تاجر برادری کا روپے کی گرتی ہوئی قدر پر تشویش کا اظہار

34

اسلام آباد ( کامرس ڈیسک) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احمد حسن مغل، سینئر نائب صدر رافعت فرید اور نائب صدر افتخار انور سیٹھی نے روپے کی تیزی سے گرتی ہوئی قدر پر شدید تشویش کااظہار کیا کیونکہآج انٹربینک مارکیٹ میں روپے کی قدر فی ڈالر کے مقابلے میں گر کر 148روپے تک پہنچ گئی ہے جو بہت تشویشناک ہے لہذا انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ روپے کی قدر کو گرنے سے روکنے اور اس کو مستحکم کرنے کیلئے فوری اصلاحی اقدامات اٹھائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے ہی روپے کی قدر کافی گر چکی ہے جس وجہ سے کاروبار کی لاگت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور عوام کو شدید مہنگائی کا سامنا ہے ۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر روپے کی قدر اسی طرح گرتی رہی تو نہ صرف کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوں گی بلکہ عوام مہنگائی کی چکی میں پس جائیں گے۔ انہوںنے کہا کہ تاجروںوصنعتکاروں کو طویل المدت منصوبہ بندی کیلئے مستحکم کرنسی کی اشد ضرورت ہوتی ہے لیکن اچانک ایک ہی دن میں روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی سے ان کے بزنس پلانز بہت متاثر ہو تے ہیں اور غیر یقینی کی صورتحال میں کاروبار چلانا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ ایک سال کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں28فیصد تک کمی واقع ہو چکی ہے کیونکہ مئی 2018میں فی ڈالر کی قیمت 115روپے تھی جوگرتے گرتے اب148روپیتک پہنچ گئی ہے جوتاجر برادری کیلئے کافی تشویشناک ہے۔ احمد حسن مغل نے کہا کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی گرتی ہوئی قدر سے معیشت کے تمام شعبوں کی پیداواری لاگت میں بہت اضافہ ہو جا تا ہے جس سے صنعتی وتجارتی سرگرمیاں بہت متاثر ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیداواری شعبہ مصنوعات تیار کرنے کیلئے 60فیصد تک خام مال باہر سے درآمد کرتا ہے اور روپے کی قدر میں کمی سے خام مال کی درآمداتی قیمت میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے جس سے ہماری مصنوعات عالمی مارکیٹ میںمزید مہنگی ہو جاتی ہیں اور برآمدات کی کمی واقع ہوتی ہے۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان کھاد، کھانے پینے کی چیزیں، تیل اور مشینری سمیت متعدد چیزیں باہر سے درآمد کرتا ہے ۔
اور روپے کی قدر میں کمی سے یہ تمام چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں جس سے معیشت کی ترقی مزید کم ہو جاتی ہے اور عوام کیلئے مہنگائی کئی گنا بڑھ جاتی ہے جبکہ قرضوں میں بھی اربوں روپے کا اضافہ ہو جاتا ہے ۔لہذا انہوںنے اس بات پر زور دیا کہ حکومت روپے کی قدر کو مستحکم کرنے کیلئے فوری اصلاحی اقدامات اٹھائے تا کہ معیشت کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔انہوںنے کہا کہ مارکیٹ سے ڈالر غائب ہونے سے اس کی قدر فوری گر جاتی ہے تاہم انہوںنے کہا کہ وزیراعظم نے مشیر خزانہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو روپے کی قدر کو گرنے اور کیپٹل فلائٹ کو کنٹرل کرنے کیلئے کام کرے گی جو ایک اچھا اقدام ہے۔ انہوںنے کہا کہ حکومت کے بروقت فیصلوں سے معیشت کو مزید نقصانات سے بچایا جا سکتا ہے لہذا انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کاروباری طبقے اور عوام کو مزید مشکلات سے بچانے اور کاروبار کیلئے سازگار حالات پیدا کرنے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے تا کہ معیشت مشکلات سے نکل کر بہتری کی طرف گامزن ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروبار کیلئے سازگار حالات پیدا کر کے ہی ملک سے غربت و بے روزگاری جیسے مسائل کو کم کیا جا سکتا ہے اور تجارتی و مالی خسارے پر قابو پا کر معیشت کو بحال کیا جا سکتا ہے۔