ایران نے جوہری معاہدے پر عمل روک دیا، فوج بھیجنے کی امریکی تردید

43

 

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران نے 2015ء کے جوہری معاہدے کی کچھ شرائط پر عمل باضابطہ طور پر روک دیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادرے اسنا کے مطابق ایران کی ایٹمی توانائی کی تنظیم کے ایک باخبر عہدے دار نے بتایا کہ حکومت نے اپنی قومی سلامتی کونسل کے کہنے پر یہ قدم اٹھایا ہے۔ گزشتہ ہفتے ہی ایران نے اس بارے میں چین، فرانس، جرمنی، روس اور برطانیہ کو آگاہ کر دیا تھا۔ اس طرح ایران اب اپنی مرضی کے مطابق افزودہ یورینیم اور بھاری پانی کے اپنے ذخائر میں اضافہ کر سکتا ہے۔ تہران حکومت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ اس جوہری معاہدے کی بنیادی شرائط کا احترام جاری رکھے گی۔ دوسری جانب امریکا نے عراق میں تعینات اپنے غیرہنگامی سفارتی عملے اور سرکاری اہل اروں کو وہاں سے نکلنے کا حکم دے دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی حکومت نے یہ حکم عراق میں سرگرم ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں سے امریکی شہریوں کو لاحق خطرات کے پیش نظر دیا ہے۔ بغداد میں واقع امریکی سفارت خانے نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ سفارت خانے اور اربیل میں واقع قونصل خانے کے ملازمین کو محکمہ خارجہ نے عراق سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔ ادھر ایرانی رہبراعلیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ ایران کی کوئی جنگ نہیں ہونے جارہی ہے۔ایرانی سپریم لیڈر کی ویب سائٹ کے مطابق انہوں نے منگل کے روز ایک تقریر میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان آمنا سامنا کسی فوجی مڈ بھیڑ کے بجائے دراصل عزم کا امتحان ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ ان کی حکومت ایران سے لاحق خطرات کے پیش نظر ایک لاکھ 20 ہزار فوجی اہل کار مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