ کے لیے کھانا لے کر جاتیں، حالانکہ غار حرا مکے کی آبادی سے دو تین میل کے فاصلے پر ہے اور اس کی چڑھائی بھی کافی مشکل ہے، لیکن آپؓ نے یہ سب کام بخوشی کیے۔
آپؓ کے بطن سے سیدنا قاسم، زینب، رقیہ، اْمّ کلثوم، فاطمہ اور سیدنا عبداللہ (رضی اللہ عنھم اجمعین) پیدا ہوئے۔ دونوں صاحبزادے بچپن میں ہی انتقال کر گئے مگر بیٹیاں حیات رہیں، جبکہ سیدہ فاطمہؓ آپؐ کی واحد اولاد ہیں، جو آپؐ کی وفات کے بعد بھی زندہ رہیں۔
وفات
سیدہ خدیجہؓ نبوت کے دسویں سال10 رمضان المبارک کو اس فانی دنیا سے کوچ کر گئیں۔ نبی کریمؐ کو اْن کی جدائی کا حد درجہ افسوس اور دکھ تھا۔ آپؐ نے اس سال کو ’’غم کا سال‘‘ قرار دیا، اس لیے کہ اس سال آپ کی دو قابل قدر ہستیاں اس دنیا سے کوچ کرگئیں: ایک آپؐ کے سرپرست چچا ابوطالب اور دوسری آپ کی خدمت گزار اور وفاشعار بیوی سیدہ خدیجہ الکبریؓ۔ آپؐ نے اپنے ہاتھوں سے انہیں لحد میں اتارا اور ان کے لیے دعا فرمائی۔ اْس وقت نمازہ جنازہ کا حکم نازل نہیں ہوا تھا، اس لیے سیدہ خدیجہؓ کی نمازِ جنازہ ادا نہیں کی گئی۔