سعودی عرب اور امارات کو اسلحہ بیچنا مجبوری ہے،فرانس

105

فرانس کی خاتون وزیردفاع فلورینس پارلی نے کہا ہے کہ ان کا ملک سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کو اسلحہ کی فروخت جاری رکھے گا پیرس ان دونوں ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔انہوں نے متنازع اسلحہ ڈیل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پیرس اس ڈیل سے بے نیازنہیں رہ سکتا۔ فرانس کو اپنی دفاعی صنعت کے دوام اور تسلسل کے لیے اس طرح کے معاہدے کرنا پڑیں گے۔مسز پارلی کا کہنا تھا کہ میں یہ نہیں کہتی کہ اقتصادی دلائل کوئی بڑا فیصلہ کرنے کا جوازفراہم نہیں کرتے۔ واضح رہے کہ یمن میں جاری جنگ کے دوران دونوں ممالک کو اسلحہ فراہم کرنے پر فرانس، جرمنی اور امریکا سمیت کئی ممالک کو انسانی حقوق تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ یہ تنظیمیں دونوں ممالک کو اسلحہ کی فروخت بند کرنے کا مطالبہ کررہی ہیں۔ تاہم اس مطالبے پر کوئی ملک کان نہیں دھر رہا۔ فرانسیسی حکومت کا یہ فیصلہ بھی اس مطالبے کو نظرانداز کرنے کی تازہ مثال ہے۔ دوسری جانب یمن کے دارالحکومت صنعا پر بم باری میں 4بچوں اور خاتون سمیت کم از کم 8افراد شہید اور 52زخمی ہوگئے۔ خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران نواز حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر ڈرون حملوں کے تناظر میں جمعرات کے روز سعودی عرب کی سربراہی میں قائم عسکری اتحاد نے صنعا میں کئی مقامات پر بم باری کی۔ مقامی رہایشیوں نے رائٹرز کو بتایا کہ جنگی طیاروں نے صنعا میں 9 عسکری اہداف کو نشانہ بنایا۔ تاہم اس دوران کئی مکان بھی تباہ ہوگئے۔ حوثیوں کے مسیرہ ٹی وی نے حملے میں 8شہریوں کے مارے جانے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں ایک ہی گھرانے کے 4 بچے اور خاتون بھی شامل ہیں۔ جب کہ 52 زخمیوں میں 2 روسی خواتین طبی کارکن بھی شامل ہیں۔ حملوں کے بعد ہر طرف تباہی پھیل گئی، جب کہ لوگ ملبے سے لاشیں اور زخمی نکالتے رہے۔ دوسری جانب سعودی اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ حوثیوں نے صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو ایک فوجی بیرک اور ڈرون طیاروں کی اڑان بھرنے کے مقام میں تبدیل کر دیا، تا کہ دہشت گرد کارروائیوں پر عمل کیا جا سکے۔