کراچی کا المیہ

218

 

 

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کراچی گندگی کا ڈھیر بنا ہوا ہے، زمینوں پر دوبارہ قبضے شروع ہوگئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے سوال اُٹھایا کہ آخر شہر میں کیا ہورہا ہے؟ (روزنامہ جسارت۔ 8 مئی 2019ء)
کہا جاتا ہے کہ بارہ برس میں کوڑے کے ڈھیر کی قسمت بھی بدل جاتی ہے مگر 35 سال ہوگئے اور کراچی کی قسمت بدل کر نہیں دے رہی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کراچی کی قسمت کوڑے کے ڈھیر سے بھی زیادہ خراب ہے۔ اس بات کو اس طرح بھی کہا جاسکتا ہے کہ کراچی کی قسمت کوڑے کے ڈھیر سے بھی بدتر بنادی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کراچی تین دہائیوں سے کنٹرولڈ انارکی کی گرفت میں ہے۔
پاکستان کی تاریخ کی ایک ناقابل تردید حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا نصف حصہ 1971ء میں تعصبات کی سیاست کی نذر ہوگیا۔ چناں چہ پاکستان میں تعصبات کی سیاست کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے تھی، مگر جنرل ضیا الحق نے الطاف حسین کو سیاسی رہنما اور ایم کیو ایم کو مقبول ترین سیاسی جماعت بنا کر سندھ کو تعصبات کی سیاست کی آگ میں جھونک دیا۔ اس کے لیے کراچی میں مہاجر پٹھان فسادات کرائے گئے۔ ان فسادات کا ایک پہلو یہ ہے کہ قصبہ کالونی میں ’’نامعلوم پٹھان‘‘ چھ گھنٹے تک مہاجروں کو قتل کرتے رہے اور قانون نافذ کرنے والا کوئی ادارہ اطلاعات ہونے کے باوجود چھ گھنٹے تک متاثرہ علاقے میں داخل نہ ہوسکا۔ کہا گیا کہ سندھ میں اس وقت کے وزیراعلیٰ سید غوث علی شاہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو روکے رکھا۔ مگر کیا سید غوث علی شاہ اتنے طاقتور تھے؟ سید غوث علی شاہ کی کوئی اوقات ہی نہ تھی کیوں کہ سارے معاملات جنرل ضیا الحق کے ہاتھ میں تھے۔ ظاہر ہے کہ اگر ’’نامعلوم پٹھانوں‘‘ کے ہاتھوں ’’مظلوم مہاجروں‘‘ کا قتل عام نہ ہوتا تو کراچی میں منافرت کی سیاست کیسے پروان چڑھتی؟۔ اس مسئلے کا ایک پہلو یہ تھا کہ کراچی میں مہاجروں اور پٹھانوں کے درمیان مفادات کا کوئی تصادم ہی نہیں تھا۔ مگر بشریٰ زیدی کیس سے مہاجر پٹھان کشمکش کی راہ ہموار ہوچکی تھی۔ رہی سہی کسر قصبہ کالونی کے سانحے نے پوری کردی۔ 1980ء کی دہائی کراچی میں کرفیو کا زمانہ تھا۔ کرفیو ٹھیک سے اُٹھنے نہیں پاتا تھا کہ امن وامان کی صورتِ حال پھر خراب ہوجاتی تھی اور شہر میں پھر کرفیو نافذ کردیا جاتا تھا۔ جنرل ضیا الحق کی پالیسیوں نے کراچی کو تعصبات، منافرت اور دیگر منفی جذبات و احساسات کی تربیت گاہ بنادیا تھا۔
