اسلامی کیلنڈر اور گرمیوں کے روزے

211

 

 

دنیا بھر میں ماہ و سال شمار کرنے کے جو کیلنڈر پائے جاتے ہیں ان کا امتیازی وصف یہ ہے کہ ان میں سال مہینے اور دن کو موسم کے ساتھ مربوط کردیا گیا ہے۔ سال مہینے اور دن گزرتے جاتے ہیں لیکن ان کے موسم کبھی تبدیل نہیں ہوتے۔ مثلاً جنوری کا مہینہ سردی میں آتا ہے تو یہ ہمیشہ سردی ہی میں آئے گا اور عیسوی کیلنڈر کا ہر نیا سال سردی ہی میں طلوع ہوگا، اسی طرح جو مہینے گرمی میں آتے ہیں وہ ہمیشہ گرمی میں ہی آئیں گے یہ ممکن نہیں ہے کہ مئی جون میں سردی پڑنے لگے اور جنوری فروری گرمی کی نذر ہوجائیں۔ چین، جاپان اور ہندوستان کے مقامی کیلنڈروں کا بھی یہی حال ہے۔ یہ انفرادیت صرف اسلامی یا ہجری کیلنڈر کو حاصل ہے کہ اس میں سال مہینے یا دن کو موسم کے ساتھ فکس نہیں کیا گیا۔ یہ ہمیشہ سفر میں رہتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کا موسم بھی بدلتا رہتا ہے۔ مثلاً اسلامی کیلنڈر کا پہلا مہینہ محرم الحرام ہے۔ یہ کبھی سردی میں آتا ہے، کبھی گرمی میں، کبھی برسات میں، کبھی خزاں میں، کبھی بہار میں۔ اسی طرح باقی مہینوں کے موسم بھی بدلتے رہتے ہیں۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ دنیا بھر کے سارے کیلنڈروں کا تعلق شمسی تقویم سے ہے جب کہ اسلامی کیلنڈر کا تعلق چاند کے گھٹنے بڑھنے سے ہے۔ قمری مہینے کے آغاز پر جب چاند طلوع ہوتا ہے تو وہ نہایت باریک ہوتا ہے انسانی آنکھ بمشکل اسے دیکھ پاتی ہے پھر وہ ہر روز نمایاں ہوتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ چودہ تاریخ کو ماہِ کامل بن جاتا ہے۔ اس کے بعد پھر اس کی واپسی شروع ہوتی ہے اور گھٹتے گھٹتے وہ پھر ہلال بن جاتا ہے، قمری مہینہ ہر بار اس عمل سے گزرتا ہے اس کے دنوں کی گنتی بھی متعین نہیں ہے یہ کبھی انتیس دن کا ہوتا ہے، کبھی تیس دن کا، کبھی دو مہینے انتیس انیتس دن اور کبھی دو مہینے تیس تیس دن کے بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ سب چاند کے طلوع و غروب اور اس کی نقل و حرکت پر منحصر ہے۔ اس طرح قمری کیلنڈر میں سال، مہینے اور دن کسی ایک موسم کی قید میں نہیں ہیں بلکہ یہ سب موسموں کا لطف اٹھاتے ہیں۔ چوں کہ اس کیلنڈر کا تعلق اسلامی عبادات سے بھی ہے اس لیے عبادت کرنے والے بھی ہر موسم کا ذائقہ چکھتے ہیں۔ مثلاً حج کبھی سردیوں یں آتا ہے، کبھی گرمیوں اور کبھی برسات میں۔ اب جو لوگ زندگی میں ایک دفعہ فریضہ حج ادا کرتے ہیں وہ اپنی سہولت کے مطابق موسم کی رعایت سے بھی فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ موسموں کے الٹ پھیر کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیا ہے۔
رمضان بھی اسلامی کیلنڈر کا ایک مہینہ ہے جس میں اہل ایمان پر روزے فرض کیے گئے ہیں۔ یہ مہینہ آتا ہے تو مسلمانوں کے معاشرے میں ایک دھوم مچ جاتی ہے، بچے بوڑھے سبھی روزہ رکھنے اور اس کا اہتمام کرنے میں مگن ہوجاتے ہیں، جن لوگوں کی عمریں چالیس پچاس کے درمیان ہیں اور وہ ابتدا ہی سے روزے رکھتے چلے آرہے ہیں انہوں نے یقینا سردی، گرمی، برسات ہر موسم میں رمضان کا ذائقہ چکھا ہوگا۔ سردیوں میں دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہوتی ہیں، اس طرح سردیوں میں روزے کا دورانیہ زیادہ سے زیادہ دس گیارہ گھنٹے کا ہوتا ہے اور اسے گزارنے میں زیادہ اہتمام نہیں کرنا پڑتا۔ شدید سردی اور دُھند کے موسم میں سورج بھی دس بجے سے پہلے اپنا چہرہ نہیں
