ترکی کے انتخابات اور جنگ کی صورت حال

108

 

غزالہ عزیز

ترکی میں رجب طیب اردوان کی جماعت AKP (جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی) نے ملک بھر کے بلدیاتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرلی لیکن دو بڑے شہروں انقرہ اور استنبول میں اُسے معمولی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ترکی کے سپریم الیکشن بورڈ کے چیئرمین کے مطابق طیب اردوان کی پارٹی نے استنبول میں 40 لاکھ 13 ہزار ووٹ حاصل کیے ہیں جب کہ ان کی مخالف جماعت نے 40 لاکھ 16 ہزار ووٹ حاصل کیے۔حکمران جماعت نے ان دونوں شہروں کے نتائج کو چیلنج کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ دونوں شہروں میں ہزاروں جعلی ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر سرکاری نتائج کے مطابق حکومتی پارٹی کو 51 فی صد جب کہ حزب اختلاف کو 31 فی صد ووٹ ملے ہیں۔ ترکی میں انتخابات کے نگراں ادارے نے استنبول میں دوبارہ انتخاب کرانے کا اعلان کیا ہے، ساتھ ہی نئے انتخاب کے لیے تاریخوں کا اعلان بھی کردیا ہے کہ انتخابات 23 جون کو منعقد ہوں گے۔ ترکی میں اردوان کی کامیابی اس وقت بڑی اہمیت رکھتی ہے، انہوں نے اپنی بہترین ڈپلومیسی کے باعث علاقے کے بڑے کھلاڑیوں کو بیک فٹ پر کھیلنے پر مجبور کردیا ہے۔
گزشتہ سال مشرق وسطیٰ کے ممالک نے قطر کے گرد گھیرا تنگ کیا تھا۔ ڈرا دھمکا کر اسے کچلنے اور اپنی مرضی کے تحت چلانے کی کوشش کی، لیکن اس کا نتیجہ اُلٹا نکلا۔ قطر اس بارے میں جان گیا کہ اُسے عرب ممالک کی زور زبردستی سے بچانے کے لیے خطے کے کچھ ممالک کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ایک سال پہلے ایک عرب ملک نے قطر کے ساتھ اپنی سرحد کو مکمل طور پر بند کردیا تھا اور جب کہ دوسرے عرب ملک نے دوحا کے بحری راستے سے آنے والے بحری جہازوں کو روکنا شروع کردیا تھا۔ عرب ممالک کی اس فضول پالیسی کے خلاف اومان، ترکی اور ایران نے قطر کا ساتھ دیا۔ قطری طیارے ایرانی حدود کو استعمال کرنے لگے، ترکی نے قطر میں اپنی فوجی موجودگی بڑھائی۔ قطر کے عوام نے مل کر صورت حال کا مقابلہ کیا اور 6 ماہ کے اندر حالات معمول پر لانے میں کامیاب ہوگئے۔ قطر کے ساتھ ترکی، ایران اور پاکستان کی دوطرفہ تجارت میں اضافہ ہوا، ایران کی تجارت سب سے زیادہ بڑھی، یعنی ایران اور قطر کے درمیان تجارت 117 فی صد بڑھ گئی۔ مشرق وسطیٰ کے اس نئے ٹراینگل سے اپنے آپ کو دنیا کا چودھری سمجھنے والے ملک کو بھی خطرہ محسوس ہونے لگا ہے، کیوں کہ انہیں لگ رہا ہے کہ اس نئے اتحاد کی حمایت کے لیے چین اور روس پَر تول رہے ہیں۔ دوسری طرف شام میں پچھلے ایک عشرے سے جاری جنگ نے خطرے کے حالات میں ویسی تبدیلی نہیں کی ہے جیسی کے امریکا اور دوسرے اتحادیوں کا خیال تھا۔ لہٰذا امریکی صدر نے شام سے واپسی کا اعلان کردیا ہے، اگرچہ انہیں اس سلسلے میں تنقید کا سامنا ہے، ترکی نے امریکی صدر کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا تھا، ساتھ ہی اس کے انخلا کے لیے ہر طرح کی امداد فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا لیکن اپنے ہاں امریکی صدر کے شام سے انخلا کے بیان کے دوسرے ہی دن ان کے وزیر دفاع جیمز میٹس نے استعفا دے دیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ضرورت سے زیادہ جلدی ایک اسٹرٹیجک غلطی ہوگی۔ اور یہ فیصلہ ایک طرح سے روس اور ایران کی فتح ہوگی اور اپنے کرد اور عرب اتحادیوں کو صدر اسد اور ترکی کے کے رحم و کرم پر چھوڑنا ہوگا۔
