پاکستان اور جماعت اسلامی پاکستان (۱۹۴۷ء تا ۱۹۵۰ء) (باب ہفتم )

128

 

محمود عالم صدیقی

امیر جماعت مولانا مودودیؒ نے خود ان سب حالات کا جائزہ لیا۔ کیمپ کے کمانڈر سے رابطہ قائم کرکے انہیں جماعت کی خدمات پیش کی گئیں۔ رانااللہ دادخان صاحب نے کافی محنت اور توجہ سے کام سنبھالا۔ کیمپ کمانڈر نے جماعت کے کارکنان کی دیانت‘ امانت‘ محنت اور لگن سے متاثر ہوکر جلد ہی مکمل نظام جماعت کے حوالے کردیا اور سرکاری کارکنان کو بھی ہدایت کی گئی کہ وہ جماعت کے زیر ہدایت کام کریں۔ مولانا مودودیؒ نے والٹن کیمپ کی مکمل ذمہ داری چودھری علی احمد خان صاحب کے سپردکردی گئی۔چودھری علی احمد خان بطور سب انسپکٹر پولیس قلعہ پھلور‘ ضلع جالندھر میں ملازم تھے۔ لیکن جماعت کے اصولی مؤقف اور ہدایت کے مطابق انہوں نے انگریز کے کافرانہ نظام سے قطع تعلق کرتے ہوئے اس ملازمت سے استعفیٰ دے دیا اور جماعت اسلامی کے رکن بن گئے۔ پولیس ملازمت چھوڑ نے کے بعد انہوں نے پھلور میں ہی عین پولیس قلعہ کے سامنے‘جہاں وہ بطور انسٹر کٹر آفیسر تھے‘ ایک معمولی درجہ کا ہوٹل کھول کر دعوت اسلامی کا کام شروع کردیا تھا۔پھر جماعت نے انہیں جالندھر ڈویژن کاقیّم مقرر کیا۔ نظم وضبط اور محنت ان کی گھٹی میں رچی بسی تھی۔والٹن کا نظم سنبھالتے ہی انہوں نے کیمپ کے کارکنان اور نظام کو اس طرح منضبط کیا کہ لاپروا اور خودغرض سرکاری عملہ اور نام نہاد مسلم لیگی رضاکاروں کو یا تو سیدھا ہونا پڑا ‘یا پھر وہ کیمپ چھوڑ کر بھاگ گئے۔
چودھری علی احمد خان صاحب کے ہمراہ اس دور کے سینکڑوں جماعتی کارکن جوکہ اکثر بالکل نوعمر تھے‘ مہاجرین کی خدمات میں ہمہ تن مصروف تھے۔لاہورکے مکتبہ تعمیرانسانیت کے مالک شیخ قمر الدین صاحب‘چودھری صاحب کے نائب کی حیثیت سے کام کررہے تھے۔ سرگودھا‘ راولپنڈی‘سیالکوٹ‘ملتان اور گوجرانوالہ کے اکثر حضرات اسی کیمپ میں کام کرتے رہے۔جناب مولانا محمد علی مظفری صاحب‘جناب شیخ عبدالمالک صاحب ملتان‘ ان کے بھائی عبدالواحد صاحب اور بھتیجے شیخ محمد ایوب صاحب‘صوبہ سرحد کے رفقاء اور دیگر اضلاع کے حضرات غذا اور اشیائے ضرورت بھی مہیا کرتے رہے اور عملی خدمات بھی سرانجام دیتے رہے۔مرکز جماعت اسلامی کے تمام رفقاء بھی جن میں شیخ فقیرحسین صاحب‘جناب چودھری رحمت الٰہی صاحب اور دیگر حضرات شامل تھے‘باہر سے آنے والے رفقاء کے انتظام اور اشیاء ضروریہ پہنچانے میں ہمہ وقت مصروف تھے۔وہ ہر آنے والے رفیق سے پوچھتے تھے کہ آپ اس کیمپ میں کیا کام کرسکتے ہیں اور ہر رفیق کا یہی جواب ہوتا تھا کہ:’’ جو کام بھی سپرد کردیا جائے وہ کروں گا‘‘۔اب وہاں کام کی نوعیت دیکھیں:
۱) فوت شدگان کی میّتوں کو قبر کھدواکر یا خود کھود کر دفنانا۔ کئی ایام ایسے بھی آئے کہ ایک ایک دن میں سینکڑوں میّتوں کودفنانا پڑا۔جن میں کئی میتیں ہیضے ا ور دیگر وباؤں کی وجہ سے بدبو تک چھوڑ چکی تھیں۔جماعت کے اعلیٰ تعلیم یافتہ حضرات صرف خدا کی رضا کے لیے یہ ساری مشّقت اٹھارہے تھے۔
۲) کیمپ کی ہمہ وقتی صفائی۔ جہاں گندگی کے ڈھیر بھی ہوتے تھے‘ یہ کام آٹھ آٹھ یا دس دس حضرات کی ٹولیوں میں علاقہ وار تقسیم کرکے کیا جاتا تھا۔ہر ساتھی کو ایک ایک جھاڑو ‘ٹوکری اور بیلچہ دیاجاتا تھا۔ہرقسم کا کوڑا کرکٹ‘بول وبراز اور غلاظت وغیرہ کی صفائی کی جاتی تھی۔عموماً مہاجرین جب باریش اور بزرگ حضرات کو صاف ستھرے لباس میں یہ کام کرتے دیکھتے توخود ساتھ شامل ہوجاتے۔ چودھری علی احمد خان صاحب نے اس کام میں شیخ عبدالمالک صاحب کی کامیابی دیکھ کر انہیں کیمپ کا سینیٹری انسپکٹر بنادیا۔مہاجر بچے اورنوجوان بھی ہاتھ بٹانے لگے۔
(جاری ہے)