ڈالر 147 کا ہوگیا ،ادویات کی قیمتیں کم کرانے میں بھی ناکامی

95

کراچی /اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر +مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت ڈالر کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہو گئی،انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر 5 روپے 61 پیسے مہنگا ہونے کے بعد 147تک پہنچ گیا جبکہ ادویات کی قیمتوں میں کمی کے حکومتی دعوے دھرے رہ گئے، مشیر صحت کا کہنا ہے کہ ادویات کی قیمتیں مزید نہیں بڑھنے دینگے اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی میں اصلاحات کی جائیں گی ملک میں سستی ادویات کی تیاری کے عمل کو شروع کیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کے روز انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر 5 روپے 13 پیسے اضافے سے 146.52 روپے پہنچ گیا۔ انٹر بینک میں کاروبار کا آغاز ہوا تو امریکی ڈالر 141 روپے 39 پیسے کا تھا جس کی قدر میں دیکھتے ہی دیکھتے اضافہ ہوا اور 5 روپے 61 پیسے مہنگا ہونے کے بعد 147 تک پہنچ گیا لیکن کاروبار کے اختتام پر ڈالر مجموعی طور پر 5.13 روپے اضافے کے بعد 146.52 پر بند ہوا۔اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت خرید 146 اور قیمت فروخت 148 ہے۔ڈالر کی نئی اڑان کے بعد پاکستان کے بیرونی قرضوں میں 666 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا۔ روپے کی قدر گرنے سے پہلے پاکستان کے 105 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں اور واجبات کا حجم پاکستانی روپوں میں 14 ہزار 891 ارب روپے تھا جو بڑھ کر 15 ہزار 558 ارب روپے ہوگیا۔پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل آٹھویں ہفتے کمی ہوئی ہے۔اس ہفتے زرمبادلہ کے ذخائر میں 7 کروڑ 82 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق 7 کروڑ 82 لاکھ ڈالر کمی کے بعد پاکستان کے پاس غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 15 ارب 89 کروڑ ڈالر رہ گئے ہیں۔اسٹیٹ بینک کے ذخائر 13 کروڑ 85 لاکھ ڈالر کم ہوکر 8 ارب 84 کروڑ ڈالر رہ گئے ہیں۔روپے کی قدر کم ہونے پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی منفی رجحان ہے جہاں 100 انڈیکس 656 پوائنٹس کمی سے 33 ہزار 635 کی سطح پر آگیا۔گزشتہ روز اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 146 روپے سے تجاوز ہوئی تو وزیراعظم عمران خان نے اس کا نوٹس لیا اور اسٹیٹ بینک، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایکسچینج کمپنیز کے وفد سے ملاقات میں روپے کی قدر گرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے اس موقع پر زاید قیمت پر ڈالر فروخت کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی بھی ہدایت کی لیکن آج ایک مرتبہ پھر ڈالر کی قیمت کو پر لگ گئے ہیں۔واضح رہے کہ حکومت اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان معاہدے سے قبل ڈالر کی قدر 141 سے 142 روپے کے درمیان تھی اور آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد ڈالر کی قدر میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 464 ادویات کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے باہر چلی گئی ہیں اور اس حوالے سے وزیراعظم نے ادویات کی قیمتیں واپس اپنی اصل حالت میں لانے کا حکم دیا تھا۔ ادویات کی قیمتیں پاکستان میں ایک بہت بڑا مسئلہ رہی ہیں، 464 دوائیوں کی قیمتوں سے متعلق عوام میں بہت بے چینی پائی گئیاس صورتحال میں وزیراعظم نے حکم جاری کیا کہ 72 گھنٹے میں قیمتیں واپس اپنی اصل حالت میں لائی جائیں، یہ وہ دن تھے جب مجھے معاون خصوصی کی ذمے داری سونپی گئی۔