رمضان المبارک … گیارہواں سبق (درود شریف)

82

 

عتیق الرحمن خلیل

’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں۔ اے لوگو! جو ایمان لائے ہو تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو‘‘۔ (احزاب: 56)
ان الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ اے لوگو! جن کو محمدؐ رسول اللہ کی بدولت راہِ راست نصیب ہوئی ہے، تم ان کی قدر پہچانو اور ان کے احسانِ عظیم کا حق ادا کرو۔ تم جہالت کی تاریکیوں میں بھٹک رہے تھے، اس ہستی نے تمہیں علم کی روشنی دی۔ تم اخلاق کی پستیوں میں گرے ہوئے تھے، اس ہستی نے تمہیں اْٹھایا اور اس قابل بنایا کہ آج محسود خلائق بنے ہوئے ہو۔ تم وحشت اور حیوانیت میں مبتلا تھے، اس ہستی نے تم کو بہترین انسانی تہذیب سے آراستہ کیا۔ کفر کی دنیا اسی لیے اس ہستی سے ناراض ہے کہ آپؐ نے یہ احسانات تم پر کیے۔ ورنہ آپؐ نے کسی کے ساتھ ذاتی طور پر کوئی بْرائی نہ کی تھی۔ اس لیے اب تمہاری احسان شناسی کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ جتنا بغض وہ اس خیرِ مجسم کے خلاف رکھتے ہیں اسی قدر بلکہ اس سے زیادہ محبت تم آپؐ سے رکھو، جتنی وہ آپؐ سے نفرت کرتے ہیں اتنے ہی بلکہ اس سے زیادہ آپؐ اس کے گرویدہ ہو جائو، جتنی وہ آپ کی مذمت کرتے ہیں اتنی ہی بلکہ اس سے زیادہ تم اس کی تعریف کرو، جتنے وہ آپؐ کے بدخواہ ہیں اتنے ہی بلکہ اس زیادہ تم آپ کے خیر خواہ بنو اور آپؐ کے حق میں وہی دعا کرو جو اللہ کے فرشتے شب روز آپؐ کے لیے کررہے ہیں کہ اے ربِّ دوجہاں! جس طرح تیرے نبیؐ نے ہم پر بے پایاں احسانات فرمائے ہیں، تو بھی ان پر بے حد و بے حساب رحمت فرما، ان کا مرتبہ دْنیا میں بھی سب سے زیادہ بلند کر اور آخرت میں بھی انہیں تمام مقربین سے بڑھ کر تقرب عطا فرما۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاصؐ کی روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم موذن سے اذان سنو تو جو الفاظ وہ کہتا ہے وہی الفاظ تم بھی کہو۔ پھر مجھ پر درود بھیجو۔ جو مجھ پر درود بھیجتا ہے اللہ اس پر دس رحمتیں نازل کرتا ہے۔ پھر اللہ سے میرے لیے وسیلہ مانگو کیوںکہ وہ جنت کا ایک درجہ ہے جو اللہ کے بندوں میں صرف ایک بندے کو ملے گا اور مجھے امید ہے وہ میں ہی ہوں گا۔ جو اللہ سے میرے لیے وسیلے کی دعا کرے گا اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوجائے گی۔ (مسلم)
ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ ہر جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو۔ بے شک میری امت کا درود ہر جمعہ کے روز مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ اور میری امت میں سے جو مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجنے والا ہوگا وہ (قیامت کے روز) مقام و منزلت کے اعتبار سے میرے سب سے قریب ہوگا۔ (بیہقی)
ابو ہریرہؓ کی روایت میں ارشاد نبوی ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا۔ اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے میرا نام لیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔ (ترمذی)
نبی کریمؐ نے فرمایا۔ ’’مومن کے بخیل ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ اس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے‘‘۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سرور کائنات ؐ کا ذکر سننے کے بعد ان پر درود بھیجنا کتنا اہم اور ضروری ہے کہ آپؐ نے درود بھیجنے والے کو بخیل فرمایا۔ (بخاری)
اس وجہ سے بھی آپؐ پر درود بھیجنا ضروری ہے کہ آپؐ اس کائنات میں مومنین کے محسن اعظم ہیں۔ آپؐ کے امت پر بے شمار احسانات ہیں جن کا شمار کرنا ممکن نہیں۔ آپؐ کا سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اللہ نے ہم کو ایمان کی دولت سے نواز ا ہے۔ نیز آپؐ امت پر اتنے مہربان تھے کہ آپؐ کو ہر وقت امت کی فکر دامن گیر رہتی۔ ایک صحابی رسول فرماتے ہیں کہ میں جب بھی آپ کو دیکھتا تو آپؐ کسی فکر میں ڈوبے ہوتے اور ایسا لگتا کہ کوئی غم آپؐ پر طاری ہے۔ یہ فکر یہ غم نہ دنیا کا تھا، نہ مال و دولت کا، نہ اولاد کا بلکہ صرف اور صرف یہ غم تھا کہ امت کسی طرح جہنم کی آگ سے بچ جائے۔
ان احسانات کا تقاضا یہ ہے کہ جب ہمارے سامنے سرور کائناتؐ کا نام لیا جائے تو کم از کم ایک بار تو ضرور درود بھیج دیں۔ درود بھیجنا امت محمدیہ کے لیے اس لیے بھی ضروری ہے کہ خود اللہ اور اس کے فرشتے بھی نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں جیسے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجا کرو‘‘۔ (احزاب: 56) اس آیت میں اللہ کو درود بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنی رحمتیں نبیؐ پر بھیج رہے ہیں اور بندے کے درود بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ دعا کررہا ہے کہ اے اللہ! نبی پر درود بھیجیے۔
درود شریف کے ثواب سے متعلق نبیؐ کا یہ فرمان ہے کہ: ’’جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتے ہیں‘‘۔ اور ایک روایت میں ہے کہ دس گناہ معاف فرماتے ہیں اور دس درجات بلند فرماتے ہیں۔
ہمیں چاہیے کہ جب بھی ہمارے سامنے اللہ کے رسولؐ کا نام نامی لیا جائے تو آپؐ پر دل کی گہرائیوں سے پوری محبت کے ساتھ درود کا نذرانہ بھیج کر رب کی رحمتوں کے سمیٹنے کا سامان کریں۔