عمرانی حکومت، اک ستم روز

134

ملک روز ایک نئی انارکی کی زد میں ہوتا ہے ۔ حکومت اعلان کرتی ہے کہ دہشت گردی کی اجازت نہیں دی جائے گی اور دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ دوسری جانب دہشت گرد اجازت لینے کی زحمت ہی نہیں کرتے اس طرح حکومت کی اجازت کے بغیر دہشت گردی جاری رہتی ہے ۔ حکومت اعلان کرکے بیٹھ جاتی ہے کہ اس کا فرض پورا ہوگیا تو دوسری جانب دہشت گرد اپنا کام جاری رکھتے ہیں اور یوں عوام بیچارگی کی تصویر بنے دہشت گردی کا شکار ہوتے رہتے ہیں اور حکومت سے توقع کرتے رہتے ہیں کہ اب تو آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے اعلان پر عمل کیا جائے ۔ کچھ یہی صورتحال ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری کی ہے ۔ ڈالر پاکستانی روپے کے ساتھ شرح تبادلہ میں روز ایک نیا ریکارڈ قائم کررہا ہے اور حکومت کی جانب سے اعلانات جاری ہیں کہ طے شدہ کرنسی ریٹ سے انحراف کرنے والی ایکسچینج کمپنیوں کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی ۔ جب انٹر بینک میں ڈالر کی شرح تبادلہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہے تو پھر کھلی مارکیٹ میں ڈالر کی یہ دہشت گردی کیوں ہے ۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ حکومت اس پر کوئی کنٹرول چاہتی ہی نہیں ہے ۔ یہ سب کچھ حکومت کی جانب سے دی جانے والی چھوٹ کی بناء پر ہورہا ہے کہ منی چینجرلمحوں کے لحاظ سے ڈالر کی قدر بڑھا رہے ہیںاور حکومت کی کارگزاری محض دھمکیوں تک محدود ہے ۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری کا جو نتیجہ نکلے گا وہ سب کے سامنے ہے ۔ محض نو ماہ کی مدت میں عمران خان ایک ڈالر کے مقابلے میں روپے کو ایک سو روپے سے ڈیڑھ سوروپے تک لے آئے ہیں اور کہتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا ۔ سرکاری اقدامات کے نتیجے میں ملک کی صنعتیں دم توڑ چکی ہیں اور زراعت بھی جاں بلب ہے ۔ سرکار اسی بات پر خوش ہے کہ درآمدی بل کم ہورہا ہے ۔ درآمدی بل ا س بناء پر کم نہیں ہورہا ہے کہ اس کے متبادل پاکستان میں بننے شروع ہوگئے ہیں بلکہ درآمدی بل اس لیے کم ہورہا ہے کہ اب لوگوں کی استطاعت ہی جواب دیتی جارہی ہے یعنی عمرانی حکومت نے لوگوں کی قوت خرید ہی ختم کرکے رکھ دی جس پر خوش ہونے کے بجائے تشویش کا اظہار کرنا چاہیے ۔ صنعت بند ہونے اور ترقیاتی کام ختم ہونے سے بے روزگاری کی شرح بڑھ رہی ہے ۔ پاکستان میں تعمیراتی صنعت تھی جو فروغ پذیر تھی ، سرکاری اقدامات کے نتیجے میں اب وہ بھی منجمد ہوکر رہ گئی ہے ۔ سرکار بتائے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کا مقابلہ عوام کس طرح سے کرپائیں گے ۔ ارکان اسمبلی تو اپنی تنخواہ میں کئی گنا اضافہ ازخود کرلیتے ہیں مگر نجی شعبے میں کام کرنے والے کیا کریں گے ۔ نجی شعبہ کا تو یہ حال ہے کہ کئی اداروں میں کارکنوں کو کئی کئی ماہ سے تنخواہوں کی ادائیگی ہی نہیں کی جارہی ہے ۔ بہتر ہوگا کہ سرکار ڈالر کی شرح تبادلہ کو فوری طور پر منجمد کرے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوںکو کڑی سزا دی جائے تاکہ ملک میں بڑھتے ہوئے افراط زر کو کہیں پر تو بریک لگے ۔