بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت ماننے کا امریکی فیصلہ عالمی عدالت میں چیلنج

85

دی ہیگ (انٹرنیشنل ڈیسک) فلسطینی حکومت نے امریکا کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ دی ہیگ میں قائم عالمی عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق فلسطینی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بیت المقدس کو صہیونی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کا امریکی فیصلہ اشتعال انگیز اقدام، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی توہین ہے۔ خیال رہے کہ امریکا نے 14 مئی 2018ء کواسرائیل میں قائم امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے ساتھ شہر کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیا تھا۔ اس کے اس فیصلے پرعالمی سطح پرشدید رد عمل سامنے آیا۔ فلسطینی عوام اور حکومت دونوں نے امریکی فیصلے کو یک طرفہ اور اشتعال انگیز قراردے کر مسترد کردیا تھا۔فلسطینی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس 29 ستمبر کو فلسطین نے ہیگ میں بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے امریکی فیصلے کے خلاف درخواست دی تھی۔ اس درخواست میں امریکا کو فریق بنایا گیا ہے۔ 15 مئی سے 15 نومبر 2019ء تک امریکا فلسطینی درخواست کے خلاف عالمی عدالت جواب دعویٰ پیش کرے گا۔فلسطینیوں کی طرف سے عالمی عدالت انصاف میں امریکی فیصلے کوچیلنج کرنے کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب فلسطینی اپنے ملک پر اسرائیلی ریاست کے قیام اور یہود کے غاصبانہ قبضے کی اکہترویں برسی منا رہے ہیں۔ 15 مئی کوفلسطین بھر میں یوم النکبہ کے حوالے سے ریلیاں نکالی گئیں اور جلسے جلوس منعقد کیے گئے۔