کراچی میں حالات کی خرابی کا آغاز مہاجر پٹھان کشمکش سے کردیا گیا مگر جلد ہی اس میں مہاجر سندھی محاذ آرائی بھی شامل ہوگئی۔ ایک دن کراچی کے ایک بڑے اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی کہ سندھ کی ایک قوم پرست جماعت کا جلوس کراچی کے علاقے صدر سے گزر رہا تھا کہ ایک مہاجر خاتون کی گاڑی جلوس میں پھنس گئی۔ خاتون کے ساتھ مبینہ طور پر اس کا شیر خوار بچہ بھی تھا مگر سندھیوں نے نہ عورت پر رحم کیا اور نہ بچے پر، چناں چہ انہوں نے دونوں کو مار ڈالا۔ بعد میں اس خبر کی تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ اس طرح کا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں۔ اس دوران سندھ کے ایک بڑے اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی کہ گیارہ سندھی خواتین کی لاشیں جناح اسپتال لائی گئیں۔ خبر میں بتایا گیا تھا کہ ان تمام خواتین کی چھاتیاں کاٹی گئی تھیں۔ تحقیق گئی تو معلوم ہوا کہ سرے سے اس طرح کا کوئی واقعہ ہی نہیں ہوا۔ اس نوعیت کے واقعات پر مشتمل ایک مضمون ہم نے خود انہی دنوں انگریزی سے اردو میں ترجمہ کیا تھا۔ ان واقعات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کراچی میں کیا کھیل کھیلا گیا اور کس طرح مہاجروں، پٹھانوں اور سندھیوں کے ذہنوں کو ایک خاص رُخ پر دھکیلا گیا؟۔
کراچی میں جو المیہ مہاجر پٹھان اور مہاجر سندھی کشمکش سے شروع کرایا گیا تھا وہ 1980ء کی دہائی کے اواخر میں مہاجر، مہاجر تصادم میں تبدیل ہوگیا۔ اے پی ایم ایس او نے 1980ء کی دہائی کے اواخر میں اسی تواتر سے اسلامی جمعیت طلبہ کے نوجوانوں کو شہید کیا کہ ہمیں لگتا تھا کہ ہم جمعیت کے نوجوانوں کے جنازے پڑھنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ مگر اس ظلم کی کوئی داد تھی نہ فریاد تھی۔ ملک میں نہ کوئی حکومت تھی، نہ کوئی ریاستی ادارہ تھا۔ یہاں تک کہ اس عرصے میں کوئی عدالت بھی ’’زندہ‘‘ نہ تھی۔ اور کچھ نہیں تو کوئی اعلیٰ عدالت صورت حال کا ازخود نوٹس ہی لے لیتی۔ اسی عرصے میں اے پی ایم ایس او اور پی ایس ایف کے درمیان بھی تصادم کے واقعات ہوئے۔ یہاں تک کہ دونوں تنظیموں نے ایک دوسرے کے کارکنوں کو اغوا کرکے انہیں جسمانی تشدد ہی کا نہیں جنسی تشدد کا بھی نشانہ بنایا۔ اس وقت آصف نواز جنجوعہ کراچی کے کور کمانڈر تھے۔ ان کی مداخلت سے اے پی ایم ایس او اور پی ایس ایف کے کارکن رہا ہوئے مگر سوال یہ ہے کہ کیا جنرل آصف نواز جنجوعہ کا کردار ’’مصالحت کار‘‘ ہی کا ہونا چاہیے تھا؟ ریاست دہشت گردوں کی سرکوبی کرتی ہے ان کے لیے مصالحت کار کا کردار ادا نہیں کرتی۔
ریاست نے 1992ء میں ایم کیو ایم کے خلاف بالآخر آپریشن کیا مگر اس آپریشن نے کراچی کے المیے کو مزید گہرا کردیا۔ آپریشن کے آغاز پر آپریشن کے ایک اہم کارندے بریگیڈیئر ہارون نے نیوز کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کراچی کو جناح پور بنانے کی سازش کررہے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس حوالے سے ایک نقشہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔ لیکن یہ نیوز کانفرنس چند گھنٹے ہی زندہ رہ سکی۔ چند گھنٹے کے بعد جناح پور کا بیانیہ واپس لے لیا گیا اور بریگیڈیئر ہارون کا تبادلہ کردیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ الطاف حسین اور ایم کیو ایم دیکھتے ہی دیکھتے ظالم سے مظلوم بن گئے۔
