غریب گناہ گار

89

 

ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریمؐ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک شخص (جس کا نام سلمہ بن صخر البیاضی تھا) آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ یارسول اللہ! (ایک گناہ سرزد ہو جانے کی وجہ سے) میں تباہ ہوگیا! آپ نے پوچھا کہ کیا ہوگیا؟ اس نے کہا کہ میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا۔ آپؐ نے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس غلام ہے جسے تم بطور کفارہ آزاد کر سکو؟ اس نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے دریافت کیا کہ تم میں اتنی طاقت ہے کہ دو مہینے کے پے در پے روزے رکھ سکو! اس نے کہا کہ نہیں! آپؐ نے فرمایا: کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی استطاعت رکھتے ہو؟ اس نے کہا کہ نہیں! آپؐ نے فرمایا کہ اچھا تم بیٹھ جاؤ۔ آپؐ اس انتظار میں رہے کہ کوئی شخص کچھ لائے تو اسے دے دیں تاکہ وہ بطور کفارہ صدقہ کردے۔ چنانچہ ہم اسی طرح بیٹھے رہے کہ اسی وقت آپؐ کی خدمت میں ایک تھیلا آیا جس میں کھجوریں تھیں۔ آپؐ نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ سائل کہاں ہے؟ اس نے کہا کہ میں یہیں حاضر ہوں۔ آپ نے فرمایا: لو یہ کھجوریں پکڑو اور انہیں اللہ کی راہ میں محتاجوں کو تقسیم کردو۔ اس شخص نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! کیا میں یہ کسی ایسے شخص کو دوں جو مجھ سے بھی زیادہ محتاج ہو؟ (یعنی میں تو خود سب سے زیادہ محتاج ہوں دوسرے لوگوں کو کیسے دوں؟) اللہ کی قسم مدینے کے دونوں کناروں کے درمیان کوئی ایسا گھرانہ نہیں جو میرے گھرانے سے زیادہ محتاج ہو۔ مدینے کے دونوں کناروں سے مراد اس کی دونوں پہاڑیاں تھیں جو مدینہ کے جانب شرق اور جانب غرب واقع ہیں۔ نبی کریمؐ اس کی بات سن کر ہنسے، یہاں تک کہ آپؐ کی کچلیاں ظاہر ہوگئیں۔ پھر آپ نے اس سے فرمایا کہ اچھا جاؤ اور یہ کھجوریں اپنے اہل و عیال کو کھلاؤ۔ (بخاری ومسلم)
جو شخص رمضان کا روزہ قصدا توڑدے خواہ کچھ کھا پی کر یا جماع میں مشغول ہو کر تو اس پر کفارہ واجب ہوتا ہے۔ کفارے کی ترتیب وہی ہے جو حدیث بالا میں ذکر کی گئی ہے یعنی ایک غلام آزاد کرے اگر یہ نہ ہو سکے تو دو مہینے کے روزے پے در پے رکھے اور اگر یہ بھی بس سے باہر ہو تو پھر آخری درجہ یہ ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ اس میں اختیار ہے چاہے تو ہر مسکین کو کچا اناج دیدے، اس صورت میں ہر مسکین کو پونے دو سیر گیہوں یا ساڑھے تین سیر جَو دیا جائے۔ اور اگر چاہے تو کھانا پکا کر دے۔ اس صورت میں ان ساٹھ مسکینوں کو ایک دن دونوں وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلایا جائے گا۔
اپنے اہل و عیال کو کفارہ دینے سے کفارہ ادا نہیں ہوتا خواہ اصول میں سے یعنی باپ دادا وغیرہ ہوں یا فروع میں سے یعنی بیٹا یا پوتا وغیرہ ہوں۔ جہاں تک حدیث بالا کا تعلق ہے کہ اس سے اپنے اہل وعیال کو کفارہ دینے کا جواز ثابت ہوتا ہے تو اس کے بارہ میں علما کے اختلافی اقوال ہیں کہ آیا اس شخص کے ذمے سے کفارہ ادا ہو گیا تھا یا نہیں؟ چنانچہ اکثر علما کی رائے یہ ہے کہ کفارہ ادا ہوگیا تھا اور یہ حکم صرف اسی کے ساتھ مخصوص تھا کہ نبی اکرمؐ نے بطور خاص اس کو اجازت عطا فرما دی تھی کہ وہ کھجوریں جو کفارے کے طور پر اس کی طرف سے دی جانی تھیں اپنے اہل و عیال کو کھلانے پر صرف کر دے۔ اور چونکہ یہ ایک مخصوص معاملہ تھا اس لیے کسی دوسرے کے لیے یہ جائز نہیں ہے۔
بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس وقت اس کے ذمے سے کفارہ ادا نہیں ہوا تھا بلکہ اس کے ذمے باقی رہا تھا اور وجہ اس کی یہ بیان کرتے ہیں کہ کفارے کی ادائیگی بالفعل وقتی طور پر اس وقت ضروری ہوتی ہے جب کہ کفارہ دینے والے کے پاس اس کے اور اس کے اہل و عیال کے کھانے سے بچ کر اتنا مال موجود ہو جو وہ بطور کفارہ دے سکے ورنہ بصورت دیگر وہ کفارہ اس کے ذمے باقی رہتا ہے کہ جب بھی اس میں استطاعت ہو کفارہ ادا کر دے لہٰذا سلمہ بن صخر الانصاری البیاضی بہت زیادہ محتاج تھے، اس لیے آپؐ نے ان کو اجازت عطا فرمائی کہ اس وقت تو یہ کھجوریں اپنے اہل و عیال کو کھلاؤ مگر جب بعد میں استطاعت ہو تو کفارہ ادا کر دینا۔
کچھ حضرات کا کہنا یہ ہے کہ پہلے یہ حکم تھا کہ کفارہ اپنے اہل و عیال کو دیا جا سکتا ہے چنانچہ آپؐ نے سلمہؓ سے کہا کہ وہ ان کھجوروں کو اپنے اہل و عیال پر خرچ کر دیں، مگر بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ اس لیے اب مسئلہ یہی ہے کہ کسی بھی طرح کفارہ اپنے اہل و عیال کو نہ دیا جائے۔ (مظاہر حق)