دکھاتا۔ ملازم پیشہ لوگ جب اپنے دفتروں، کارخانوں اور ڈیوٹی کے مراکز سے واپس آتے ہیں تو روزہ بھی کھلنے کے قریب ہوتا ہے اور وہ کسی شور شرابے کے بغیر ایک کھجور اور چائے کے دو گھونٹ پی کر روزہ کھول لیتے ہیں، پکوڑے، سموسے، فروٹ چاٹ اور دیگر لوازمات کا اہتمام سردیوں میں بھی ہوتا ہے لیکن روزہ دار کی ساری توجہ خود کو گرم رکھنے پر مرکوز ہوتی ہے۔ وہ ٹھنڈا پانی پی لے تو ایسی کپکپی چڑھتی ہے کہ خدا کی پناہ۔ اصل مزا تو روزے کا گرمیوں میں ہے۔ پہاڑ سا دن کاٹے نہیں کٹتا۔ روزے کو بہلانے کے لیے بہت سے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ ہمیں یاد ہے کہ ساٹھ ستر سال پہلے بہت سے گھروں میں بجلی بھی نہیں ہوتی تھی، ہمارا گھر بھی بجلی سے محروم تھا، قیامت کی گرمی میں کھجور کے دستی پنکھے کام کرتے تھے، ہاں یاد آیا گھروں میں بالعموم ایک بڑے کمرے کی شہتیر میں دبیز کپڑے کا ایک بڑا سا پنکھا لٹکا ہوتا تھا جسے رسّی کی مدد سے کھینچ کر پورے کمرے کو ہوا فراہم کی جاتی تھی اور تمام اہل خانہ اس کمرے کے فرش پر آڑے ترچھے لیٹ کر اس ہوا کا لطف لیتے اور روزے کو بہلاتے تھے۔ افطار سے پہلے بازار سے برف لانا بھی ایک آزمائش سے کم نہ تھا۔ بازار کے بیچ میں برف کا ڈپو ہوتا تھا جہاں سے آنے دو آنے کی برف لینے کے لیے لمبی قطار میں لگنا پڑتا تھا۔ خیر اب تو زمانہ ہی بدل گیا ہے، گھروں میں بجلی کے پنکھے بلکہ اے سی لگے ہوئے ہیں اور فریج میں برف کے کارخانے کام کررہے ہیں، سحر و افطار کے وقت ہر طرح کی سہولت میسر ہے اور دستر خوان بھی نعمتوں سے بھرے ہوئے ہیں لیکن دلوں کو وہ راحت و سکون میسر نہیں جو ساٹھ ستر سال پہلے پایا جاتا تھا۔ جدید سہولتوں نے آدمی کو اور بے آرام کردیا ہے اس میں گرمی برداشت کرنے کا ذرا سا حوصلہ نہیں رہا۔ اِدھر بجلی گئی اور وہ ماہئی بے آب کی طرح تڑپنے لگا۔ فریج برف بنانا بند کردے تو اور قیامت ٹوٹ پڑتی ہے، کچن میں برقی آلات نے خاتون خانہ کو بھی سہل پسند بنادیا ہے، وہ کوئی کام ہاتھ سے کرنے کو تیار نہیں ہوتی، بس بٹن دبایا اور چٹنی سے مشروبات تک ساری چیزیں تیار۔ گرمیوں کے روزے میں روزہ دار کی جو آئو بھگت ہوتی ہے وہ کسی اور موسم میں کہاں! لیکن دوسرے موسموں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور اسلامی کیلنڈر مسلمانوں کو سب موسموں میں رمضان سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ بہت عرصہ پہلے تیونس کے صدر حبیب بورقیبہ نے یہ احمقانہ تجویز پیش کی تھی کہ گرمیوں میں رمضان کے روزے بہت سخت ہوتے ہیں اس لیے جنوری کا مہنیہ روزوں کے لیے مختص کرلیا جائے، لیکن ان کی اس تجویز کی اس شدت سے مخالفت ہوئی کہ ان کی گلوخلاصی مشکل ہوگئی تھی۔ یہ ایمانیات کا معاملہ تھا اور مسلمان اپنے ایمان میں کسی کو دخل اندازی کی اجازت دینے کے روادار نہ تھے۔ یاد آیا ہمارے فواد چودھری بھی قمری کیلنڈر بنانے کے چکر میں ہیں۔ کہیں وہ بھی رمضان کے روزے جنوری میں فکس نہ کردیں اور چاند دیکھنے کا ٹنٹا ہی ختم ہوجائے۔
بات لمبی ہوگئی۔ گرمیوں کے روزے بھی آخری دنوں پر ہیں، اس سال مئی کے پہلے ہفتے میں رمضان شروع ہوا ہے اگلے سال اپریل کے آخری ہفتے سے آغاز ہوگا، پھر چند سال بعد روزے پوری طرح سردیوں میں آجائیں گے اور جن لوگوں کے نصیب میں ہوگا وہ سردیوں میں بھی روزے کی بہار دیکھیں گے اور زندگی کا کارواں یوں ہی چلتا رہے گا۔