قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ ﷺ

112

 

تیر ا رب جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے وہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور انہیں دیکھ رہا ہے ۔ اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی در حقیقت اْن کا قتل ایک بڑی خطا ہے ۔ زنا کے قریب نہ پھٹکو وہ بہت برا فعل ہے اور بڑا ہی برا راستہ ۔ قتل نفس کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور جو شخص مظلومانہ قتل کیا گیا ہو اس کے ولی کو ہم نے قصاص کے مطالبے کا حق عطا کیا ہے، پس چاہیے کہ وہ قتل میں حد سے نہ گزرے، اْس کی مدد کی جائے گی ۔ مال یتیم کے پاس نہ پھٹکو مگر احسن طریقے سے، یہاں تک کہ وہ اپنے شباب کو پہنچ جائے عہد کی پابندی کرو، بے شک عہد کے بارے میں تم کو جواب دہی کرنی ہوگی ۔ (سورۃ بنی اسرائیل: 30تا 34)

سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ آپ ؐ کے اہتمام رمضان کو نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’جب رمضان کا مہینہ آتا تو آپ ؐ ہر قیدی کو چھوڑ دیتے اور ہر سائل کے سوال کو پورا فرماتے۔‘‘ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ نبی کریم ؐ رمضان المبارک میں ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوجاتے، یعنی جیسے ہوا ہر ایک کو فیض پہنچاتی ہے، اسی طرح آپ ؐ کی جود و سخاوت سے بھی ہر ایک مستفید ہوتا۔ (مشکوٰۃ)
نبی کریم ؐ نے فرمایا: ’’جس نے کسی روزے دار کا روزہ کھلوایا،تو اس کو بھی روزے دار کی مثل اجر ملے گا،بغیر اس کے کہ اللہ روزے دار کے اجر میں کوئی کمی کرے‘‘۔ (ترمذی)ایک دوسری حدیث میں فرمایا:’’جس نے کسی روزے دار کا روزہ کھلوایا یا کسی مجاہد کوتیار کیا (سامان حرب دے کر) تو اس کے لیے بھی اس کی مثل اجر ہے‘‘۔ (صحیح الترغیب)