آسڑیا کے پرائمری اسکولوں میں اسکارف پر پابندی

52

ویانا (انٹرنیشنل ڈیسک) آسٹریا کی پارلیمان نے حکومتی پارٹی کی جانب سے پرائمری اسکولوں میں حجاب پر پابندی کا بل منظور کر لیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق پرائمری اسکولوں میں ایسے تمام مذہبی اور علامتی لباس پہننے پر پابندی ہو گی، جن سے سر مکمل یا جزوی طور پر ڈھانپا جاتا سکے۔ حکومت نے اس معاملے میں دوغلی پالیسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ یہودیوں کے ’’کپا‘‘ اور سکھوں کی روایتی پگڑی کو نئے قانون میں استثناحاصل ہو گا۔ پارلیمان میں ہونے والی ووٹنگ میں حکمراں قدامت پسند جماعت ’’او وی پی ‘‘اور عوامیت پسندوں نے قانون کے حق میں، جب کہ حزب اختلاف نے مخالفت میں ووٹ دیے۔ ماہرین کے مطابق قانون کے خلاف عدالت سے رجوع ضرور کیا جائے گا۔ ویانا حکومت نے مسلمانوں کے خلاف بغض نکالتے ہوئے کہا کہ نیا قانون خاص طور پر مسلمان بچیوں کے اسکارف پہننے کے لیے ہے۔ ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ متنازع قانون منظور تو کر لیا گیا ہے، لیکن اس کی حیثیت ملکی آئین جیسی نہیں ہو گی، کیوں کہ اسے پارلیمانی ارکان کی دو تہائی اکثریت سے کم حمایت کے ساتھ منظور کیا گیا ہے۔ آسٹریا میں مسلمانوں کی مرکزی تنظیم اسلامک فیڈریشن آف آسٹریا نے قانونی مسودے کی منظوری کے بعد اپناردعمل دیتے ہوئے قانون سازی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔تنظیم نے اسلام مخالف کوششوں کو شرمناک حرکت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پرائمری اسکول میں پڑھنے والی بچیوں کو نشانہ بنارہی ہے۔اپوزیشن نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ ابلاغی ذرائع کی شہ سرخیوں میں جگہ بنانے کے لیے معصوم بچوں کو متاثر کر رہی ہیں۔ ویانا میں مخلوط حکومتی جماعت فریڈم پارٹی کے تعلیم سے متعلقہ امور کے ترجمان موئلسر نے مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ پرائمری اسکولوں میں ہیڈ اسکارف کے استعمال پر پابندی کا مقصد ’’سیاسی اسلام‘‘ کے خلاف اشارہ دینا تھا۔