نئے صوبوں کا مطالبہ، بنیاد کیا ہے؟

129

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جنوبی صوبہ پنجاب بنانے کے لیے مسلم لیگ ن کی مدد طلب کی ہے تاکہ آئین میں ترمیم کے لیے پارلیمنٹ میں درکار اراکین کی تعداد کو پورا کیا جاسکے ۔ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ آئین میں ترمیم کے لیے دو تہائی اراکین کی حمایت ضروری ہے جو تحریک انصاف کے پاس نہیں ہے اس لیے اس میں مسلم لیگ ن بھی تعاون کرے ۔ جنوبی پنجاب ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کے لیے شدید دباؤ ہے جس پر حکومت کو پیش رفت کرنی چاہیے ۔ ایک طرف نئے صوبوں کے قیام کے لیے جدوجہد کرنے والے ہیں تو دوسری جانب اس کی مخالفت کرنے والے ۔ نئے صوبوں کے قیام کی حمایت اور مخالفت کرنے والوں میں ایک قدر مشترک ہے اور وہ ہے لسانیت ۔ نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ بھی لسانی بنیادوں پر کیا جارہا ہے اور اس کی مخالفت بھی اسی بنیاد پر کی جارہی ہے ۔ اس وقت ملک میں دو صوبوں ہزارہ اور جنوبی پنجاب کے قیام کی تحاریک پرجوش ہیں جبکہ سندھ میں شہری سندھ کے قیام کی تحریک صرف زبانی کلامی حد تک ہے ۔ لسانی بنیادوں پر صوبوں کا قیام انتہائی خوفناک ہے جو ملک کی تقسیم کی طرف بھی جاسکتا ہے ۔ نئی تحصیلوں ، اضلاع اور صوبوں کے قیام سے کسی کو انکار نہیں ہے تاہم اس کا قیام انتظامی بنیادوں پر ہونا چاہیے ۔صوبوں کے قیام کے لیے یہ تاویل اہم ہے کہ اس سے صوبائی حکومت کا انتظامی کنٹرول مضبوط ہوگا اور صوبائی معاملات کو زیادہ بہتر طور پر چلایا جاسکے گا ۔ اس کی مخالفت میں دی گئی دلیل بھی اتنی ہی اہم ہے کہ جتنے زیادہ صوبے ہوں گے ، اتنے ہی اخراجات میں اضافہ ہوگا جس کا ملک متحمل نہیں ہوسکتا ۔ بہتر ہوگا کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے کوئی اصولی فیصلہ کرلیا جائے کہ کتنی بڑی آبادی یا کتنے بڑے رقبے پر مشتمل ایک صوبہ ہونا چاہیے اور اس اصول کے تحت پورے ملک میں نئے صوبوں کا قیام عمل میں لے آیا جائے ۔ ملک میں نفرت کی ایک بڑی وجہ لسانی اکائیاں ہی ہیں۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں بڑا کردار پنجاب کے خلاف نفرت کا پرچاربھی تھا ۔ جنوبی پنجاب کے صوبہ کا محرک بھی سرائیکی زبان ہے۔ اسی طرح خیبر پختون خوا میں بھی ہزارہ صوبے کا محرک ہندکو زبان ہے ۔ بہتر ہوگا کہ اس ضمن میں تمام پارٹیاں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں اور اس میں مشترک فیصلے کیے جائیں ۔ یہاں پر انتظامی فیصلوں کی بات ہورہی ہے جس سے اس علاقے میں رہنے والے لوگوں ہی کو فائدہ پہنچے گا۔ چند لوگ محض اپنی لیڈری چمکانے کے لیے لسانی بنیادوں پر نعرے بلند کرتے ہیں جس کے باعث ملک میں نفرت بھی پھیلتی ہے اور بعض اوقات خون خرابے کی بھی نوبت آجاتی ہے ۔ جیسے ہی سندھ میں نئے صوبے کی بات کی جائے تو جذباتی نعرے بلند کیے جاتے ہیں کہ سندھ دھرتی ہماری ماں ہے ، اس کی تقسیم کسی صورت میں نہیں ہونے دیں گے ۔ جب سندھ کے موجودہ اضلاع میں سے نئے اضلاع تشکیل دیے جاسکتے ہیں اور اس سے سندھ دھرتی کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا تو پھر نئے انتظامی صوبوں کی تشکیل سے سندھ دھرتی کو کیسے نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ جو بھی پارٹی ملک میں برسراقتدار آتی ہے ، وہ بس چلاؤ کام کرتی ہے ، اپنا کمیشن وصول کرتی ہے اور رخصت ہوجاتی ہے ۔ ابھی تک ایسا محسوس نہیں ہوا کہ کوئی پارٹی ملک کے بہتر انتظام و انصرام سے بھی کوئی دلچسپی رکھتی ہو ۔ موجودہ صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور انتظامیہ اگر اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی ادا کریں تو پھر کسی کو محرومی کی شکایت نہیں رہے گی ۔ جنوبی پنجاب کے لوگوں کو یہی تو شکایت ہے کہ وسطی پنجاب کے مقابلے میں ان کے علاقے میں کم ترقیاتی فنڈز فراہم کیے گئے ہیں ۔ وسطی پنجاب ، خاص طور سے لاہور پر ہی حکومت پنجاب کی توجہ مرتکز رہتی ہے ۔ سندھ کی تو حالت ہی سوا ہے ۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت نے نہ لاڑکانہ، نوابشاہ اور سکھر جیسے علاقوں میں کوئی ترقیاتی کام کروائے اور نہ ہی حیدرآباد اور کراچی میں ۔ سارے کا سارا ترقیاتی بجٹ بھاپ بن کر ارباب اقتدار کے بینک کھاتوں اور بیرون ملک اثاثوں میں جمع ہوگیا ہے ۔ یہ صورتحال عوام کے اندر بے چینی کو جنم دیتی ہے جس کا حل وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا صوبہ الگ ہوگا تو ان کے حقوق بہتر طور پر حاصل ہوسکیں گے ۔ اب جبکہ جنوبی پنجاب کے صوبے کے لیے آئینی ترمیم کی جارہی ہے اور اس کے لیے ارکان پارلیمنٹ کے اعداد بھی پورے کیے جارہے ہیں تو بہتر ہوگا کہ سارے معاملات ایک ساتھ ہی حل کرلیے جائیں ۔ اس پر پہلے سے کام کرلیا جائے کہ بہترین انتظام و انصرام کے لیے مزید کتنے صوبوں کی اور کہاں پر ضرورت ہے ۔ اس لحاظ سے ایک ہی تحریک پیش کی جائے تاکہ مستقبل میں مزید مشکلات نہ پیدا ہوں۔ اگر فنڈز کی قلت کا سامنا ہے تو فیصلے کرکے ٹائم فریم مقرر کرلیا جائے کہ آئندہ پانچ برسوں میں کون سے نئے صوبے ازخود وجود میں آجائیں گے اور دس برسوںمیں کون سے ۔ بہتر ہوگا کہ وزرائے اعلیٰ اپنے صوبوں کے تمام ہی علاقہ جات کے ساتھ یکساں سلوک کریں تاکہ اس طرح کے مطالبات ہی جنم نہ لیں ۔ صوبوں کو ایک انتظامی مسئلے کے طور پر دیکھیں تو مسائل حل کرنا زیادہ آسان ہوگا ۔