یہ بیان عرب ممالک کے لیے ایک دھمکی کی طرح محسوس ہوتا ہے۔ صورتِ حال تبدیل ہورہی ہے، روس اور ترکی اگرچہ شام میں الگ الگ قوتوں کے ساتھ کھڑے تھے لیکن اب وہ شام کے حالات پر مل بیٹھ کر سوچ رہے ہیں۔ ترکی شامی باغیوں کی حمایت کرتا آیا ہے جب کہ روس برسوں سے شامی صدر بشارالاسد کی حامی فورسز کے ساتھ کھڑا ہے۔ روس اور ترکی اس سلسلے میں اتفاق کرچکے ہیں کہ امریکی فوجوں کے شام سے انخلا کے بعد زمینی فوجی کارروائیاں مشترکہ طور پر کریں گے، یوں تمام تر اختلافی موقف کے باوجود دونوں ممالک شام میں امن کے لیے سیاسی حل تلاش کرنے میں سنجیدہ ہیں۔ شام کی حالت اس وقت انتہائی خراب ہے، خصوصاً بچوں کے معاملے میں اُسے بچوں کا ’’مقتل‘‘ قرار دیا گیا۔ فضائی حملوں میں شامی بچوں کی ایک پوری نسل معذور ہوچکی ہے۔ یہ معصوم بچے جن میں ہزاروں کی تعداد میں بازوئوں اور ٹانگوں سے محروم ہیں وہ ایسی جنگ کا شکار ہیں جسے وہ سمجھنے سے بھی قاصر ہیں۔ یونیسیف کے مطابق شام کی جنگ میں وہاں کا ہر بچہ متاثر ہوا ہے۔ شام کے 57 لاکھ بچے اور 70 لاکھ بالغ افراد کو فوری امداد کی ضرورت ہے اور یہ کام ہنگامی بنیادوں پر اور اجتماعی طور پر ہونا چاہیے۔ عالمی ڈونر کانفرنس میں اس سلسلے میں سر جوڑے گئے ہیں، باتیں کی گئیں لیکن مسئلے کے حل کی طرف توجہ دینا اس وقت انتہائی ضروری ہے، شام کی جنگ کے فریقین شام کی تباہی کے اسباب پر مل کر غور کریں اور کوئی حل نکالیں۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اسرائیل شام میں ایرانی اسلحہ خانوں اور ٹھکانوں پر بمباری کررہا ہے، اور اس کی کوشش ہے کہ شام کے کچھ حصے پر اپنے قبضے کو مستحکم کرلے۔ امریکا داعش کے خلاف بمباری کررہا ہے اور اس کا تیا پانچا کردینے کے اعلان کے باوجود داعش کے لیڈر البغدادی کی نئی ویڈیو سامنے آگئی ہے جس میں پورے جلال سے وہ انتقامی حملوں کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ اس نے شام کے شہر بانوس میں اپنی شکست کا انتقام سری لنکا میں ایسٹر کی دہشت گردانہ کارروائیوں کو قرار دیا۔ حیران کن ہے کہ مغرب کو انتقام کی دھمکیاں دینے والا بغدادی کبھی وہاں یا اسرائیل میں اپنی انتقامی کارروائیاں نہیں کرتا نہ ہی ان کا اعلان کرتا ہے، حالاں کہ اسرائیل اس سے چند میل کی دوری پر ہے۔ پانچ سال بعد بغدادی کی واپسی بڑی حیران کن ہے جب کہ امریکا اُس کے خاتمہ کا اعلان کرچکا تھا، یہ کسی نئے وار گیم کی ابتدا محسوس ہوتی ہے، امریکا، افغانستان اور شام سے واپسی کی راہ پر ہے جب کہ جنگ کی آگ گرم رکھنے والا اسرائیل کس صورت حال کا شکار ہے۔ اس کی رپورٹ اسرائیل کا اپنا چینل دیتے ہوئے بتاتا ہے کہ اسرائیل کی فوجی بزدل نہیں۔ اور ان کے پاس دشمن کے خلاف دوبدو لڑائی کی صلاحیت نہیں۔ اسرائیلی بریگیڈیئر ’’رومان‘‘ ایک خط میں اپنے فوجی افسران کو لکھتا ہے کہ صہیونی فوجیوں کے پاس دشمن کے خلاف لڑائی کی جرأت نہیں۔ دشمن کے خلاف لڑائی کے لیے بہادری، ذہانت اور سمجھ داری کی ضرورت ہو۔ فوج میں یہ تینوں صلاحیتیں نہیں۔ یہ بات درست ہوگی لیکن اُن کی اصل جنگ مکر و فریب اور ریاکاری کے ہتھیاروں سے لڑی جاتی ہے۔ دنیا کو یہ بات سمجھنی ہوگی خاص طور سے اُن کے اصل شکار مسلمانوں کو… جیسے ترکی کے اردوان سمجھ داری، بردباری اور اتحاد کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں۔