مشیر صحت نے کہا کہ ہم نے جائزہ لینے کے بعد کچھ تجاویز کابینہ کے سامنے رکھیں، ہمارا پہلا فیصلہ جس کی کابینہ نے توثیق کی وہ یہ تھا کہ 464 میں سے جن ادویات کی قیمتیں 75 فیصد سے زیادہ بڑھائی گئی ان کو واپس 75 فیصد پر لایا جائے جبکہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی میں اصلاحات کی جائیں گی ملک میں سستی ادویات کی تیاری کے عمل کو شروع کیا جائے گا، لاہور اور کراچی کی فارما انڈسڑی کے مالکان سے ملاقات کی جائے گی۔ ادھروفاقی مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے حکومت کی 3 بڑی ترجیحات ہیں جن میں عوام کی بنیادی ضروریات کا پورا کرنے کے ساتھ اخراجات میں کمی اور ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کرنا شامل ہیں۔آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے بعد عالمی بینک اور اے ڈی بی سے 2سے 3ارب ڈالر ملنے کی توقع ہے۔بجلی کی قیمتوں میںمزید اضافہ کیا جائے گا تاہم 300یونٹس سے کم کھپت والے صارفین پر اس کا اثر نہیں ہوگا۔ان خیالا ت کا اظہار انہوںنے جمعرات کو گورنر ہاؤس سندھ میں تاجروں سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ تاجروں سے بجٹ کے معاملے میں بات چیت کی ہے۔ جب حکومت آئی تو ملکی قرض 31 ہزار ارب روپے اور بیرونی قرض 97 ارب ڈالر تھا۔ زرمبادلہ کے ذخائر بہت کم سطح پر آگئے تھے جبکہ تجارتی خسارہ زائد تھا۔ انہوںنے کہا کہ ان حالات میں آئی ایم ایف معاہدے سمیت مختلف اقدامات کیے اس کے علاوہ عالمی بنک اور اے ڈی بی سے 2 سے 3 ارب ڈالر ملنے کی توقع ہے۔ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ ملک میں شرح نمو کم اور مہنگائی بڑھ رہی تھی۔ خسارہ کم کرنے کیلیے بیرون ملک پیغام دے رہے ہیں۔ بجلی کی قیمتوں میںمزید اضافہ کیا جائے گا تاہم 300یونٹس سے کم کھپت والے صارفین پر اس کا اثر نہیں ہوگا۔اس مقصد کے لیے 216 ارب روپے رکھے جارہے ہیں۔مشیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس ایمنسٹی میں بے نامی آمدن یا اثاثے رکھنے والوں کے لیے متعارف کرائی گئی ہے۔ا اس اسکیم سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوںگے۔آئندہ ترقیاتی بجٹ بڑھا کر 700 سے 800 ارب روپے تک کیا جارہا ہے۔جو معاشی صورتحال حکومت کو ورثے میں ملی وہ کافی ابتر تھی تاہم ہم نے اس کی بہتری کے لیے اقدامات کیے ہیں۔انہی اقدامات کی وجہ سے تجارتی خسارے کمی واقع ہوئی ہے اور زرمبادلہ پر دبائو کم ہوا ہے۔ انہوںنے کہا کہ کمزور طبقہ کی معاونت کے لیے تمام اسکیموں کو ملا کر احساس پروگرام بنایا گیا ہے۔معاشی صورتحال بہتری کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔حکومت نے گورننس بہتر کی ہے۔اس حکومت پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں ہے۔آئندہ بجٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں حکومت کی تین بڑی ترجیحات ہیں ،جن میںعوام کی بنیادی ضروریات کا پورا کرنے کے ساتھ اخراجات میں کمی اور ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کرنا شامل ہیں۔قرضوں کا بوجھ عوام پر کم سے کم رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔روپے کی قدر میں کمی کے حوالے سے مشیر خزانہ نے کہا کہ زرمبادلہ کی قدر کو مستحکم رکھنا اسٹیٹ بینک کی زمہ داری ہے۔لوگ جانتے ہیں حکومت کی نیت کیا ہے۔رضا باقر دنیا کے مانے ہوئے ماہر معاشیات ہیں۔شبر زیدی ٹیکس امور میں ماہر ہیں انہیں بااختیار بنایا گیا۔