آپریشن کا ایک پہلو یہ تھا کہ مہاجر بستیوں میں اندھا دھند تلاشیاں اور ’’دیگر اقدامات‘‘ ہورہے تھے۔ ان اقدامات میں ایک کارروائی یہ بھی تھی کہ فوجی کسی بھی علاقے کی ناکہ بندی کرکے کسی ایک محلے کے لوگوں کو گھروں سے باہر نکال لیتے تھے اور ان کی قمیصیں اُتروا کر انہیں پٹیوں کی طرح شہریوں کی آنکھوں پر باندھ دیتے تھے۔ ہمارے عزیز دوست اور فرائیڈے اسپیشل کے مدیر یحییٰ بن زکریا صدیقی کے علاقے میں بھی یہی کارروائی ہوئی۔ یہ انتہائی توہین آمیز عمل تھا اور اس کی زد میں بڑے پیمانے پر عام شہری بھی آرہے تھے۔ آپریشن کا ایک تلخ تجربہ ہمیں بھی ہوا۔ ایک رات ہم اپنے اہل خانہ کے ہمراہ ایک شادی سے لوٹ رہے تھے کہ ایک شاہراہ پر فوجیوں نے ہماری ٹیکسی کو روک لیا۔ انہوں نے ٹیکسی کی اچھی طرح تلاشی لی۔ ان دنوں ہم سگریٹ پیا کرتے تھے اور ایک ماچس ہمارے ہاتھ میں تھی۔ اچانک ایک فوجی نے ہم سے پوچھا ’’اس ماچس میں کیا ہے‘‘؟ ہم نے عرض کیا ’’ماچس میں آگ ہے‘‘۔ یہ ایک بے تکا اور اشتعال انگیز سوال تھا اور اسی طرح کے سوالات کہیں بھی مثبت ردعمل پیدا نہیں کرسکتے۔ لیکن آپریشن کا ایک اور پہلو بہت عجیب و غریب تھا۔ ہم اپنے علاقے میں بہت گھومنے پھرنے والے نہیں تھے۔ ہمارا معمول تھا گھر سے دفتر، دفتر سے گھر۔ مگر اس کے باوجود ہمیں معلوم تھا کہ علاقے میں ایم کیو ایم کے دہشت گرد اور ان کا اسلحہ کہاں کہاں موجود ہے لیکن یہ بات آپریشن کرنے والوں کو معلوم نہ تھی۔ کیا یہ آپریشن کرنے والوں کی نااہلی تھی یا آپریشن کے ’’ڈیزائن‘‘ میں یہ بات شامل تھی کہ ایم کیو ایم کے کچھ دہشت گردوں کو مارنا اور پکڑنا ہے اور کچھ کو نہیں؟۔ اس خیال کا پس منظر یہ تھا کہ الطاف حسین ہر وقت ’’نگرانی‘‘ میں تھے مگر اس کے باوجود انہیں ملک سے فرار ہونے دیا گیا۔ ظاہر ہے وہ امریکا، برطانیہ یا بھارت آنے والے کسی خفیہ طیارے میں فرار نہیں ہوئے تھے وہ کراچی کے ہوائی اڈے سے ایک عام مسافر کی طرح بیرون ملک روانہ ہوئے تھے۔ ریاستی ادارے چاہتے تو انہیں گھر سے ہوائی اڈے تک کہیں بھی پکڑ سکتے تھے۔
سابق ڈی جی رینجرز محمد سعید نے اے آر وائی کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ کراچی میں گزشتہ 35 سال کے دوران 92 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ پاکستان نے بھارت سے چھوٹی بڑی چار جنگیں لڑی ہیں مگر چار جنگوں میں بھی 92 ہزار افراد جاں بحق نہیں ہوئے مگر کراچی کے لوگوں کو 92 ہزار لوگوں کے جنازے اٹھانے پڑے۔ ملک کی مجموعی قومی پیداوار یا جی ڈی پی 305 ارب ڈالر ہے جب کہ صرف کراچی کی مجموعی قومی پیداوار 113 ارب ڈالر ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ کراچی کا حصہ قومی پیداوار میں تقریباً 37 فی صد ہے۔ کراچی پورے ملک کے ٹیکسوں کا 55 فی صد مہیا کرتا ہے۔ یعنی اگر ملک کی مجموعی آمدنی 100 روپے ہے تو کراچی اس آمدنی میں 55 فی صد اور باقی ملک صرف 45 فی صد فراہم کرتا ہے۔ مگر اس کے باوجود کراچی کی صورتِ حال یہ ہے کہ کراچی کے ایک کروڑ 20 لاکھ افراد کچی آبادیوں میں مقیم ہیں۔ کراچی کی آدھی آبادی پانی کی سخت قلت کا شکار ہے، کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولتیں خستہ حال ہیں۔ ہم 36 سال قبل نارتھ ناظم آباد آئے تھے تو نارتھ ناظم آباد کراچی کے چند ’’پوش‘‘ علاقوں میں سے ایک تھا۔ اب نارتھ ناظم آباد کی شاید ہی کوئی سڑک ایسی ہو جو ٹوٹی ہوئی نہ ہو۔ نارتھ ناظم آباد کا شاید ہی کوئی علاقہ ہو جہاں گٹر نہ اُبلتے ہوں۔ نارتھ ناظم آباد کا شاید ہی کوئی ایسا علاقہ ہوگا جہاں کوڑے کے ڈھیر نہ پڑے ہوں۔ نارتھ ناظم آباد کا یہ حال ہے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ شہر کے دوسرے علاقوں کا کیا حال ہوگا، مگر کراچی کو نہ وفاقی حکومت کچھ دینے پر آمادہ ہے نہ صوبائی حکومت کچھ دینے پر تیار ہے۔ کراچی کل بھی لاوارث تھا اور آج بھی لاوارث ہے۔ کیا یہ اتفاقی امر ہے؟ یا اس کی پشت پر کوئی منصوبہ ہے؟۔
ہم گزشتہ 28 سال سے یہ لکھ لکھ کر تھک گئے کہ اسٹیبلشمنٹ جب چاہے الطاف حسین اور ایم کیو ایم کا ہاتھ روک سکتی ہے، بدقسمتی سے بالآخر یہ بات درست ثابت ہوئی۔ الطاف حسین نے جرنیلوں کو گالیاں دیں اور وہ پاکستان کی سیاست سے ایک لمحے میں Minus ہوگئے۔ ظاہر ہے جو 2018ء میں ہوا وہ 30 سال پہلے بھی ہوسکتا تھا اور 20 سال پہلے بھی۔ وہ 10سال پہلے بھی ہوسکتا تھا اور 5سال پہلے بھی۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ پاکستان کے حکمران طبقے نے الطاف حسین اور ایم کیو ایم کو کراچی کے مال اور مستقبل سے کھیلنے کی کھلی آزادی دی۔ خدا کا شکر ہے کہ الطاف حسین کے Minus ہوتے ہی شہر کے حالات بہتر ہوئے ہیں مگر سپریم کورٹ اچانک چیخی ہے کہ کراچی گندگی کا ڈھیر بنا ہوا ہے اور اس میں پھر زمینوں پر قبضے شروع ہوگئے ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہورہا ہے۔ کہتے ہیں دودھ کا جل چاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے مگر کراچی کا المیہ یہ ہے کہ وہ صرف دودھ کا جلا نہیں ہے اسے چھاچھ نے بھی جلایا ہے۔ بقول شاعر۔
دل کے پھپھولے جل اُٹھے سینے کے داغ سے
اِس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
اگر اس شعر کے مصرعہ ثانی کے گرنے کا احتمال نہ ہوتا تو ہم اس میں ’’چراغ‘‘ کی جگہ ’’چراغوں‘‘ لکھتے۔